🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة، وفضلها رضي الله عنها:
باب: خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3815
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ. ح حَدَّثَنِي صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ".
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی عبدہ نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا (دوسری سند) اور مجھ سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اپنے زمانے میں) مریم علیہاالسلام سب سے افضل عورت تھیں اور (اس امت میں) خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سب سے افضل ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3815]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن جعفر الهاشمي، أبو جعفر
Newعبد الله بن جعفر الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥صدقة بن الفضل المروزي، أبو الفضل
Newصدقة بن الفضل المروزي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي بن أبي طالب الهاشمي ← صدقة بن الفضل المروزي
صحابي
👤←👥عبد الله بن جعفر الهاشمي، أبو جعفر
Newعبد الله بن جعفر الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3815
خير نسائها مريم خير نسائها خديجة
صحيح البخاري
3432
خير نسائها مريم ابنة عمران خير نسائها خديجة
صحيح مسلم
6271
خير نسائها مريم بنت عمران خير نسائها خديجة بنت خويلد
جامع الترمذي
3877
خير نسائها خديجة بنت خويلد خير نسائها مريم ابنة عمران
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3815 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3815
حدیث حاشیہ:

ایک حدیث میں ہے کہ آدمیوں میں باکمال تو بہت ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں عقل ودین کا کمال صرف مریم ؑ اورآسیہ ؑ کوملا ہے۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3411)
اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ مریم ؑ اورسیدہ آسیہ ؑ کامقام برابرہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سیدہ مریم ؑ سیدہ آسیہ ؑ سے افضل ہیں۔

جہاں تک سیدہ خدیجہ ؓ اور سید ہ مریم ؑ کی باہمی فضیلت کا معاملہ ہے تو اس میں راجح موقف یہ ہے کہ سیدہ خدیجہ ؓ اس امت کی عورتوں میں سے افضل ہیں اور سیدہ مریم ؑ اپنے دور کی عورتوں سے افضل ہیں۔
(فتح الباري: 169/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3815]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6271
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ میں بتایا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے سنا،"اپنے دور کی بہترین عورت،مریم بنت عمران تھی اور اپنے دورکی بہترین عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔"ابوکریب کہتے ہیں،وکیع نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6271]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا،
انتہائی شریف النفس،
سمجھدار،
سلیقہ شعار اور آپ کی غمگسار محبوب بیوی تھیں،
جس سے آپ نے پچیس سال کی عمر میں،
جبکہ ان کی عمر چالیس تھی اور شوہر دیدہ تھیں،
شادی کی اور ان کی زندگی میں کسی اور عورت سے شادی نہیں کی اور حضرت ابراہیم کے سوا آپ کی تمام اولاد انہیں کے بطن سے تھی اور آپ کی ہمدرد و خیرخواہی اور جانثاری میں ان کا درجہ سب پر فائق ہے،
جس طرح حضرت مریم اپنے دور کی تمام عورتوں سے افضل اور برتر تھیں،
اس طرح حضرت خدیجہ اپنے عہد کی تمام عورتوں سے بہتر تھیں،
لیکن حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھن تو ابھی چھوٹی تھیں،
گویا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دور میں ابھی قابل ذکر ہی نہ تھیں،
انہیں جو امتیاز و شرف حاصل ہوا،
وہ حضرت خدیجہ کے عہد کے بعد سے تعلق رکھتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6271]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3432
3432. حضر ت علی ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی عورتوں میں سے سب سے بہتر مریم ؑ بنت عمران ہیں۔ اورسب خواتین سے بہتر حضرت خدیجہ ؓ ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3432]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت مریم ؑ بنت عمران کی فضیلت بیان ہوئی ہے لیکن اس فضیلت کے باوجود آپ نبیہ نہیں ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
آپ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے وہ آدمی ہی ہوتے تھے۔
(النمل: 44)
حضرت مریم ؑعورت ہونے کی وجہ سے نبیہ نہیں ہیں کیونکہ حضرات انبیاء ؑ تمام کے تمام آدمیوں سے آئے ہیں۔
نسائی میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جنت کی عورتوں میں سے افضل سیدہ خدیجہ ؓ، فاطمہ ؓ، مریم ؑ اور آسیہ ہیں۔
(السنن الکبری للنسائی: 93/5، طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
نیز مستدرک حاکم میں حضرت حذیفہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے بشارت دی کہ حضرت فاطمہ ؓ جنت میں عورتوں کی سردار ہوں گی۔
(المستدرك علی الصحیحین: 164/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3432]