🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب صفة الشمس والقمر:
باب: (سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ) سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3200
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ لنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن فیروز داناج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند دونوں تاریک (بے نور) ہو جائیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3200]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥عبد الله بن فيروز الداناج
Newعبد الله بن فيروز الداناج ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن المختار الأنصاري، أبو إسحاق، أبو إسماعيل
Newعبد العزيز بن المختار الأنصاري ← عبد الله بن فيروز الداناج
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد العزيز بن المختار الأنصاري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3200
الشمس والقمر مكوران يوم القيامة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3200 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3200
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے قیامت کے روز شمس کو بے نور کر کے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة: 242/1)
آگ میں پھینک کر انھیں عذاب دینا مقصود نہیں بلکہ ان کی عبادت کرنے والوں کو شر مسار کیا جائے گا کہ جن کی تم عبادت کرتے تھے ان کا حال دیکھ لو۔
اور یہ ضروری نہیں کہ جو دوزخ میں ہوگا اسے ضرور عذاب ہو گا کیونکہ دوزخ میں عذاب دینے والے فرشتے اور آگ کو تیز کرنے والے پتھر بھی ہوں گے۔
حالانکہ فرشتے معصوم ہیں اورپتھر وغیرہ بے جان اور بے قصور ہیں۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ چونکہ ان کی پیدائش آگ سے ہوئی تھی اس لیے آخر کار انھیں آگ ہی میں لوٹا دیا جائے گا۔
(فتح الباري: 361/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3200]

Sahih Bukhari Hadith 3200 in Urdu