صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما ذكر من درع النبى صلى الله عليه وسلم وعصاه وسيفه وقدحه وخاتمه:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصاء مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، پیالہ اور انگوٹھی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كِسَاءً مُلَبَّدًا، وَقَالَتْ: فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار (تہمد) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ (اور موٹا پیوند دار کہتے ہو) ہمیں نکال کر دکھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3108]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر ہمیں دکھائی اور فرمایا: ”اس میں (اس کو اوڑھے ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کی گئی تھی۔“ ایک روایت کے مطابق راویِ حدیث ابو بردہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک موٹا تہبند نکال کر ہمیں دکھایا جو یمن میں بنتا تھا اور ایک چادر جس کو تم «مُلَبَّدَة» (موٹی یا پیوند لگی) کہتے ہو۔ (فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔) [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3108
| كساء ملبدا وقالت في هذا نزع روح النبي قال أخرجت إلينا عائشة إزارا غليظا مما يصنع باليمن وكساء من هذه التي يدعونها الملبدة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3108 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3108
حدیث حاشیہ:
قسطلانی نے کہا شاید آپ نے بنظر تواضع یا اتفاقاً اس کملی کو اوڑھ لیا ہوگا نہ یہ کہ آپ قصداً پیوند کی ہوئی کملی اوڑھا کرتے‘ کیونکہ عادت شریفہ یہ تھی کہ جو کپڑا میسر آتا اس کو پہنتے کپڑے بہت صاف شفاف‘ ستھرے اجلے پہنتے۔
مگر بناؤ سنگار سے پرہیز فرمایا کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے‘ آپ کا پیالہ‘ آپ کی انگوٹھی ان سب کو بطور یادگار محفوظ رکھا گیا‘ مگر تقسیم نہیں کیا گیا۔
جس سے ثابت ہواکہ صحابہ وخلفائے عظام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد نَحنُ معشرُ الأنبیاءِ لا نُورثُ کو پورے پورے طور پر ملحوظ نظر رکھا صلی اللہ علیہ وسلم ۔
قسطلانی نے کہا شاید آپ نے بنظر تواضع یا اتفاقاً اس کملی کو اوڑھ لیا ہوگا نہ یہ کہ آپ قصداً پیوند کی ہوئی کملی اوڑھا کرتے‘ کیونکہ عادت شریفہ یہ تھی کہ جو کپڑا میسر آتا اس کو پہنتے کپڑے بہت صاف شفاف‘ ستھرے اجلے پہنتے۔
مگر بناؤ سنگار سے پرہیز فرمایا کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے‘ آپ کا پیالہ‘ آپ کی انگوٹھی ان سب کو بطور یادگار محفوظ رکھا گیا‘ مگر تقسیم نہیں کیا گیا۔
جس سے ثابت ہواکہ صحابہ وخلفائے عظام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد نَحنُ معشرُ الأنبیاءِ لا نُورثُ کو پورے پورے طور پر ملحوظ نظر رکھا صلی اللہ علیہ وسلم ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3108]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3108
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جو کپڑا میسر آتا اسے زیب تین فرماتے، البتہ آپ کا لباس صاف ستھرا، اجلا اور شفاف ہوتا تھا، لیکن بناؤسنگار سے پرہیز کیا کر تے تھے۔
پیوند لگی چادر کبھی بہ نظر تواضع یا اتفاقاً پہنی ہوگی، خوامخواہ پھٹا پرانا لباس پہننا آپ کی شان کے شایان نہ تھا، بہرحال آپ کے لباس کو بطور یاد گار محفوظ کیا گیا، اسے تقسیم کرکے اس میں وراثت کا اصول جاری نہیں کیاگیا، آخرکار وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہوگیا۔
2۔
ان آثار شریفہ کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس خوش قسمت انسان کے پاس آپ کی کوئی نشانی تھی، اس نے وصیت کردی تھی کہ مرنے کے بعد قبر میں اسے اس کے ساتھ ہی فن کردیا جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عورت نے اپنے ہاتھ سے چادر کی اور آپ کو بطور تحفہ پیش کی۔
آپ نے اسے قبو ل کرتے ہوئے زیب تن فرمایا۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ نے اس خواہش کے پیش نظر کہ وہ ان کا کفن ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔
بالآخر وہی چادر ان کا کفن بنی۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1277)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قمیص رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو پہنایاگیا، اسے بھی بطورکفن قبر میں دفن کردیا گیا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1270)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جو کپڑا میسر آتا اسے زیب تین فرماتے، البتہ آپ کا لباس صاف ستھرا، اجلا اور شفاف ہوتا تھا، لیکن بناؤسنگار سے پرہیز کیا کر تے تھے۔
پیوند لگی چادر کبھی بہ نظر تواضع یا اتفاقاً پہنی ہوگی، خوامخواہ پھٹا پرانا لباس پہننا آپ کی شان کے شایان نہ تھا، بہرحال آپ کے لباس کو بطور یاد گار محفوظ کیا گیا، اسے تقسیم کرکے اس میں وراثت کا اصول جاری نہیں کیاگیا، آخرکار وہ بھی وقت کے ساتھ ختم ہوگیا۔
2۔
ان آثار شریفہ کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس خوش قسمت انسان کے پاس آپ کی کوئی نشانی تھی، اس نے وصیت کردی تھی کہ مرنے کے بعد قبر میں اسے اس کے ساتھ ہی فن کردیا جائے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عورت نے اپنے ہاتھ سے چادر کی اور آپ کو بطور تحفہ پیش کی۔
آپ نے اسے قبو ل کرتے ہوئے زیب تن فرمایا۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ نے اس خواہش کے پیش نظر کہ وہ ان کا کفن ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔
بالآخر وہی چادر ان کا کفن بنی۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1277)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قمیص رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو پہنایاگیا، اسے بھی بطورکفن قبر میں دفن کردیا گیا۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1270)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3108]
Sahih Bukhari Hadith 3108 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق