Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب بيع الذهب بالذهب:
باب: سونے کو سونے کے بدلہ میں بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2175
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر (کی لین دین) نہ ہو۔ اسی طرح چاندی، چاندی کے بدلہ میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر نہ ہو۔ البتہ سونا، چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل میں جس طرح چاہو بیچو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرةصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي، أبو بحر، أبو حاتم
Newعبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي إسحاق الحضرمي
Newيحيى بن أبي إسحاق الحضرمي ← عبد الرحمن بن أبي بكرة الثقفي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← يحيى بن أبي إسحاق الحضرمي
ثقة حجة حافظ
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2175
لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا سواء بسواء الفضة بالفضة إلا سواء بسواء بيعوا الذهب بالفضة الفضة بالذهب كيف شئتم
صحيح البخاري
2182
الفضة بالفضة الذهب بالذهب إلا سواء بسواء أمرنا أن نبتاع الذهب بالفضة كيف شئنا الفضة بالذهب كيف شئنا
صحيح مسلم
4073
عن الفضة بالفضة الذهب بالذهب إلا سواء بسواء أمرنا أن نشتري الفضة بالذهب كيف شئنا نشتري الذهب بالفضة كيف شئنا يدا بيدسمعت
سنن النسائى الصغرى
4582
بيع الفضة بالفضة الذهب بالذهب إلا سواء بسواء أمرنا أن نبتاع الذهب بالفضة كيف شئنا الفضة بالذهب كيف شئنا
سنن النسائى الصغرى
4583
تبايعوا الذهب بالفضة كيف شئتم الفضة بالذهب كيف شئتم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2175 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2175
حدیث حاشیہ:
یعنی اس میں کمی بیشی درست ہے مگر ہاتھوں ہاتھ کی شرط اس میں بھی ہے ایک طرف نقد دوسری طرف ادھار درست نہیں اور سونے چاندی سے عام مراد ہے مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2175]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2175
حدیث حاشیہ:
سونے کو سونے کے عوض اور چاندی کو چاندی کے عوض برابر برابر فروخت کیا جائے اور اگر اجناس مختلف ہوں،مثلاً:
ایک طرف سے سونا ہو اور دوسری طرف سے چاندی تو اس میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، البتہ ادھار ناجائز ہے بلکہ دونوں طرف سے نقد ہونا ضروری ہے۔
ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار جائز نہیں۔
اسی طرح دونوں طرف سے ادھا بھی ممنوع ہے۔
بہر حال اگر اجناس مختلف ہوں تو کمی بیشی کی جاسکتی ہے مگر مجلس بیع میں قبضے میں لینا شرط ہے۔
ادھار کرنا حرام ہے۔
اسے شریعت نے سود قرار دیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2175]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4582
چاندی سونے سے اور سونا چاندی سے بیچنے کا بیان۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا، مگر برابر برابر، اور ہمیں حکم دیا کہ چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4582]
اردو حاشہ:
ایسی بیع جس میں سونا چاندی کے بدلے یا سونا سونے کے بدلے خریدا بیچا جائے یا اس کے برعکس، یعنی چاندی سونے کے بدلے یا چاندی کے بدلے خریدی بیچی جائے، بیع الصرف کہلاتی ہے۔ اس میں نقد ادائیگی اور برابری ضروری ہے جبکہ مختلف اشیاء کے باہمی تبادلے میں برابری کی شرط نہیں، البتہ نقد ادائیگی، اس میں بھی ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4582]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4073
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی، چاندی کے عوض اور سونا، سونے کے عوض فروخت کرنے سے روکا ہے، الا یہ کہ برابر برابر ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم چاندی، سونے کے عوض جیسے چاہیں خرید لیں اور سونا، چاندی کے عوض جیسے چاہیں خرید لیں، تو ایک آدمی نے سوال کیا، نقد بنقد ہوں؟ تو انہوں نے کہا، میں نے ایسے ہی سنا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4073]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سونے اور چاندی کے باہمی تبادلہ میں کمی و بیشی جائز ہے،
لیکن ان کا نقد بنقد ہونا ضروری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4073]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2182
2182. حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے عوض اور سونے کو سونے کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا مگر برابر،برابر بیچنا جائز ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کو چاندی کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں،اسی طرح چاندی کو سونے کے عوض جس طرح چاہیں خریدیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2182]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں ہاتھوں ہاتھ کی قید نہیں ہے مگر مسلم کی دوسری روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہاتھوں ہاتھ یعنی نقدا نقد ہونا اس میں بھی شرط ہے اور بیع صرف میں قبضہ شرط ہونے پر علماءکا اتفاق ہے۔
اختلاف اس میں ہے کہ جب جنس ایک ہو تو کمی بیشی درست ہے یا نہیں،جمہور کا قول یہی ہے کہ درست نہیں ہے۔
واللہ أعلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2182]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2182
2182. حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے عوض اور سونے کو سونے کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا مگر برابر،برابر بیچنا جائز ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کو چاندی کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں،اسی طرح چاندی کو سونے کے عوض جس طرح چاہیں خریدیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2182]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ بعض اوقات عنوان قائم کرکے اس کے تحت آنے والی حدیث کی وضاحت کرتے ہیں۔
اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ہم سونے کو چاندی کے عوض اور چاندی کو سونے کے عوض جس طرح چاہیں خریدیں۔
اس حدیث میں نقد بنقد سودا کرنے کی قید نہیں ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے عنوان قائم کرکے اس حدیث کے بعض طرق کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں دست بدست خریدوفروخت کرنے کے الفاظ ہیں،چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ اختلاف اجناس کی صورت میں تم جس طرح چاہو خریدوفروخت کرو بشرطیکہ نقد بنقد ہو۔
(صحیح مسلم، المساقاة، حدیث: 4063(1587)
(3)
مذکورہ حدیث میں بیع صرف کا بیان ہے،یعنی جب ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک کی کرنسی سے خریدنا چاہیں تو کمی بیشی تو ہوسکتی ہے لیکن ادھار کی اجازت نہیں ہے۔
اگر آپ دینار کے عوض پاکستانی روپے خریدنا چاہتے ہیں تو جس وقت دینار دیں اسی وقت روپے حاصل کرلیں۔
اگر ایک طرف سے بھی تاخیر ہوئی تو اسلام اسے سود قرار دیتا ہے۔
یہ آج کل کا عام مشاہدہ ہے کہ کرنسیوں کا شرح تبادلہ اور سونے چاندی کا ریٹ لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے،فوری تبادلہ نہ ہو اور ایک چیز دے کر اس کے بدلے دوسری چیز حاصل کرنے میں تاخیر ہوگئی تو ریٹ بدل چکا ہوگا۔
سونے چاندی کے علاوہ بنیادی غذائی اجناس کے ایک دوسرے کے ساتھ تبادلے میں بھی یہی حکم ہوگا کہ کمی بیشی تو جائز ہے لیکن لین دین دست بدست ہو ادھار نہ ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2182]