یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما يحذر من عواقب الاشتغال بآلة الزرع أو مجاوزة الحد الذى أمر به:
باب: کھیتی کے سامان میں بہت زیادہ مصروف رہنا یا حد سے زیادہ اس میں لگ جانا، اس کا انجام برا ہے۔
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: وَرَأَى سِكَّةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قَوْمٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الذُّلَّ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَاسْمُأَبِي أُمَامَةَ صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سالم حمصی نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد الہانی نے بیان کیا، ان سے ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا آپ کی نظر پھالی اور کھیتی کے بعض دوسرے آلات پر پڑی۔ آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس قوم کے گھر میں یہ چیز داخل ہوتی ہے تو اپنے ساتھ ذلت بھی لاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2321]
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ہل کا پھل اور کھیتی کے کچھ دوسرے آلات دیکھے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”یہ زرعی آلات جس قوم کے گھر میں گھس آتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ذلت و رسوائی سے دو چار کر دیتا ہے۔“ محمد (امام بخاری) نے کہا: حضرت ابو امامہ کا نام صدی بن عجلان ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة | صحابي | |
👤←👥محمد بن زياد الألهاني، أبو سفيان محمد بن زياد الألهاني ← صدي بن عجلان الباهلي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن سالم الأشعري، أبو يوسف عبد الله بن سالم الأشعري ← محمد بن زياد الألهاني | ثقة رمي بالنصب | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← عبد الله بن سالم الأشعري | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2321
| لا يدخل هذا بيت قوم إلا أدخله الله الذل |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2321 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2321
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒنے منعقدہ باب میں احادیث آمدہ در مدح زراعت و در ذم زراعت میں تطبیق پیش فرمائی ہے۔
جس کا خلاصہ یہ کہ کھیتی باڑی اگر حد اعتدال میں کی جائے کہ اس کی وجہ سے فرائض اسلام کی ادائیگی میں کوئی تساہل نہ ہو تو وہ کھیتی قابل تعریف ہے۔
جس کی فضیلت حدیث واردہ میں نقل ہوئی ہے۔
اور اگر کھیتی باڑی میں اس قدر مشغولیت ہو جائے کہ ایک مسلمان اپنے دینی فرائض سے بھی غافل ہو جائے تو پھر وہ کھیتی قابل تعریف نہیں رہتی۔
هَذَا مِنْ إِخْبَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُغَيَّبَاتِ لِأَنَّ الْمُشَاهَدَ الْآنَ أَنَّ أَكْثَرَ الظُّلْمِ إِنَّمَا هُوَ عَلَى أَهْلِ الْحَرْثِ وَقَدْ أَشَارَ الْبُخَارِيُّ بِالتَّرْجَمَةِ إِلَى الْجَمْعِ بَيْنَ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ وَالْحَدِيثِ الْمَاضِي فِي فَضْلِ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ وَذَلِكَ بِأَحَدِ أَمْرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُحْمَلَ مَا وَرَدَ مِنَ الذَّمِّ عَلَى عَاقِبَةِ ذَلِكَ وَمَحَلُّهُ مَا إِذَا اشْتَغَلَ بِهِ فَضَيَّعَ بِسَبَبِهِ مَا أُمِرَ بِحِفْظِهِ وَإِمَّا أَنْ يُحْمَلَ عَلَى مَا إِذَا لَمْ يُضَيِّعْ إِلَّا أَنَّهُ جَاوَزَ الْحَدَّ فِيهِ وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ كَلَامَ أَبِي أُمَامَةَ مَحْمُولٌ عَلَى مَنْ يَتَعَاطَى ذَلِكَ بِنَفْسِهِ أَمَّا مَنْ لَهُ عُمَّالٌ يَعْمَلُونَ لَهُ وَأَدْخَلَ دَارَهُ الْآلَةَ الْمَذْكُورَةَ لِتُحْفَظَ لَهُمْ فَلَيْسَ مُرَادًا وَيُمْكِنُ الْحَمْلُ عَلَى عُمُومِهِ فَإِنَّ الذُّلَّ شَامِلٌ لِكُلِّ مَنْ أَدْخَلَ عَلَى نَفْسِهِ مَا يَسْتَلْزِمُ مُطَالبَة آخر لَهُ وَلَا سِيمَا إِذْ كَانَ الْمُطَالِبُ مِنَ الْوُلَاةِ وَعَنِ الدَّاوُدِيِّ هَذَا لِمَنْ يَقْرُبُ مِنَ الْعَدُوِّ فَإِنَّهُ إِذَا اشْتَغَلَ بِالْحَرْثِ لَا يَشْتَغِلُ بِالْفُرُوسِيَّةِ فَيَتَأَسَّدُ عَلَيْهِ الْعَدُوُّ فَحَقُّهُمْ أَنْ يَشْتَغِلُوا بِالْفُرُوسِيَّةِ وَعَلَى غَيْرِهِمْ إِمْدَادُهُمْ بِمَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ (فتح الباري)
یعنی یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان خبروں میں سے ہے جن کو مشاہدہ نے بالکل صحیح ثابت کر دیا۔
کیوں کہ اکثر مظالم کا شکار کاشتکار ہی ہوتے چلے آرہے ہیں اور حضرت امام بخاری ؒ نے باب سے حدیث ابی امامہ اور حدیث سابقہ بابت فضیلت زراعت و باغبانی میں تطبیق پر اشارہ فرمایا ہے اور یہ دو امور میں سے ایک ہے۔
اول تو یہ کہ جو مذمت وارد ہے اسے اس کے انجام پر محمول کیا جائے، اگر انجام میں اس میں اس قدر مشغولیت ہو گئی کہ اسلامی فرائض سے بھی غافل ہونے لگا۔
دوسرے یہ بھی کہ فرائض کو تو ضائع نہیں کیا مگر حد اعتدال سے آگے تجاوز کرکے اس میں مشغول ہو گیا تو یہ پیشہ اچھا نہیں۔
اور ظاہر ہے کہ ابوامامہ والی حدیث ایسے ہی شخص پر وارد ہوگی جو خود اپنے طور پر اس میں مشغول ہو اور اس میں حد اعتدال سے تجاوز کرجائے۔
اور جس کے نوکر چاکر کام انجام دیتے ہوں اور حفاظت کے لیے آلات زراعت اس کے گھر میں رکھے جائیں تو ذم سے وہ شخص مراد نہ ہوگا۔
حدیث ذم عموم پر بھی محمول کی جاسکتی ہے کہ کاشتکاروں کو بسااوقات ادائے مالیہ کے لیے حکام کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور دواؤد نے کہا کہ یہ ذم اس کے لیے ہے جو دشمن سے قریب ہو کہ وہ کھیتی باڑی میں مشغول رہ کر دشمن سے بے خوف ہو جائے گا اور ایک دشمن ان کے اوپر چڑھ بیٹھے گا۔
پس ان کے لیے ضروری ہے کہ سپاہ گری میں مشغول رہیں اور حاجت کی اشیاءسے دوسرے لوگ ان کی مدد کریں۔
زراعت باغبانی ایک بہترین فن ہے۔
بہت سے انبیاء، اولیاء، علماءزراعت پیشہ رہے ہیں۔
زمین میں قدرت نے اجناس اور پھلوں سے جو نعمتیں پوشیدہ رکھی ہیں ان کا نکالنا یہ زراعت پیشہ اور باغبان حضرات ہی کا کام ہے۔
اور جاندار مخلوق کے لیے جو اجناس اور چارے کی ضرورت ہے اس کا مہیا کرنے والا بعونہ تعالیٰ ایک زراعت پیشہ کاشتکار ہی ہو سکتا ہے۔
قرآن مجید میں مختلف پہلوؤں سے ان فنون کا ذکر آیا ہے۔
سورۃ بقرۃ میں ہل جوتنے والے بیل کا ذکر ہے۔
خلاصہ یہ کہ اس فن کی شرافت میں کوئی شبہ نہیں ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ زراعت پیشہ قومیں زیادہ تر مسکینی اور غربت اور ذلت کا شکار رہتی ہیں۔
پھر ان کے سروں پر مالیانے کا پہاڑ ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ بسااوقات ان کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔
احادیث متعلقہ مذمت میں یہی پہلو ہے۔
اگر یہ نہ ہو تو یہ فن بہت قابل تعریف اور باعث رفع درجات دارین ہے۔
آج کے دور میں اس فن کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔
جب کہ آج غذائی مسئلہ بنی نوع انسان کے لیے ایک اہم ترین اقتصادی مسئلہ بن گیا ہے۔
ہر حکومت زیادہ سے زیادہ اس فن پر توجہ دے رہی ہے۔
ذلت سے مراد یہ ہے کہ حکام ان سے پیسہ سے وصول کرنے میں ان پر طرح طرح کے ظلم توڑیں گے۔
حافظ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔
اکثر ظلم کا شکار کاشتکار لوگ ہی بنتے ہیں۔
بعض نے کہا ذلت سے یہ مراد ہے کہ جب رات دن کھیتی باڑی میں لگ جائیں گے تو سپاہ گری اور فنون جنگ بھول جائیں گے اور دشمن ان پر غالب ہوجائے گا۔
علامہ نووی احادیث زراعت کے ذیل فرماتے ہیں:
فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَضِيلَةُ الْغَرْسِ وَفَضِيلَةُ الزَّرْعِ وَأَنَّ أجر فاعلى ذلك مستمر مادام الْغِرَاسُ وَالزَّرْعُ وَمَا تَوَلَّدَ مِنْهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَدِ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي أَطْيَبِ الْمَكَاسِبِ وَأَفْضَلِهَا فَقِيلَ التِّجَارَةُ وَقِيلَ الصَّنْعَةُ بِالْيَدِ وَقِيلَ الزِّرَاعَةُ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَقَدْ بَسَطْتُ إِيضَاحَهُ فِي آخِرِ بَابِ الْأَطْعِمَةِ مِنْ شَرْحِ الْمُهَذَّبِ وَفِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَيْضًا أَنَّ الثَّوَابَ وَالْأَجْرَ فِي الْآخِرَةِ مُخْتَصٌّ بِالْمُسْلِمِينَ وَأَنَّ الْإِنْسَانَ يُثَابُ عَلَى مَا سُرِقَ مِنْ مَالِهِ أَوْ أَتْلَفَتْهُ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ وَنَحْوُهُمَا (نووی)
یعنی ان احادیث میں درخت لگانے اور کھیتی کرنے کی فضیلت وارد ہے اور یہ کہ کاشتکار اور باغبان کا ثواب ہمیشہ جاری رہتا ہے جب تک بھی اس کی وہ کھیتی یا درخت رہتے ہیں۔
ثواب کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہ سکتا ہے۔
علماءکا اس بارے میں اختلاف ہے کہ بہترین کسب کون سا ہے۔
کہا گیا ہے کہ تجارت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دستکاری بہترین کسب ہے اور کہا گیا ہے کہ بہترین کسب کھیتی باڑی ہے اور یہی صحیح ہے۔
اور میں نے باب الاطعمہ شرح مہذب میں اس کو تفصیل سے لکھا ہے اور ان احادیث میں یہ بھی ہے کہ آخرت کا اجر و ثواب مسلمانوں ہی کے لیے خاص ہے اور یہ بھی ہے کہ کاشتکار کی کھیتی میں سے کچھ چوری ہو جائے یا جانور پرندے کچھ اس میں نقصان کر دیں تو ان سب کے بدلے کاشتکار کو ثواب ملتا ہے۔
یا اللہ! مجھ کو اور میرے بچوں کو ان احادیث کا مصداق بنائیو۔
جب کہ اپنا آبائی پیشہ کاشتکاری ہی ہے۔
اور یا اللہ! اپنی برکتوں سے ہمیشہ نوازیو اور ہر قسم کی ذلت، مصیبت، پریشانی، تنگ حالی سے بچائیو، آمین ثم آمین
حضرت امام بخاری ؒنے منعقدہ باب میں احادیث آمدہ در مدح زراعت و در ذم زراعت میں تطبیق پیش فرمائی ہے۔
جس کا خلاصہ یہ کہ کھیتی باڑی اگر حد اعتدال میں کی جائے کہ اس کی وجہ سے فرائض اسلام کی ادائیگی میں کوئی تساہل نہ ہو تو وہ کھیتی قابل تعریف ہے۔
جس کی فضیلت حدیث واردہ میں نقل ہوئی ہے۔
اور اگر کھیتی باڑی میں اس قدر مشغولیت ہو جائے کہ ایک مسلمان اپنے دینی فرائض سے بھی غافل ہو جائے تو پھر وہ کھیتی قابل تعریف نہیں رہتی۔
هَذَا مِنْ إِخْبَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُغَيَّبَاتِ لِأَنَّ الْمُشَاهَدَ الْآنَ أَنَّ أَكْثَرَ الظُّلْمِ إِنَّمَا هُوَ عَلَى أَهْلِ الْحَرْثِ وَقَدْ أَشَارَ الْبُخَارِيُّ بِالتَّرْجَمَةِ إِلَى الْجَمْعِ بَيْنَ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ وَالْحَدِيثِ الْمَاضِي فِي فَضْلِ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ وَذَلِكَ بِأَحَدِ أَمْرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُحْمَلَ مَا وَرَدَ مِنَ الذَّمِّ عَلَى عَاقِبَةِ ذَلِكَ وَمَحَلُّهُ مَا إِذَا اشْتَغَلَ بِهِ فَضَيَّعَ بِسَبَبِهِ مَا أُمِرَ بِحِفْظِهِ وَإِمَّا أَنْ يُحْمَلَ عَلَى مَا إِذَا لَمْ يُضَيِّعْ إِلَّا أَنَّهُ جَاوَزَ الْحَدَّ فِيهِ وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّ كَلَامَ أَبِي أُمَامَةَ مَحْمُولٌ عَلَى مَنْ يَتَعَاطَى ذَلِكَ بِنَفْسِهِ أَمَّا مَنْ لَهُ عُمَّالٌ يَعْمَلُونَ لَهُ وَأَدْخَلَ دَارَهُ الْآلَةَ الْمَذْكُورَةَ لِتُحْفَظَ لَهُمْ فَلَيْسَ مُرَادًا وَيُمْكِنُ الْحَمْلُ عَلَى عُمُومِهِ فَإِنَّ الذُّلَّ شَامِلٌ لِكُلِّ مَنْ أَدْخَلَ عَلَى نَفْسِهِ مَا يَسْتَلْزِمُ مُطَالبَة آخر لَهُ وَلَا سِيمَا إِذْ كَانَ الْمُطَالِبُ مِنَ الْوُلَاةِ وَعَنِ الدَّاوُدِيِّ هَذَا لِمَنْ يَقْرُبُ مِنَ الْعَدُوِّ فَإِنَّهُ إِذَا اشْتَغَلَ بِالْحَرْثِ لَا يَشْتَغِلُ بِالْفُرُوسِيَّةِ فَيَتَأَسَّدُ عَلَيْهِ الْعَدُوُّ فَحَقُّهُمْ أَنْ يَشْتَغِلُوا بِالْفُرُوسِيَّةِ وَعَلَى غَيْرِهِمْ إِمْدَادُهُمْ بِمَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ (فتح الباري)
یعنی یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان خبروں میں سے ہے جن کو مشاہدہ نے بالکل صحیح ثابت کر دیا۔
کیوں کہ اکثر مظالم کا شکار کاشتکار ہی ہوتے چلے آرہے ہیں اور حضرت امام بخاری ؒ نے باب سے حدیث ابی امامہ اور حدیث سابقہ بابت فضیلت زراعت و باغبانی میں تطبیق پر اشارہ فرمایا ہے اور یہ دو امور میں سے ایک ہے۔
اول تو یہ کہ جو مذمت وارد ہے اسے اس کے انجام پر محمول کیا جائے، اگر انجام میں اس میں اس قدر مشغولیت ہو گئی کہ اسلامی فرائض سے بھی غافل ہونے لگا۔
دوسرے یہ بھی کہ فرائض کو تو ضائع نہیں کیا مگر حد اعتدال سے آگے تجاوز کرکے اس میں مشغول ہو گیا تو یہ پیشہ اچھا نہیں۔
اور ظاہر ہے کہ ابوامامہ والی حدیث ایسے ہی شخص پر وارد ہوگی جو خود اپنے طور پر اس میں مشغول ہو اور اس میں حد اعتدال سے تجاوز کرجائے۔
اور جس کے نوکر چاکر کام انجام دیتے ہوں اور حفاظت کے لیے آلات زراعت اس کے گھر میں رکھے جائیں تو ذم سے وہ شخص مراد نہ ہوگا۔
حدیث ذم عموم پر بھی محمول کی جاسکتی ہے کہ کاشتکاروں کو بسااوقات ادائے مالیہ کے لیے حکام کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور دواؤد نے کہا کہ یہ ذم اس کے لیے ہے جو دشمن سے قریب ہو کہ وہ کھیتی باڑی میں مشغول رہ کر دشمن سے بے خوف ہو جائے گا اور ایک دشمن ان کے اوپر چڑھ بیٹھے گا۔
پس ان کے لیے ضروری ہے کہ سپاہ گری میں مشغول رہیں اور حاجت کی اشیاءسے دوسرے لوگ ان کی مدد کریں۔
زراعت باغبانی ایک بہترین فن ہے۔
بہت سے انبیاء، اولیاء، علماءزراعت پیشہ رہے ہیں۔
زمین میں قدرت نے اجناس اور پھلوں سے جو نعمتیں پوشیدہ رکھی ہیں ان کا نکالنا یہ زراعت پیشہ اور باغبان حضرات ہی کا کام ہے۔
اور جاندار مخلوق کے لیے جو اجناس اور چارے کی ضرورت ہے اس کا مہیا کرنے والا بعونہ تعالیٰ ایک زراعت پیشہ کاشتکار ہی ہو سکتا ہے۔
قرآن مجید میں مختلف پہلوؤں سے ان فنون کا ذکر آیا ہے۔
سورۃ بقرۃ میں ہل جوتنے والے بیل کا ذکر ہے۔
خلاصہ یہ کہ اس فن کی شرافت میں کوئی شبہ نہیں ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ زراعت پیشہ قومیں زیادہ تر مسکینی اور غربت اور ذلت کا شکار رہتی ہیں۔
پھر ان کے سروں پر مالیانے کا پہاڑ ایسا خطرناک ہوتا ہے کہ بسااوقات ان کو ذلیل کرکے رکھ دیتا ہے۔
احادیث متعلقہ مذمت میں یہی پہلو ہے۔
اگر یہ نہ ہو تو یہ فن بہت قابل تعریف اور باعث رفع درجات دارین ہے۔
آج کے دور میں اس فن کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔
جب کہ آج غذائی مسئلہ بنی نوع انسان کے لیے ایک اہم ترین اقتصادی مسئلہ بن گیا ہے۔
ہر حکومت زیادہ سے زیادہ اس فن پر توجہ دے رہی ہے۔
ذلت سے مراد یہ ہے کہ حکام ان سے پیسہ سے وصول کرنے میں ان پر طرح طرح کے ظلم توڑیں گے۔
حافظ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔
اکثر ظلم کا شکار کاشتکار لوگ ہی بنتے ہیں۔
بعض نے کہا ذلت سے یہ مراد ہے کہ جب رات دن کھیتی باڑی میں لگ جائیں گے تو سپاہ گری اور فنون جنگ بھول جائیں گے اور دشمن ان پر غالب ہوجائے گا۔
علامہ نووی احادیث زراعت کے ذیل فرماتے ہیں:
فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَضِيلَةُ الْغَرْسِ وَفَضِيلَةُ الزَّرْعِ وَأَنَّ أجر فاعلى ذلك مستمر مادام الْغِرَاسُ وَالزَّرْعُ وَمَا تَوَلَّدَ مِنْهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَدِ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي أَطْيَبِ الْمَكَاسِبِ وَأَفْضَلِهَا فَقِيلَ التِّجَارَةُ وَقِيلَ الصَّنْعَةُ بِالْيَدِ وَقِيلَ الزِّرَاعَةُ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَقَدْ بَسَطْتُ إِيضَاحَهُ فِي آخِرِ بَابِ الْأَطْعِمَةِ مِنْ شَرْحِ الْمُهَذَّبِ وَفِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَيْضًا أَنَّ الثَّوَابَ وَالْأَجْرَ فِي الْآخِرَةِ مُخْتَصٌّ بِالْمُسْلِمِينَ وَأَنَّ الْإِنْسَانَ يُثَابُ عَلَى مَا سُرِقَ مِنْ مَالِهِ أَوْ أَتْلَفَتْهُ دَابَّةٌ أَوْ طَائِرٌ وَنَحْوُهُمَا (نووی)
یعنی ان احادیث میں درخت لگانے اور کھیتی کرنے کی فضیلت وارد ہے اور یہ کہ کاشتکار اور باغبان کا ثواب ہمیشہ جاری رہتا ہے جب تک بھی اس کی وہ کھیتی یا درخت رہتے ہیں۔
ثواب کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہ سکتا ہے۔
علماءکا اس بارے میں اختلاف ہے کہ بہترین کسب کون سا ہے۔
کہا گیا ہے کہ تجارت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دستکاری بہترین کسب ہے اور کہا گیا ہے کہ بہترین کسب کھیتی باڑی ہے اور یہی صحیح ہے۔
اور میں نے باب الاطعمہ شرح مہذب میں اس کو تفصیل سے لکھا ہے اور ان احادیث میں یہ بھی ہے کہ آخرت کا اجر و ثواب مسلمانوں ہی کے لیے خاص ہے اور یہ بھی ہے کہ کاشتکار کی کھیتی میں سے کچھ چوری ہو جائے یا جانور پرندے کچھ اس میں نقصان کر دیں تو ان سب کے بدلے کاشتکار کو ثواب ملتا ہے۔
یا اللہ! مجھ کو اور میرے بچوں کو ان احادیث کا مصداق بنائیو۔
جب کہ اپنا آبائی پیشہ کاشتکاری ہی ہے۔
اور یا اللہ! اپنی برکتوں سے ہمیشہ نوازیو اور ہر قسم کی ذلت، مصیبت، پریشانی، تنگ حالی سے بچائیو، آمین ثم آمین
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2321]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2321
حدیث حاشیہ:
حدیث میں مذکورہ ذلت ورسوائی اس بنا پر ہوگی کہ جب انسان دن رات کھیتی باڑی میں لگا رہے گا، جہاد اور اس کے لوازمات سے غافل ہوجائے گا تو دشمن کا غالب آجانا یقینی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”جب تم بیع عینہ کرنے لگوگے، بیلوں کی دمیں پکڑ لوگے، کھیتی باڑی ہی میں مگن ہوجاؤ گے اور جہاد کو نظر انداز کردوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کردے گا، پھر اس ذلت کو تم سے اس وقت تک دور نہیں کرے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ۔
“ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 316/5)
الغرض ترک جہاد اور کھیتی باڑی میں مصروفیت سے دشمن غالب ہوگا اور انھیں اپنا محکوم بنالے گا جو محض ذلت ورسوائی ہے،اس لیے کھیتی باڑی اور اس طرح کی دوسری چیزوں میں حد سے دلچسپی اور مصروفیت مناسب نہیں۔
اس کے مفاسد وخطرات سے انسان کو بچنا چاہیے۔
حدیث میں مذکورہ ذلت ورسوائی اس بنا پر ہوگی کہ جب انسان دن رات کھیتی باڑی میں لگا رہے گا، جہاد اور اس کے لوازمات سے غافل ہوجائے گا تو دشمن کا غالب آجانا یقینی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
”جب تم بیع عینہ کرنے لگوگے، بیلوں کی دمیں پکڑ لوگے، کھیتی باڑی ہی میں مگن ہوجاؤ گے اور جہاد کو نظر انداز کردوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کردے گا، پھر اس ذلت کو تم سے اس وقت تک دور نہیں کرے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ۔
“ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 316/5)
الغرض ترک جہاد اور کھیتی باڑی میں مصروفیت سے دشمن غالب ہوگا اور انھیں اپنا محکوم بنالے گا جو محض ذلت ورسوائی ہے،اس لیے کھیتی باڑی اور اس طرح کی دوسری چیزوں میں حد سے دلچسپی اور مصروفیت مناسب نہیں۔
اس کے مفاسد وخطرات سے انسان کو بچنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2321]
Sahih Bukhari Hadith 2321 in Urdu
محمد بن زياد الألهاني ← صدي بن عجلان الباهلي