🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه إذا كان النوح من سنته:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1289
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ:إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی عورت پر ہوا جس کے مرنے پر اس کے گھر والے رو رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ رو رہے ہیں حالانکہ اس کو قبر میں عذاب کیا جا رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥أبو بكر بن عمرو الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمرو الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← أبو بكر بن عمرو الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3978
ليعذب بخطيئته وذنبه وإن أهله ليبكون عليه الآن
صحيح البخاري
1289
ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها
صحيح مسلم
2153
تبكون وإنه ليعذب
صحيح مسلم
2154
الميت يعذب في قبره ببكاء أهله عليه
صحيح مسلم
2156
الميت ليعذب ببكاء الحي فقالت عائشة يغفر الله
جامع الترمذي
1006
ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها
سنن النسائى الصغرى
1858
الله يزيد الكافر عذابا ببعض بكاء أهله عليه
سنن النسائى الصغرى
1857
ليبكون عليها وإنها لتعذب
سنن ابن ماجه
1595
أهلها يبكون عليها وإنها تعذب في قبرها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1289 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1289
حدیث حاشیہ:
اس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں یعنی اس کے گھر والوں کے رونے سے یا اس کے کفر کی وجہ سے دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ تو اس رنج میں ہیں کہ ہم سے جدائی ہوگئی اور اس کی جان عذاب میں گرفتار ہے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے حضرت عمر ؓ کی اگلی حدیث کی تفسیر کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ میت ہے جو کافر ہے۔
لیکن حضرت عمر ؓ نے اس کو عام سمجھا اور اسی لیے صہیب ؓ پر انکار کیا۔
(وحیدي)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1289]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1595
میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1595]
اردو حاشہ:
فائدہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ پس ماندگان کے رونے سے میت کو عذاب نہیں ہوتا۔
کیونکہ ایک کے عمل کی سزا دوسرے کو نہیں دی جا سکتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک قانون کے طور پر نہیں فرمائی تھی۔
کہ ہر رونے والے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔
بلکہ یہودیوں کو اپنے مرنے والی پر روتے دیکھ کر فرمایا تھا کہ ان کے رونے کا اسے کیا فائدہ؟ وہ تو اپنے گناہوں کی سزا بھگت ہی رہی ہے۔
یہ رویئں یا نہ رویئں برابر ہے۔
ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ رائے اپنی جگہ درست ہے کہ رونے پیٹنے کا میت کو کیا فائدہ؟ تاہم حدیث کا وہ مفہوم زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
کہ ان کے رونے سے بھی اسے عذاب ہوتا ہے۔
جبکہ وہ اپنى زندگی میں اسے اچھا سمجھتا رہا ہواس کی تلقین کرتا رہا ہو یا ا س کی وصیت کی ہو اگر یہ صورت حال نہ ہو تو پھر ان کے رونے پیٹنے اور بین کرنے سے اسے افسوس تو ہوتا ہے۔
کہ جو موقع عبرت حاصل کرنے کا تھا۔
اس موقع پر بھی وہ گناہ میں ملوث ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں۔ (باب قول النبي صلي الله عليه وسلم يعذب الميت ببعض بكاء اهله عليه ...اذا كان النوح من سنته.......،) (صحیح البخاري، الجنائز، باب: 32)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا بیان کہ میت کو اس کے بعض گھر والوں کے بعض رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
یعنی جب رونا پیٹنا اس (کے خاندان)
کی رسم ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1595]