🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب قبول الهدية:
باب: ہدیہ کا قبول کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2576
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ، أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟ فَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ: كُلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ، وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، ضَرَبَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَهُمْ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا انہوں نے محمد بن زیاد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے یہ تحفہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا کہ تحفہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی ہاتھ بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے کھاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2576]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی کھانا لایا جاتا تو اس کے متعلق دریافت فرماتے: یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ اپنے اصحاب سے فرماتے: تم کھاؤ لیکن خود نہ کھاتے۔ اور اگر کہا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ بڑھا کر اپنے اصحاب کے ہمراہ اسے تناول فرماتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث
Newمحمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← محمد بن زياد القرشي
ثقة
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← إبراهيم بن طهمان الهروي
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المنذر الحزامي ← معن بن عيسى القزاز
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2576
إذا أتي بطعام سأل عنه أهدية أم صدقة فإن قيل صدقة قال لأصحابه كلوا ولم يأكل وإن قيل هدية ضرب بيده فأكل معهم
صحيح مسلم
2491
إذا أتي بطعام سأل عنه فإن قيل هدية أكل منها وإن قيل صدقة لم يأكل منها
سنن أبي داود
4512
يقبل الهدية ولا يأكل الصدقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2576 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2576
حدیث حاشیہ:
صدقے کو اس لیے نہ کھاتے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آپ کے آل کے لیے حلال نہیں اور اس میں بہت سے مصالح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر تھے جن کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اموال صدقات کو اپنے اور اپنی آل کے لیے کھانا ناجائز قرار دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2576]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2576
حدیث حاشیہ:
اس روایت میں ہدیے کا کھانا کھانے کا ذکر ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے، البتہ صدقہ وغیرہ آپ اس لیے نہیں کھاتے تھے کہ یہ آپ کے لیے اور آپ کی آل اولاد کے لیے جائز نہیں تھا۔
اس میں بہت سے مصالح آپ کے پیش نظر تھے جن کی بنا پر آپ نے اموالِ صدقات کو اپنے اور اپنی آل کے لیے حرام قرار دیا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2576]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4512
آدمی نے کسی کو زہر پلایا کھلا دیا اور وہ مر گیا تو اس سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، نیز اسی سند سے ایک اور مقام پر ابوہریرہ کے ذکر کے بغیر صرف ابوسلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور صدقہ نہیں کھاتے تھے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ کو خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفہ میں بھیجی جس میں اس نے زہر ملا رکھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا اور لوگوں نے بھی کھایا، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: اپنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4512]
فوائد ومسائل:
زہر آلود بکری کھلا نے والی عورت کی بابت دو طرح کی روایات اس باب میں آئی ہیں۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ نبی ؐ نے اسے معاف کر دیا اور بعض میں ہے کہ اسے قصاصًا قتل کردیا گیا۔
مولانا صفی الرحمن مبارک پوری منةالمنعم شرح صحيح مسلم میں اس کی بابت یوں رقم طراز ہیں کہ نبی ؐ نے اس عورت کو پہلے معاف کردیا تھا، لیکن جب آپ کے ساتھ کھانے میں شریک حضرت بشرین براء رضی اللہ زہر کی وجہ سے شہید ہو گئے تو پھر بعد میں آپ نے اس عورت کو قصاص میں قتل کر دیا۔

2: صدقے کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کے مالوں کی میل ہوتا ہے جو نبی ؐ اور آپ کی آل لے لئے حلال نہ تھا۔
ایسے ہی معروف مستحقین کے علاوہ اغنیا کو بھی صدقہ لینا جائز نہیں۔
رسول اللہ ؐ کی وفات کے وقت زیر خورانی کا اثر عود کر آیا تھا، اس طرح آپ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔

3: یہ حدیث اس بات کی بھی دلالت کرتی ہے کہ رسول قطعا غیب نہیں جانتے تھے اور آپ ؐ کے صحابہ کرام ہی کو علم غیب تھا، اگر ان کو علم ہوتا کہ جو گوشت وہ کھا رہے ہیں زہر آلود ہے تو وہ ہرگز اسے نہ کھاتے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4512]

Sahih Bukhari Hadith 2576 in Urdu