🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

51. باب صفة الجنة والنار:
باب: جنت و جہنم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6566
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُسَمَّوْنَ: الْجَهَنَّمِيِّينَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حسن بن ذکوان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شفاعت کی وجہ سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی جن کو «جهنميين‏"‏‏.» کے نام سے پکارا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6566]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے ایک قوم کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے نکالا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو انہیں جہنمی کے نام سے پکارا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء
Newعمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥الحسن بن ذكوان البصري، أبو سلمة
Newالحسن بن ذكوان البصري ← عمران بن ملحان العطاردي
صدوق يخطئ
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← الحسن بن ذكوان البصري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6566
يخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة يسمون الجهنميين
جامع الترمذي
2600
ليخرجن قوم من أمتي من النار بشفاعتي يسمون الجهنميون
سنن أبي داود
4740
يخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة ويسمون الجهنميين
سنن ابن ماجه
4315
ليخرجن قوم من النار بشفاعتي يسمون الجهنميين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6566 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6566
حدیث حاشیہ:
یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم میں جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے، انہیں وہاں سے نکال کر آبِ حیات میں ڈالا جائے گا، ان کی وہاں اس طرح نشوونما ہوگی جس طرح خس و خاشاک کے سیلاب میں دانہ اُگتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6566]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4740
شفاعت کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ جہنم سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4740]
فوائد ومسائل:
یہ لقب جنت میں ان کے لئے اذیت کا باعث نہیں ہو گا، اس سے نام محض یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ جہنم سے آزادشدہ ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4740]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4315
شفاعت کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4315]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
 
(1)
انھیں جہنمی اس معنی میں کہا جائیگا۔
کہ وہ جہنم سے نکلے ہوئے ہیں جیسے اگر کوئی شخص ایک شہر چھوڑ کر دوسری شہر میں رہائش اختیار کرلے تو عموماً اسے پہلے شہر کی طرف یاد کرکے منسوب کیا جا تا ہے۔

(2)
یہ نام اس لیے ہے کہ انھیں اللہ کی نعمت یاد رہے۔
اور انھیں خوشی حاصل ہو اس سے مقصود انکی تحقیر نہیں ویسے بھی جنت میں کوئی غم فکر اور پریشانی کا وجود نہ ھوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4315]

Sahih Bukhari Hadith 6566 in Urdu