🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ الدُّخُولِ عَلَى الْمَيِّتِ بَعْدَ الْمَوْتِ إِذَا أُدْرِجَ فِي كَفَنِهِ:
باب: میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا (جائز ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1244
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ مِثْلَهُ، وَقَالَ نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ عُقَيْلٍ مَا يُفْعَلُ بِهِ، وَتَابَعَهُ شُعَيْبٌ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ.
‏‏‏‏ ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا اور ان سے لیث نے سابقہ روایت کی طرح بیان کیا، نافع بن یزید نے عقیل سے ( «ما يفعل بی» کے بجائے) «ما يفعل به» کے الفاظ نقل کئے ہیں اور اس روایت کی متابعت شعیب، عمرو بن دینار اور معمر نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1244]


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروةثقة ثبت فاضل
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ متقن
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
👤←👥نافع بن يزيد الكلاعي، أبو يزيد
Newنافع بن يزيد الكلاعي ← عقيل بن خالد الأيلي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← نافع بن يزيد الكلاعي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥سعيد بن عفير الأنصاري، أبو عثمان
Newسعيد بن عفير الأنصاري ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْكِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْكِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ"، تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب میرے والد شہید کر دیئے گئے تو میں ان کے چہرے پر پڑا ہو کپڑا کھولتا اور روتا تھا۔ دوسرے لوگ تو مجھے اس سے روکتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ آخر میری چچی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ روؤ یا چپ رہو۔ جب تک تم لوگ میت کو اٹھاتے نہیں ملائکہ تو برابر اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اس روایت کی متابعت شعبہ کے ساتھ ابن جریج نے کی، انہیں ابن منکدر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1244]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد جب (غزوہ احد میں) شہید ہوئے تو میں بار بار ان کے چہرے سے پردہ ہٹاتا اور روتا تھا۔ لوگ مجھے اس سے منع کرتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے منع نہیں فرماتے تھے۔ پھر میری پھوپھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو رو یا نہ رو، فرشتے تو ان پر اپنے پروں کا سایہ کیے رہے حتیٰ کہ تم نے انہیں اٹھالیا۔“ ابن جریج نے شعبہ کی متابعت کی ہے۔ انہوں نے کہا: مجھے محمد بن منکدر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← ابن جريج المكي
صحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2816
لم تبكي ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها قلت لصدقة أفيه حتى رفع
صحيح البخاري
1293
لا تبكي فما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفع
صحيح البخاري
1244
لا تبكين ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفعتموه
صحيح مسلم
6355
لم تبكي فما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفع
صحيح مسلم
6355
أصيب أبي يوم أحد فجعلت أكشف الثوب عن وجهه وأبكي وجعلوا ينهونني ورسول الله لا ينهاني قال وجعلت فاطمة بنت عمرو تبكيه فقال رسول الله تبكيه أو لا تبكيه ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفعتموه
سنن النسائى الصغرى
1846
لا تبكيه ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفعتموه
سنن النسائى الصغرى
1843
لم تبكي ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفع
مسندالحميدي
1298
من هذه؟
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1244 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1244
حدیث حاشیہ:
منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ کافروں نے حضرت جابر ؓ کے والد کو قتل کر کے ان کے ناک کان بھی کاٹ ڈالے تھے۔
ایسی حالت میں صحابہ نے یہ مناسب جانا کہ جابر ؓ ان کو نہ دیکھیں تو بہتر ہوگا تاکہ ان کو مزید صدمہ نہ ہو۔
حدیث سے نکلا کہ مردے کو دیکھ سکتے ہیں۔
اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر کو منع نہیں فرمایا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1244]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1244
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت جابر ؓ کے والد گرامی جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تھے اور مشرکین نے ان کے ناک اور کان وغیرہ کاٹ کر ان کا مثلہ کر دیا تھا۔
حضرت جابر ؓ کا ان کے چہرے سے بار بار پردہ اٹھا کر رونا اس بنا پر تھا۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس واقعے سے ثابت کیا ہے کہ میت کو کفن میں لپیٹ دینے کے بعد اسے دیکھا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ محض رونا، جس میں نوحہ نہ ہو، ممنوع نہیں۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جنتی ہونے کا فیصلہ فرمایا، کیونکہ فرشتوں کا اپنے پروں سے سایہ کرنا جنتی ہونے کی علامت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی بنیاد وحی تھی۔
اپنے ظن و تخمین سے کسی کے متعلق جنتی ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ابن جریج کی متابعت کو امام مسلم ؒ نے اپنی صحیح میں متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 150/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1244]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1843
میت کو ڈھانپنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا، (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اٹھانے) کا حکم دیا، انہیں اٹھایا گیا، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے، آپ نے فرمایا: ”مت روؤ“، یا فرمایا: ”کیوں روتی ہو؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے۔‏‏‏‏“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1843]
1843۔ اردو حاشیہ:
➊ ”عمرو کی بیٹی“ اس صورت میں یہ جابر کے شہید والد کی بہن تھیں اور اگر وہ عمرو کی بہن تھیں تو جابر کے والد کی پھوپھی تھیں۔ پہلی بات صحیح ہے کہ وہ شہید کی بہن تھیں ……… رضی اللہ عنہا ……… دراصل یہ کسی راوی کو شک ہے کہ وہ عمرو کی بیٹی تھی یا عمرو کی بہن۔
➋ ”سایہ کیے رکھا“ مطلب یہ ہے کہ اتنے شرف والی شہادت پر آہ و زاری مناسب نہیں، اگرچہ دل اور آنکھیں تو غم کرتے ہیں۔
➌ وفات کے بعد میت کو کپڑے سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ اگر موت کی وجہ سے اس کے چہرے وغیرہ میں کوئی تغیر آیا ہو تو نظر نہ آئے۔ غسل و تکفین کے بعد جب اسے صاف ستھرا کر کے حتی الامکان خوب صورت بنا دیا جاتا ہے، اس وقت اسے لوگوں کے سامنے چہرہ دیکھنے کے لیے رکھ جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور میں کسی قسم کے تغیر کا امکان نہیں تھا، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غسل و تکفین سے پہلے بھی آپ کو دیکھا اور بوسہ دیا ……… رضی اللہ عنہ ………۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1843]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1293
1293. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:میرے والد گرامی کو احد کے دن اس حالت میں لایاگیا کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ کر کپڑے سے ڈھانپ دیاگیا۔ میں اس ارادے سے ان کے قریب گیا کہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاؤں، لیکن میری قوم نے مجھے منع کردیا۔ میں دوبارہ ان کے پاس گیا تاکہ کپڑا اٹھاؤں مجھے پھرلوگوں نے منع کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی میت کواٹھانے کا حکم دیا تو آپ نے چیخ مارنے والی عورت کی آواز سنی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نےبتایا کہ عمرو کی بیٹی یا ان کی بہن ہے۔ آپ نے فرمایا:”یہ کیوں روتی ہے؟“ یافرمایا:”یہ نہ روئے، فرشتے اپنے پروں سے ان پر سایہ کیے ہوئے تھے تا آنکہ انھیں اٹھا لیاگیا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1293]
حدیث حاشیہ:
(1)
قبل ازیں ایک حدیث میں وضاحت تھی کہ رونے والی حضرت جابر ؓ کی پھوپھی فاطمہ تھیں۔
(حدیث: 1244)
لیکن امام حاکم نے اپنی کتاب الإكليل میں اس کا نام ہند بنت عمرو لکھا ہے۔
ممکن ہے کہ دونوں بہنیں وہاں موجود ہوں یا ایک ہی مراد ہو، مذکورہ نام اس کا لقب ہو یا اس کے دو نام ہوں۔
(فتح الباري: 208/3) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر ؓ کے والد گرامی پر فرشتوں کے سایہ کرنے کا ذکر فرمایا کہ اس قدر عظیم منصب کے حصول پر تو خوش ہونا چاہیے نہ کہ اس پر رونے دھونے کی زحمت گوارا کی جائے۔
یہ رونے کا کیا موقع ہے! اس ارشاد مبارک میں اغماض کے ساتھ عدم رضا بھی موجود ہے۔
اغماض اور رضا میں فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔
بعض صورتوں میں اظہار ناپسندیدگی کر کے درگزر کی شرعی گنجائش ہوتی ہے، چنانچہ اس عنوان کے تحت امام بخاری ؒ نے اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔
میت پر رونے اور بین کرنے کا دروازہ کھولنا قطعا مقصود نہیں۔
والله أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1293]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2816
2816. حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میرے والد گرامی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا اٹھانا چاہا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا۔ اس دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلانے والی عورت کی آوازسنی اور کہا گیا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا اس کی بہن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیوں روتی ہو؟یا فرمایاتم اس پر مت رؤو، اس پر تو فرشتوں نے برابر اپنے پروں سے سایہ کررکھا ہے۔“ (امام بخاری کہتے ہیں کہ) میں نے(اپنے شیخ) صدقہ (راوی) سے دریافت کیا: اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”حتیٰ کہ اس کو اٹھا لیا گیا۔“ انھوں (سفیان) نے فرمایا کہ کبھی کبھی (جابر) ان الفاظ کو بھی بیان کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2816]
حدیث حاشیہ:
1۔
امام بخاری ؓنے اس حدیث سے شہید کی عظمت ثابت کی ہے کہ فرشتے اسے اپنی معیت اور ہمراہی میں لے لیتے ہیں اور اس پر اپنے پروں کا سایہ کردیتے ہیں۔
دوسری روایت میں ہے۔
”شہید کی میت اٹھانے تک فرشتوں نے اس پر سایہ کیے رکھا۔
“ (صحیح البخاري، الجنائز، حدیث 1293)
2۔
”چلانے والی عورت“ ایک روایت میں صراحت ہے کہ یہ حضرت جابر ؓ کی پھوپھی فاطمہ تھیں۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1244)
3۔
واضح رہے کہ صدقہ بن فضل حضرت امام بخاری ؒکے استاد ہیں ان سے امام بخاری ؒنے پوچھا تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2816]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6355
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میرا باپ احد کے دن شہید ہوا تو میں اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا تھا اور روتا تھا۔ لوگ مجھے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے تھے۔ اور عمرو کی بیٹی فاطمہ (یعنی میری پھوپھی) وہ بھی اس پر رو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو روئے یا نہ روئے، تمہارے اسے اٹھانے تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6355]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی قوم،
لاش سے کپڑا ہٹانے سے روک رہی تھی کہ یہ حالت دیکھ کر زیادہ غم و حزن کا شکار ہوں گے اور زیادہ روئیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے نہیں روک رہے تھے کہ اس طرح رکاوٹ اور ان سے غم و حزن میں شدت پیدا ہوتی ہے اور دیکھ کر کچھ تسلی ہو جاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہانا دل کے غم کو ہلکا کرتا ہے،
اس لیے شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6355]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6355
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میرا باپ احد کے دن شہید ہوا تو میں اس کے منہ سے کپڑا اٹھاتا تھا اور روتا تھا۔ لوگ مجھے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کرتے تھے۔ اور عمرو کی بیٹی فاطمہ (یعنی میری پھوپھی) وہ بھی اس پر رو رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو روئے یا نہ روئے، تمہارے اسے اٹھانے تک فرشتے اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6355]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی قوم،
لاش سے کپڑا ہٹانے سے روک رہی تھی کہ یہ حالت دیکھ کر زیادہ غم و حزن کا شکار ہوں گے اور زیادہ روئیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے نہیں روک رہے تھے کہ اس طرح رکاوٹ اور ان سے غم و حزن میں شدت پیدا ہوتی ہے اور دیکھ کر کچھ تسلی ہو جاتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہانا دل کے غم کو ہلکا کرتا ہے،
اس لیے شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6355]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1298
1298- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر میرے والد شہید ہوگئے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا ان کی میت کی بت حرمتی کی گئی تھی میں نے ان چہرے سے کپڑا ہٹا نے کا ارادہ کیا، تو میری قوم کے افراد نے مجھے منع کردیا میں ان کے منہ سے کپڑا ہٹانا چاہ رہا تھا، لیکن میری قوم کے افرا مجھے منع کررہے تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں وہاں سے اٹھا لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاتون کے رونے کی آواز سنی تو دریافت کیا: ”یہ کون ہے“؟ لوگوں نے بتایا: عمرو کی صاحبزاد۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1298]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہید پر رونا نہیں چاہیے، اللہ تعالیٰ ٰ نے بہن اور بھائی میں فطری محبت رکھی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہم تک دین پہنچایا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1297]

Sahih Bukhari Hadith 1244 in Urdu