🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب غزوة ذات الرقاع:
باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4136
وَقَالَ أَبَانُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَسَيْفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ: تَخَافُنِي؟ قَالَ:" لَا" , قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ:" اللَّهُ" , فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا , وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ , وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ , وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ: اسْمُ الرَّجُلِ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ وَقَاتَلَ فِيهَا مُحَارِبَ خَصَفَةَ.
اور ابان نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے۔ کہ ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے۔ وہ درخت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کہ آپ وہاں آرام فرمائیں۔ بعد میں مشرکین میں سے ایک شخص آیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی۔ اس نے وہ تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ لی اور پوچھا ‘ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اس نے پوچھا آج میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ! پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ڈانٹا دھمکایا اور نماز کی تکبیر کہی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک جماعت کو دو رکعت نماز خوف پڑھائی جب وہ جماعت (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے) ہٹ گئی تو آپ نے دوسری جماعت کو بھی دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت نماز ہوئی۔ لیکن مقتدیوں کی صرف دو دو رکعت اور مسدد نے بیان کیا ‘ ان سے ابوعوانہ نے ‘ ان سے ابوبسر نے کہ اس شخص کا نام (جس نے آپ پر تلوار کھینچی تھی) غورث بن حارث تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قبیلہ محارب خصفہ سے جنگ کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4136]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس آئے تو وہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیا۔ اس دوران مشرکین میں سے ایک مشرک آیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی۔ اس نے آپ کی تلوار کو نیام سے نکال کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهُ» اللہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ صورت حال دیکھ کر اسے خوب ڈانٹ ڈپٹ کی۔ پھر نماز کھڑی کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے ہٹ گئے تو دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات اور لوگوں کی دو، دو رکعتیں تھیں۔ (راوی حدیث) مسدد نے ابو عوانہ سے، انہوں نے ابو بشر سے روایت کی کہ اس آدمی کا نام غورث بن حارث اور اس غزوے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محارب خصفہ سے قتال کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4136 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4136
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں وضاحت ہے کہ غورث بن حارث نامی دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔
اس دوران میں حضرت جبرئیل ؑ نے اس کے سینے پر تھپڑ مارا تو تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تلوار کو اپنے ہاتھ میں لے کرفرمایا:
بتا اب تجھے کون بتاسکتا ہے؟ اس نے کہا کہ کوئی نہیں بچائے گا۔
آپ نے فرمایا:
جا اور اپنا راستہ لے۔
آپ نے اسے چھوڑدیا اور کچھ نہ کہا۔
جاتے وقت اس نے کہا کہ آپ مجھ سےبہتر ثابت ہوئے ہیں۔

اس قصے سے معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے نرمی کرتے تھے تاکہ وہ اسلام قبول کرلیں۔
واقدی نے کہا ہے کہ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سے متاثر ہوکرمسلمان ہوگیا اور وہ اپنی قوم میں گیا تو بہت سے لوگ اس کے ہاتھوں مسلمان ہوئے۔
(فتح الباري: 534/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4136]

Sahih Bukhari Hadith 4136 in Urdu