Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
181. باب كتابة الإمام الناس:
باب: خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ رَجُلٍ فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهُوَ خَائِفٌ"، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَ مِائَةٍ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَا بَيْنَ سِتِّ مِائَةٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے (مذکورہ بالا سند کے ساتھ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی (ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا) اور ابومعاویہ نے (اپنی روایت میں) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاويةثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن ميمون المروزي، أبو حمزة
Newمحمد بن ميمون المروزي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← محمد بن ميمون المروزي
ثقة حافظ
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله
Newحذيفة بن اليمان العبسي ← عبد الله بن عثمان العتكي
صحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3060
اكتبوا لي من تلفظ بالإسلام من الناس فكتبنا له ألفا وخمس مائة رجل فقلنا نخاف ونحن ألف وخمس مائة فلقد رأيتنا ابتلينا حتى إن الرجل ليصلي وحده وهو خائف
صحيح مسلم
377
أحصوا لي كم يلفظ الإسلام قال فقلنا يا رسول الله أتخاف علينا ونحن ما بين الست مائة إلى السبع مائة قال إنكم لا تدرون لعلكم أن تبتلوا قال فابتلينا حتى جعل الرجل منا لا يصلي إلا سرا
سنن ابن ماجه
4029
أحصوا لي كل من تلفظ بالإسلام قلنا يا رسول الله أتخاف علينا ونحن ما بين الست مائة إلى السبع مائة فقال رسول الله إنكم لا تدرون لعلكم أن تبتلوا قال فابتلينا حتى جعل الرجل منا ما يصلي إلا سرا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3060 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3060
حدیث حاشیہ:
ابو معاویہ کی روایت کو امام مسلم اور احمد اور نسائی اور ابن ماجہ نے نکالا ہے۔
وسلك الداودي الشارح طریق الجمع فقال لعلهم کتبوا مرات في مواطن یعنی تعداد میں اختلاف اس لئے ہوا کہ شاید ان لوگوں نے کئی جگہ مردم شماری کی ہو‘ بعض نے یہ بھی کہا کہ ڈیڑھ ہزار سے مراد مرد عورت بچے غلام جو بھی مسلمان ہوئے سب مراد ہیں اور چھ سو سے سات سو تک خاص مرد مراد ہیں اور پانچ سو سے خالص لڑنے والے مراد ہیں۔
وفي الحدیث مشروعیة کتابة دواوین الجیوش وقد یتعین ذالك عند الاحتیاج إلی تمیز من یصلح للمقاتلة بمن لا یصلح (فتح)
حذیفہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تو ہم ڈیڑھ ہزار کا شمار پورے ہونے پر بے ڈر ہو گئے تھے اور اب ہزاروں لاکھوں مسلمان موجود ہیں‘ یہ حق بات کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
کوئی کوئی تو ڈر کے مارے اپنی نماز اکیلے پڑھ لیتا ہے اور منہ سے کچھ نہیں نکال سکتا۔
یہ حذیفہ ؓنے اس زمانے میں کہا جب ولید بن عقبہ حضرت عثمان ؓ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا اور نمازیں اتنی دیر کر کے پڑھتا کہ معاذ اللہ۔
آخر بعض متقی لوگ اوّل وقت نماز پڑھ لیتے پھر جماعت میں بھی اس کے ڈر سے شریک ہو جاتے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3060]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3060
فہم الحدیث:
حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ عہد نبوی میں تو ہم ڈیڑھ ہزار ہونے پر بے خوف ہو گئے تھے اور اب ہزاروں لاکھوں ہونے کے باوجود حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ تو ڈر کے مارے نماز بھی گھر میں ہی پڑھ لیتے ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس وقت کہی جب ولید بن عقبہ، عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا اور نمازیں اتنی دیر سے پڑھتا کہ معاذ اللہ۔ آخر بعض متقی لوگ اول وقت نماز پڑھ لیتے اور پھر اس کے ڈر سے جماعت میں بھی شریک ہو جاتے۔ [ماخوذ از شرح بخاري، مولانا داود راز تحت الحديث 3060]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 90]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3060
حدیث حاشیہ:

حضرت حذیفہ ؓنے یہ بات اس وقت کہی جب حضرت عثمان ؓ کی طرف سے ولید بن عقبہ ؓ کو کوفہ گورنر مقرر کیا گیا اور وہ نماز پڑھنے میں بہت تاخیر کرتے تو تقوی شعار لوگ اول وقت اکیلے ہی نماز ادا کر لیتے۔
لیکن ہمارے دور میں تو حکمران نماز کا نام ہی نہیں لیتے۔
حضرت حذیفہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تو ہم ڈیڑھ ہزار ہونے پر نڈر اور بے خوف ہو گئے تھے اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں اس کے باوجود حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں اور بعض توڈر کے مارے اکیلے ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔
اور منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
واللہ المستعان۔

تعداد میں اختلاف کی وجہ اس لیے ہے کہ شاید کئی ایک مقامات پر مردم شماری کی گئی ہو۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے مراد مرد عورتیں اور بچے سب مسلمان ہیں اور چھ سو سے سات سو تک صرف مرد مراد ہیں۔
اور پانچ سو سے مراد وہ فوجی جوان ہیں جو میدان میں لڑنے والے تھے واللہ اعلم۔
امام بخاری ؒنے اس کو مردم شماری کے جواز کی دلیل بنایا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3060]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4029
آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ۔‏‏‏‏ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4029]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مردم شماری کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افرادی قوت کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی پر اس قدر توکل تھا کہ چھ سات سو کی تعداد ہوتے ہوئے خود کو ناقابل شکست سمجھتے تھے۔

(3)
زیادہ تعداد کے باوجود آزمائش آ سکتی ہے۔
اس لیے اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4029]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 377
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اسلام کے نام لیوا لوگوں کی تعداد گن کر بتاؤ۔ تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا آپ کو ہمارے بارے میں اندیشہ ہے؟ اور ہماری تعداد چھ سات سو کے درمیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھیں پتہ نہیں شاید تم آزمائش میں ڈال دیے جاؤ۔ پھر ہم آزمائش میں مبتلا ہو گئے، یہاں تک کہ ہم میں بعض لوگ نماز بھی چھپ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:377]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی وفات کے بعد ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ بعض لوگوں کو نماز بھی (جو ایمان کی ظاہری اور محسوس علامت ہے)
چھپ کر پڑھنا پڑتی تھی،
کیونکہ نماز کو امن وجنگ کسی حالت میں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا،
اور نماز ہی اسلام وایمان کی دائمی نشانی اور علامت ہے،
جو روزانہ پانچ بار ادا کی جاتی ہے۔
کیونکہ بعض گورنر نماز بہت دیر کرکے پڑھاتے تھے،
اس لیے بعض لوگ اپنے طور پر پہلے نماز پڑھ لیتے تھے،
پھر جماعت میں بھی شریک ہوجاتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 377]