علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء:
باب: نیک صحبت کا حکم اور بری مجلس سے بچنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2628 ترقیم شاملہ: -- 6692
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ، إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ".
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”نیک ہم نشیں اور بُرے ہم نشیں کی مثال مُشک بردار اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے، مُشک بردار یا تم کو ہدیے میں مشک دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے، ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو (چنگاریوں سے) تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں (اس سے) بدبُو آئے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6692]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2628
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5534
| الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة |
صحيح البخاري |
2101
| مثل الجليس الصالح والجليس السوء كمثل صاحب المسك وكير الحداد لا يعدمك من صاحب المسك إما تشتريه أو تجد ريحه وكير الحداد يحرق بدنك أو تجد منه ريحا خبيثة |
صحيح مسلم |
6692
| مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6692 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6692
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
كير:
بھٹی کے اوپر آگ جلانے کے لیے جو مشک چسپاں کی جاتی ہے اور بقول بعض اس کا اطلاق بھٹی پر بھی ہو جاتا ہے۔
مفردات الحدیث:
كير:
بھٹی کے اوپر آگ جلانے کے لیے جو مشک چسپاں کی جاتی ہے اور بقول بعض اس کا اطلاق بھٹی پر بھی ہو جاتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6692]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2101
2101. حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری والےاورلوہار کی بھٹی کی سی ہے کستوری والےکی طرف سے کوئی چیز تجھ سے معدوم نہ ہوگی، تو اس سے کستوری خرید لےگایا اس کی خوشبو پائے گا۔ اس کے برعکس لوہار کی بھٹی تیرا بدن یا تیرا کپڑا جلا دے گی یا تو اس سے بدبو دار ہوا حاصل کرے گا۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2101]
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے ذیل فرماتے ہیں و فی الحدیث النہی عن مجالسۃ من یتاذی بمجالستہ فی الدین و الدنیا و الترغیب فی مجالستہ من ینتفع بمجالسۃ فیہما و فیہ جواز بیع المسک و الحکم بطہارتہ لانہ صلی اللہ علیہ وسلم مدحہ و رغب فیہ ففیہ الرد علی من کرہہ الخ (فتح الباری)
یعنی اس حدیث سے ایسی مجلس میں بیٹھنے کی برائی ثابت ہوتی ہے جس میں بیٹھنے سے دین اور دنیا ہر دو کا نقصان ہے اور اس حدیث میں نفع بخش مجالس میں بیٹھنے کی ترغیب بھی ہے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مشک کی تجارت جائز ہے اور یہ بھی کہ مشک پاک ہے۔
اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی۔
اور اس کے حصول کے لیے رغبت دلائی۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب منعقد فرماکر ان لوگوں کی تردید کی ہے جو مشک کی تجارت کو جائز نہیں جانتے اور اس کی عدم طہارت کا خیال رکھتے ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے ذیل فرماتے ہیں و فی الحدیث النہی عن مجالسۃ من یتاذی بمجالستہ فی الدین و الدنیا و الترغیب فی مجالستہ من ینتفع بمجالسۃ فیہما و فیہ جواز بیع المسک و الحکم بطہارتہ لانہ صلی اللہ علیہ وسلم مدحہ و رغب فیہ ففیہ الرد علی من کرہہ الخ (فتح الباری)
یعنی اس حدیث سے ایسی مجلس میں بیٹھنے کی برائی ثابت ہوتی ہے جس میں بیٹھنے سے دین اور دنیا ہر دو کا نقصان ہے اور اس حدیث میں نفع بخش مجالس میں بیٹھنے کی ترغیب بھی ہے۔
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مشک کی تجارت جائز ہے اور یہ بھی کہ مشک پاک ہے۔
اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعریف کی۔
اور اس کے حصول کے لیے رغبت دلائی۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ باب منعقد فرماکر ان لوگوں کی تردید کی ہے جو مشک کی تجارت کو جائز نہیں جانتے اور اس کی عدم طہارت کا خیال رکھتے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2101]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5534
5534. سیدناابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اچھے اور برے دوست کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری اٹھانے والا تجھے ہدیہ دے گا یا تو اس سے خرید کر ہے گا یا کم ازکم اس کی عمدہ خوشبو سے محظوظ ہو گا۔ اور بھٹی دھونکنے والا تیرے کپڑے جلا دے گا یا کم ازکم تجھے اس کے پاس بیٹھنے سے ناگوار بو اور دھواں پہینچے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5534]
حدیث حاشیہ:
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے بھی مشک کا پاک اور بہتر ہونا ثابت فرمایا ہے اور اسے اچھے اور صالح دوست سے تشبیہ دی ہے بے شک صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مسلمان ہو ئے تھے۔
یہ حافظ قرآن اور سنت رسول کے حامل تھے۔
کلام الٰہی خاص انداز اور لحن داؤد علیہ السلام سے پڑھا کرتے تھے۔
تمام سامعین محو رہتے تھے۔
ان کی تلاوت پر خوش ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ کا حاکم بنایا۔
سنہ52ھ میں وفات پائی، رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے بھی مشک کا پاک اور بہتر ہونا ثابت فرمایا ہے اور اسے اچھے اور صالح دوست سے تشبیہ دی ہے بے شک صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع ترا طالع کند حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مسلمان ہو ئے تھے۔
یہ حافظ قرآن اور سنت رسول کے حامل تھے۔
کلام الٰہی خاص انداز اور لحن داؤد علیہ السلام سے پڑھا کرتے تھے۔
تمام سامعین محو رہتے تھے۔
ان کی تلاوت پر خوش ہو کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ کا حاکم بنایا۔
سنہ52ھ میں وفات پائی، رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5534]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2101
2101. حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری والےاورلوہار کی بھٹی کی سی ہے کستوری والےکی طرف سے کوئی چیز تجھ سے معدوم نہ ہوگی، تو اس سے کستوری خرید لےگایا اس کی خوشبو پائے گا۔ اس کے برعکس لوہار کی بھٹی تیرا بدن یا تیرا کپڑا جلا دے گی یا تو اس سے بدبو دار ہوا حاصل کرے گا۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2101]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں برے ساتھی کی صحبت اختیار کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ برے لوگوں کا ماحول عموماً دوسروں کو برا بنا دیتا ہے اور نیک اور اچھے لوگوں کی مجلس اختیار کرنے کی ترغیب ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کستوری پاک ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے۔
دراصل امام حسن بصری رحمہ اللہ اس کی کراہت کے قائل ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید فرمائی کہ ان کا موقف مبنی برحقیقت نہیں۔
اگرچہ اسے ہرن کے خون سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن جب خون کی حالت بدل جائے اور وہ جم کر مہکنے لگے تو وہ حلال اور پاکیزہ بن جاتا ہے۔
(3)
کستوری پاک ہے اور اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔
جو لوگ اس کی تجارت کو ناجائز خیال کرتے ہیں اور اسے نجس کہتے ہیں،ان کا موقف مذکورہ حدیث کے پیش نظر محل نظر ہے۔
(فتح الباری: 4/410)
والله اعلم.
(1)
اس حدیث میں برے ساتھی کی صحبت اختیار کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ برے لوگوں کا ماحول عموماً دوسروں کو برا بنا دیتا ہے اور نیک اور اچھے لوگوں کی مجلس اختیار کرنے کی ترغیب ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کستوری پاک ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے۔
دراصل امام حسن بصری رحمہ اللہ اس کی کراہت کے قائل ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید فرمائی کہ ان کا موقف مبنی برحقیقت نہیں۔
اگرچہ اسے ہرن کے خون سے حاصل کیا جاتا ہے لیکن جب خون کی حالت بدل جائے اور وہ جم کر مہکنے لگے تو وہ حلال اور پاکیزہ بن جاتا ہے۔
(3)
کستوری پاک ہے اور اس کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔
جو لوگ اس کی تجارت کو ناجائز خیال کرتے ہیں اور اسے نجس کہتے ہیں،ان کا موقف مذکورہ حدیث کے پیش نظر محل نظر ہے۔
(فتح الباری: 4/410)
والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2101]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5534
5534. سیدناابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اچھے اور برے دوست کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی پھونکنے والے کی طرح ہے۔ کستوری اٹھانے والا تجھے ہدیہ دے گا یا تو اس سے خرید کر ہے گا یا کم ازکم اس کی عمدہ خوشبو سے محظوظ ہو گا۔ اور بھٹی دھونکنے والا تیرے کپڑے جلا دے گا یا کم ازکم تجھے اس کے پاس بیٹھنے سے ناگوار بو اور دھواں پہینچے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5534]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کستوری کی تعریف کی ہے اور اسے اچھے دوست سے تشبیہ دی ہے اگر مشک پلید ہوتا تو خباثت سے ہوتا، اسے قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے کستوری کے پاک ہونے پر استدلال کیا ہے، اس لیے آپ نے اچھے اور نیک ساتھی کو کستوری اٹھانے والے سے تشبیہ دی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں کستوری کی تعریف کی ہے اور اسے اچھے دوست سے تشبیہ دی ہے اگر مشک پلید ہوتا تو خباثت سے ہوتا، اسے قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا جاتا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے کستوری کے پاک ہونے پر استدلال کیا ہے، اس لیے آپ نے اچھے اور نیک ساتھی کو کستوری اٹھانے والے سے تشبیہ دی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5534]
Sahih Muslim Hadith 6692 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري