🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب اشتمال الصماء:
باب: اشتمال الصماء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5820
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ: نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ"، وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلَا يُقَلِّبُهُ إِلَّا بِذَلِكَ، وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ وَيَكُونَ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ، وَاللِّبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَالصَّمَّاءُ: أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُو أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَى احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عامر بن سعد نے خبر دی، اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص (خریدار) دوسرے (بیچنے والے) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا (اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضا مندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے (جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا انہیں میں سے ایک) اشتمال صماء ہے۔ صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا (ایک چادر) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ ایک کنارہ سے (شرمگاہ) کھل جاتی اور کوئی دوسرا کپڑا وہاں نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے پہناوے کا طریقہ یہ تھا کہ بیٹھ کر اپنے ایک کپڑے سے کمر اور پنڈلی باندھ لیتے تھے اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5820]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباسوں اور خرید و فروخت کی دو قسموں سے منع فرمایا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «المُلَامَسَةُ» بیع ملامسہ اور «المُنَابَذَةُ» بیع منابذہ سے منع فرمایا؛ ملامسہ بیع یہ ہے کہ کوئی آدمی دن یا رات میں اپنے ہاتھ سے کسی دوسرے کا کپڑا چھولے اور اسے کھول کر نہ دیکھے، اسی سے بیع پختہ کرے؛ منابذہ کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اپنا کپڑا دوسرے آدمی کی طرف اور وہ اس کی طرف پھینکے اور بغیر دیکھے اور باہمی رضامندی کے بغیر ہی بیع منعقد ہو جائے، اور جن دو لباسوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان میں سے ایک «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» اشتمال الصماء ہے کہ انسان اپنا کپڑا اپنے کندھے پر اس طرح ڈالے کہ دوسری طرف ننگی ہو اور اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، اور دوسرا لباس «الِاحْتِبَاءُ» احتباء (گوٹ مار کر بیٹھنا) ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ بیٹھ کر اپنے کپڑے سے کمر اور پنڈلیاں باندھ لی جائیں اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5820]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عامر بن سعد القرشي
Newعامر بن سعد القرشي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عامر بن سعد القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5820
نهى عن الملامسة والمنابذة في البيع والملامسة لمس الرجل ثوب الآخر بيده بالليل أو بالنهار ولا يقلبه إلا بذلك والمنابذة أن ينبذ الرجل إلى الرجل بثوبه وينبذ الآخر ثوبه ويكون ذلك بيعهما عن غير نظر ولا تراض واللبستين اشتمال الصماء
صحيح البخاري
2147
نهى عن لبستين وعن بيعتين الملامسة والمنابذة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5820 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5820
حدیث حاشیہ:
(1)
دور جاہلیت میں عربوں کے ہاں اس قسم کی خریدوفروخت عام تھی، اس سے اسلام نے منع فرما دیا کیونکہ اس میں دھوکا ہوتا تھا اور اسی طرح ان کے ہاں مجلس میں بیٹھنے کا ایک طریقہ یہ ہوتا تھا جس کی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے۔
(2)
بیٹھنے کی اس صورت میں شرمگاہ کھل جایا کرتی تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
احتباء میں اگر پردے کا اہتمام ہو تو اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5820]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2147
2147. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی خریدوفروخت سے منع کیا ہے (خریدوفروخت کی دو اقسام) بیع ملامسہ اور بیع منابذہ ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2147]
حدیث حاشیہ:
گذشتہ سے پیوستہ حدیث کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ اس حدیث کو یہاں اس لیے لائے کہ اس میں بیع ملامسہ اور بیع منابذہ کی ممانعت مذکور ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2147]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2147
2147. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی خریدوفروخت سے منع کیا ہے (خریدوفروخت کی دو اقسام) بیع ملامسہ اور بیع منابذہ ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2147]
حدیث حاشیہ:
منابذہ یہ ہے کہ بائع اور مشتری میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور کوئی بھی ایک دوسرے کے کپڑے کو الٹ پلٹ کر نہ دیکھتا، اسی سے بیع پختہ ہوجاتی۔
زمانہ جاہلیت میں اس قسم کی خریدوفروخت عام تھی اور اس میں جہالت اور دھوکے کے علاوہ جوئے کا عنصر بھی شامل تھا۔
جوئے کی یہ صورت ہوتی کہ بائع اور مشتری میں یہ طے پاجاتا کہ جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینکتا ہوں اور جو تیرے پاس ہے تو میری طرف پھینک دے۔
بس اس شرط پر بیع ہوجائے، کسی کو معلوم نہ ہو کہ دوسرے کے پاس کیا اور کتنا مال ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔
(فتح الباري: 454/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2147]

Sahih Bukhari Hadith 5820 in Urdu