صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب غزوة ذات الرقاع:
باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔
حدیث نمبر: 4135
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي , عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ , فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ , فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ , فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ , وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ , قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً , ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ , فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ , فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا , فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللَّهُ" , فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے محمد بن ابی عتیق نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سنان بن ابی سنان دولی نے ‘ انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں غزوہ کے لیے گئے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی واپس ہوئے۔ قیلولہ کا وقت ایک وادی میں آیا ‘ جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اتر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم درختوں کے سائے کے لیے پوری وادی میں پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی تھوڑی دیر ہمیں سوئے ہوئے ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم جب خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار (مجھ ہی پر) کھینچ لی تھی ‘ میں اس وقت سویا ہوا تھا ‘ میری آنکھ کھلی تو میری ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا ‘ تمہیں میرے ہاتھ سے آج کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! اب دیکھو یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوئی سزا نہیں دی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4135]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے نجد کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس لوٹا اور ایک ایسی وادی میں دوپہر کا وقت ہو گیا جس میں خاردار درخت بہت زیادہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں پڑاؤ کیا جبکہ ہم لوگ وادی میں پھیل گئے اور درختوں کا سایہ تلاش کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ببول کے ایک درخت کے نیچے محو استراحت ہوئے اور اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی ہی دیر سوئے ہوں گے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آواز دی۔ ہم آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سو رہا تھا کہ اس نے میری تلوار سونت لی، میں بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ یہ کہنے لگا: اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے کہا: «اللهُ» ”اللہ“، اور دیکھو یہ بیٹھا ہوا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4135]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2913
| من يمنعك قلت الله فشام السيف فها هو ذا جالس ثم لم يعاقبه |
صحيح البخاري |
4135
| غزا مع رسول الله قبل نجد فلما قفل رسول الله قفل معه فأدركتهم القائلة في واد كثير العضاه فنزل رسول الله وتفرق الناس في العضاه يستظلون بالشجر ونزل رسول الله تحت سمرة فعلق بها سيفه ق |
صحيح البخاري |
4139
| غزونا مع رسول الله غزوة نجد فلما أدركته القائلة وهو في واد كثير العضاه فنزل تحت شجرة واستظل بها وعلق سيفه فتفرق الناس في الشجر يستظلون وبينا نحن كذلك إذ دعانا رسول الله فجئنا فإذا أعرابي قاعد بين يديه فقال إن هذا أتا |
صحيح البخاري |
2910
| من يمنعك مني فقلت الله ثلاثا ولم يعاقبه وجلس |
صحيح مسلم |
1949
| الله يمنعني منك قال فتهدده أصحاب رسول الله فأغمد السيف وعلقه قال فنودي بالصلاة فصلى بطائفة ركعتين ثم تأخروا وصلى بالطائفة الأخرى ركعتين قال فكانت لرسول الله أربع ركعات وللقوم ركعتان |
صحيح مسلم |
5950
| من يمنعك مني قال قلت الله ثم قال في الثانية من يمنعك مني قال قلت الله قال فشام السيف فها هو ذا جالس ثم لم يعرض له رسول الله |
Sahih Bukhari Hadith 4135 in Urdu
سنان بن أبي سنان الديلي ← جابر بن عبد الله الأنصاري