🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب بيع المنابذة:
باب: بیع منابذہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2147
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ".
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عطاء بن یزید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے لباس سے منع فرمایا، اور دو طرح کی بیع، بیع ملامسۃ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2147]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يزيد الجندعي، أبو يزيد، أبو محمد
Newعطاء بن يزيد الجندعي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عطاء بن يزيد الجندعي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥عياش بن الوليد الرقام، أبو الوليد
Newعياش بن الوليد الرقام ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5820
نهى عن الملامسة والمنابذة في البيع والملامسة لمس الرجل ثوب الآخر بيده بالليل أو بالنهار ولا يقلبه إلا بذلك والمنابذة أن ينبذ الرجل إلى الرجل بثوبه وينبذ الآخر ثوبه ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض واللبستين اشتمال الصماء
صحيح البخاري
2147
نهى عن لبستين وعن بيعتين الملامسة والمنابذة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2147 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2147
حدیث حاشیہ:
گذشتہ سے پیوستہ حدیث کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ اس حدیث کو یہاں اس لیے لائے کہ اس میں بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کی ممانعت مذکور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2147]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2147
حدیث حاشیہ:
منابذہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور کوئی بھی ایک دوسرے کے کپڑے کو الٹ پلٹ کر نہ دیکھتا، اسی سے بیع پختہ ہوجاتی۔
زمانہ جاہلیت میں اس قسم کی خریدوفروخت عام تھی اور اس میں جہالت اور دھوکے کے علاوہ جوئے کا عنصر بھی شامل تھا۔
جوئے کی یہ صورت ہوتی کہ بائع اور مشتری میں یہ طے پاجاتا کہ جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں اور جو تیرے پاس ہے تو میری طرف پھینک دے۔
بس اس شرط پر بیع ہوجائے، کسی کو معلوم نہ ہو کہ دوسرے کے پاس کیا اور کتنا مال ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔
(فتح الباري: 454/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2147]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5820
5820. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباسوں اور خریدو فروخت کی دو قسموں سے منع فرمایا ہے: آپ نے بیع ملامسہ اور بیع منابذہ سے منع فرمایا: ملامسہ بیع یہ ہے کہ کوئی آدمی دن یا رات میں اپنے ہاتھ سے کسی دوسرے کا کپڑا چھولے اور اسے کھول کر نہ دیکھے اسی سے بیع پختہ کرے۔ منابذہ کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اپنا کپڑا دوسرے آدمی کی طرف اور وہ اس کی طرف پھینکےاور بغیر دیکھے اور باہمی رضامندی کے بغیر ہی بیع منعقد ہو جائے۔ اور جن دو لباسوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان میں سے ایک اشتمال الصماء کہ انسان اپنا کپڑا اپنے کندھے پر اس طرح ڈالے کہ دوسری طرف ننگی ہو اور اس پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ اور دوسرا لباس احتباء (گوٹ مار کر بیٹھنا) ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ بیٹھ کر اپنے کپڑے سے کمر اور پنڈلیاں باندھ لی جائیں اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5820]
حدیث حاشیہ:
(1)
دور جاہلیت میں عربوں کے ہاں اس قسم کی خریدوفروخت عام تھی، اس سے اسلام نے منع فرما دیا کیونکہ اس میں دھوکا ہوتا تھا اور اسی طرح ان کے ہاں مجلس میں بیٹھنے کا ایک طریقہ یہ ہوتا تھا جس کی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے۔
(2)
بیٹھنے کی اس صورت میں شرمگاہ کھل جایا کرتی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
احتباء میں اگر پردے کا اہتمام ہو تو اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5820]

Sahih Bukhari Hadith 2147 in Urdu