مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
222. حَدِيثُ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى عَلَى بَغْلَةٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ" , قَالَ: وَرَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بَيْنَ يَدَيْهِ يُعَبِّرُ عَنْهُ , قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى أَدْخَلْتُ يَدِي بَيْنَ قَدَمِهِ وَشِرَاكِهِ , قَالَ: فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مِنْ بَرَدِهَا.
حضڑت عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اپنے خچر پر سوار ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت آپ نے سرخ رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بدری صحابی تھے جو آگے تک آواز پہنچا رہے تھے میں چلتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں اور جوتے کے تسمے کے درمیان ہاتھ داخل کئے مجھے ان کی ٹھنڈک سے تعجب ہوا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15920]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
حدیث نمبر: 15921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اپنے سفید خچر پر سوار ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے سیدنا علی آگے تک آواز پہنچا رہے تھے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15921]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الشيخ من بني فزارة
223. حَدِيثُ أَبِي الْمُعَلَّى رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا، فَقَالَ:" إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ فِيهَا، يَأْكُلُ مِنَ الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ" , قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ أَنْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا أَوْ بِآبَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
حضڑت ابومعلی سے مروی ہے کہ ایک دن نبی نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص کو اللہ نے اس بات میں اختیار دے دیا ہے کہ جب تک چاہے دنیا میں رہے اور جو چاہے کھائے یا اپنے رب کی ملاقات کے لئے آ جائے اس نے اپنے رب سے ملنے کو ترجیح دی یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر رونے لگے صحابہ کرام کہنے لگے ان بڑے میاں کو تو دیکھو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک آدمی کا ذکر کیا جسے اللہ نے دنیا اور اپنی ملاقات کے درمیان اختیار دیا اور اس نے اپنے رب سے ملاقات کو ترجیح دی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی حقیقت کو ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے سیدنا ابوبکر تھے سیدنا ابوبکر کہنے لگے کہ ہم اپنے مال دولت بیٹوں اور آباء اجداد کو آپ کے بدلے میں پیش کرنے کے لئے تیار ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں اپنی رفاقت اور اپنی مملوکہ چیزوں میں مجھ پر ابن ابی قحاف سے زیادہ کسی کے احسانات نہیں ہیں اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابن ابی قحافہ کو بناتا لیکن یہاں ایمانی اخوت مودت ہی کافی ہے یہ جملہ دو مرتبہ ارشاد فرمایا: اور تمہارا پیغمبر خود اللہ کا خلیل ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15922]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة ابن أبى المعلي
224. حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ يَزيدَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ، هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ:" لَا" , قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا؟ قَالَ:" الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ، فَيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا".
سیدنا سلمہ بن یزید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بھائی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری والدہ ملیکہ صلہ رحمی کر تی تھیں مہمان نوازی کر تی تھیں اور فلاں فلاں نیکی کے کام کر تی تھیں ان کا انتقال ہو گیا ہے زمانہ جاہلیت میں کیا یہ سب کام ان کے لئے نفع بخش ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہم نے پوچھا کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کیا تھا اس کا بھی ان کے ساتھ تعلق ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ درگور کرنے والی اور ہو نے والی دونوں جہنم میں ہوں گی الاّ یہ کہ زندہ درگور ہو نے والی اسلام کو پالے اور اللہ اس سے درگزر فرمائے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15923]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
225. حَدِيثُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا".
سیدنا عاصم بن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا حفصہ کو طلاق دیدی تھی لیکن بعد میں رجوع کر لیا تھا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15924]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، عاصم بن عمر لم يسمع من النبى صلى الله عليه وسلم
226. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15925
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى هو بْنِ الطَّبَّاعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:" يَا ابْنَ آدَمَ، قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ، وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلْ إِلَيْكَ".
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ فرماتے ہیں اے ابن آدم تو میری طرف اٹھ کر دیکھ میں تیری طرف چل کر آؤں گا اور میری طرف چل کر دیکھ میں تیری طرف دوڑ کر آؤں گا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15925]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
227. حَدِيثُ جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ كَاشِفٌ عَنْ فَخِذِهِ، فَقَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ".
سیدنا جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15926]
الحكم على الحديث:
حسن لشواهده، وهذا إسناد ضعيف، وهو مضطرب جداً
حدیث نمبر: 15927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَرْهَدًا فِي الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ بُرْدَةٌ قَدْ انْكَشَفَ فَخِذُهُ، فَقَالَ:" الْفَخِذُ عَوْرَةٌ".
سیدنا جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15927]
الحكم على الحديث:
حسن لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، وإرساله مع وهم فى اسم أحد رواته
حدیث نمبر: 15928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي آلُ جَرْهَدٍ ، عَنْ جَرْهَدٍ ، قَالَ:" الْفَخِذُ عَوْرَةٌ".
سیدنا جرہد سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15928]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده ، وهذا إسناد مضطرب، ولابهام آل جرهد
حدیث نمبر: 15929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ ابْنِ جَرْهَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا كَاشِفٌ فَخِذِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَطِّهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ".
سیدنا جرید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنی ران کھولے بیٹھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ڈھانپ لو کیونکہ ران ستر ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15929]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد مضطرب، وابن جرهد إن يكن عبدالله أو عبدالرحمن فكلاهما مجهول، وإن يكن زرعة ابن عبدالرحمن بن جرهد فثقة