🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. باب وفاة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4465
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعثت کے بعد) مکہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی دس سال تک آپ کا قیام رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4465]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4465
لبث بمكة عشر سنين ينزل عليه القرآن وبالمدينة عشرا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4465 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4465
حدیث حاشیہ:
یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہےجبکہ اس روایت میں دس سال کا ذکر ہے؟ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آنے کے بعد تین سال تک سلسلہ وحی منقطع رہا جسے شمار نہیں کیا گیا یعنی فترت وحی کے بعد دس سال تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے اور آپ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔
اس کے بعد کبھی انقطاع کی نوبت نہیں آئی۔
عربوں کے ہاں یہ رواج ہے کہ وہ دہائیوں کے بعدکسور کو شامل نہیں کرتے اور اس اعتبار سے تین کو شمار نہیں کیا گیا۔
بہر حال نبوت کے بعد مکہ زندگی تیرہ برس پر محیط ہے۔
(فتح الباري: 189/8)
فائدہ:
۔
جمہور محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کا آغاز ہوا تو آپ کی عمر چالیس برس تھی اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ آپ مدینہ طیبہ میں دس برس رہے۔
حضرت عائشہ ؓ کی روایت کے مطابق آپ کی کل عمر تریسٹھ سال ہوئی، تو نبوت کے بعد مکی زندگی تیرہ سال بنتی ہے۔
اس بنا پر اس سے پہلی حدیث میں جو مکی دس سال کہی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں فترت وحی کو شامل نہیں کیا گیا، جو تین سال ہے یعنی فترت وحی سمیت تیرہ برس اور اس کے بغیر دس برس جیسا کہ حدیث 4446۔
میں ہے۔
(فتح الباري: 189/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4465]