مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
207. حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ أَبِي الْأَحْوَصِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِيفُ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مَالٌ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" فَمَا مَالُكَ؟" , فَقَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ، مِنَ الْخَيْلِ , وَالْإِبِلِ , وَالرَّقِيقِ , وَالْغَنَمِ , قَالَ:" فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ" , فَقَالَ:" هَلْ تُنْتِجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى، فَتَقْطَعُهَا أَوْ تَقْطَعُهَا، وَتَقُولُ: هَذِهِ بُحُرٌ، وَتَشُقُّ جُلُودَهَا، وَتَقُولُ: هَذِهِ صُرُمٌ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" كُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ حِلٌّ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ"، وَرُبَّمَا قَالَهَا، وَرُبَّمَا لَمْ يَقُلْهَا، وَرُبَّمَا قَالَ:" سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي، ثُمَّ نَزَلَ بِي، أَقْرِهِ، أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ؟ قَالَ:" بَلْ اقْرِهِ".
سیدنا مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال دیکھا تو پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہاری قوم میں کسی کے پاس یہاں اونٹ پیدا ہوتا ہے اس کے کان صحیح سالم ہوتے ہیں اور تم استرا پکڑ کر اس کے کان کاٹ دیتے ہواور کہتے ہو کہ یہ بحر ہے کبھی ان کی کھال چھیل ڈالتے ہواور کہتے ہو کہ یہ صرم ہے اور کبھی انہیں اپنے اہل خانہ پر حرام قرار دیتے ہوانہوں نے عرض کیا: ایساہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تم کو جو کچھ عطا فرما رکھا ہے وہ سب حلال ہے اللہ کا بازو زیادہ طاقت ور ہے اور اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان جاؤ اور وہ میرا آ کرام کر ے اور نہ ہی مہمان نوازی پھر وہی شخص میرے یہاں مہمان بن کر آئے تو میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کر و جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا میں اس کی مہمان نوازی کر وں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی مہمان نوازی کر و۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15891]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَشْعَثُ، سَيِّئُ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا لَكَ مَالٌ؟" , قَالَ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً، أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ".
سیدنا مالک بن مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال دیکھاتوپوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے عرض کیا: جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے میں نے عرض کیا: اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطا فرما رکھے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15892]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
208. حَدِيثُ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَتَمَجَّعُ لَبَنًا بِتَمْرٍ، فَقَالَ: ادْنُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَمَّاهُمَا الْأَطْيَبَيْنِ".
اسماعیل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں ایک آدمی کے پاس گیا وہ دودھ اور کھجور اکٹھی کر کے کھا پی رہے تھے مجھے دیکھ کر کہنے لگے کہ قریب آجاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں چیزوں کو پاکیزہ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15893]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو خالد والد إسماعيل مجهول
209. حَدِيثُ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
زادان کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ایک صحابی نے بتائی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کو موت کے وقت لا الہ الا اللہ کی تلقین ہو گئی وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15894]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
210. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 15895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْشِرُ قَوْمِي؟ قَالَ:" إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ".
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15895]
الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 15896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ أَشْيَاءَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَعْشِرُهَا؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ".
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15896]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 15897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي أُميِّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى".
ابوامیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15897]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
211. حَدِيثُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟" , قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا کہ تم نماز میں کیا پڑھتے ہواس نے کہا تشہد پڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ میں آپ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے آپ کی پناہ مانگتاہوں البتہ میں اچھی طرح آپ کا طریقہ یا سیدنا معاذ کا طریقہ اختیار نہیں کر پاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: ہم بھی اسی کے آس پاس گھومتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15898]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
212. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرْدُوسًا ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ".
ایک بدری صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھنا چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15899]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة كردوس
حدیث نمبر: 15900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرْدُوسَ بْنَ قَيْسٍ وَكَانَ قَاصَّ الْعَامَّةِ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَأَنْ أَقْعُدَ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَجْلِسِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ". قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: أَيَّ مَجْلِسٍ يَعْنِي؟ قَالَ: كَانَ قَاصًّا.
ایک بدری صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس طرح کی مجلس وعظ میں بیٹھنا چار غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15900]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الجهالة كردوس