🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب فى العطار وبيع المسك:
باب: عطر بیچنے والے اور مشک بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2101
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ، وَكِيرِ الْحَدَّادِ، لَا يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْكِ، إِمَّا تَشْتَرِيهِ أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ، وَكِيرُ الْحَدَّادِ يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْ ثَوْبَكَ، أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا اور ان سے ان کے والد موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥بريد بن عبد الله الأشعري، أبو بردة
Newبريد بن عبد الله الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الواحد بن زياد العبدي، أبو بشر
Newعبد الواحد بن زياد العبدي ← بريد بن عبد الله الأشعري
ثقة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← عبد الواحد بن زياد العبدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5534
الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة
صحيح البخاري
2101
مثل الجليس الصالح والجليس السوء كمثل صاحب المسك وكير الحداد لا يعدمك من صاحب المسك إما تشتريه أو تجد ريحه وكير الحداد يحرق بدنك أو تجد منه ريحا خبيثة
صحيح مسلم
6692
مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2101 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2101
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے ذیل فرماتے ہیں و فی الحدیث النہی عن مجالسۃ من یتاذی بمجالستہ فی الدین و الدنیا و الترغیب فی مجالستہ من ینتفع بمجالسۃ فیہما و فیہ جواز بیع المسک و الحکم بطہارتہ لانہ صلی اللہ علیہ وسلم مدحہ و رغب فیہ ففیہ الرد علی من کرہہ الخ (فتح الباری)
یعنی اس حدیث سے ایسی مجلس میں بیٹھنے کی برائی ثابت ہوتی ہے جس میں بیٹھنے سے دین اور دنیا ہر دو کا نقصان ہے اور اس حدیث میں نفع بخش مجالس میں بیٹھنے کی ترغیب بھی ہے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مشک کی تجارت جائز ہے اور یہ بھی کہ مشک پاک ہے۔
اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی۔
اور اس کے حصول کے لیے رغبت دلائی۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب منعقد فرماکر ان لوگوں کی تردید کی ہے جو مشک کی تجارت کو جائز نہیں جانتے اور اس کی عدم طہارت کا خیال رکھتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2101]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2101
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں برے ساتھی کی صحبت اختیار کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ برے لوگوں کا ماحول عموماً دوسروں کو برا بنا دیتا ہے اور نیک اور اچھے لوگوں کی مجلس اختیار کرنے کی ترغیب ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کستوری پاک ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے۔
دراصل امام حسن بصری رحمہ اللہ اس کی کراہت کے قائل ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید فرمائی کہ ان کا موقف مبنی برحقیقت نہیں۔
اگرچہ اسے ہرن کے خون سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن جب خون کی حالت بدل جائے اور وہ جم کر مہکنے لگے تو وہ حلال اور پاکیزہ بن جاتا ہے۔
(3)
کستوری پاک ہے اور اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔
جو لوگ اس کی تجارت کو ناجائز خیال کرتے ہیں اور اسے نجس کہتے ہیں،ان کا موقف مذکورہ حدیث کے پیش نظر محل نظر ہے۔
(فتح الباری: 4/410)
والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2101]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6692
0 [صحيح مسلم، حديث نمبر:6692]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
كير:
بھٹی کے اوپر آگ جلانے کے لیے جو مشک چسپاں کی جاتی ہے اور بقول بعض اس کا اطلاق بھٹی پر بھی ہو جاتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6692]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5534
5534. سیدناابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اچھے اور برے دوست کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری اٹھانے والا تجھے ہدیہ دے گا یا تو اس سے خرید کر ہے گا یا کم ازکم اس کی عمدہ خوشبو سے محظوظ ہو گا۔ اور بھٹی دھونکنے والا تیرے کپڑے جلا دے گا یا کم ازکم تجھے اس کے پاس بیٹھنے سے ناگوار بو اور دھواں پہینچے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5534]
حدیث حاشیہ:
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے بھی مشک کا پاک اور بہتر ہونا ثابت فرمایا ہے اور اسے اچھے اور صالح دوست سے تشبیہ دی ہے بے شک صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مسلمان ہو ئے تھے۔
یہ حافظ قرآن اور سنت رسول کے حامل تھے۔
کلام الٰہی خاص انداز اور لحن داؤد علیہ السلام سے پڑھا کرتے تھے۔
تمام سامعین محو رہتے تھے۔
ان کی تلاوت پر خوش ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ کا حاکم بنایا۔
سنہ52ھ میں وفات پائی، رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5534]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5534
5534. سیدناابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اچھے اور برے دوست کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری اٹھانے والا تجھے ہدیہ دے گا یا تو اس سے خرید کر ہے گا یا کم ازکم اس کی عمدہ خوشبو سے محظوظ ہو گا۔ اور بھٹی دھونکنے والا تیرے کپڑے جلا دے گا یا کم ازکم تجھے اس کے پاس بیٹھنے سے ناگوار بو اور دھواں پہینچے گا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5534]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کستوری کی تعریف کی ہے اور اسے اچھے دوست سے تشبیہ دی ہے اگر مشک پلید ہوتا تو خباثت سے ہوتا، اسے قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے کستوری کے پاک ہونے پر استدلال کیا ہے، اس لیے آپ نے اچھے اور نیک ساتھی کو کستوری اٹھانے والے سے تشبیہ دی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5534]

Sahih Bukhari Hadith 2101 in Urdu