🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب: {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج} :
باب: آیت کی تفسیر ”تو پھر جو شخص حج کو عمرہ کے ساتھ ملا کر فائدہ اٹھائے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4518
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ"، قَالَ رَجُلٌ: بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمران ابی بکر نے، ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (حج میں) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ (حج) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی (لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے) یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4518]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حج تمتع کی آیت تو کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج تمتع کیا۔ قرآن کریم میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی اور نہ مرتے دم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ اب جو شخص اپنی رائے سے جو چاہے کہتا رہے۔ محمد (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں (کیونکہ ان کی رائے حج تمتع کے خلاف تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء
Newعمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عمران بن مسلم المنقري، أبو بكر
Newعمران بن مسلم المنقري ← عمران بن ملحان العطاردي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عمران بن مسلم المنقري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4518
أنزلت آية المتعة في كتاب الله ففعلناها مع رسول الله ولم ينزل قرآن يحرمه ولم ينه عنها حتى مات
صحيح مسلم
2978
تمتعنا مع رسول الله ولم ينزل فيه القرآن
صحيح مسلم
2976
جمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب الله ولم ينه عنها نبي الله قال رجل فيها برأيه ما شاء
صحيح مسلم
2977
جمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب ولم ينهنا عنهما رسول الله قال فيها رجل برأيه ما شاء
صحيح مسلم
2980
نزلت آية المتعة في كتاب الله يعني متعة الحج وأمرنا بها رسول الله ثم لم تنزل آية تنسخ آية متعة الحج ولم ينه عنها رسول الله حتى مات قال رجل برأيه بعد ما شاء
سنن النسائى الصغرى
2740
تمتع وتمتعنا معه
سنن النسائى الصغرى
2729
تمتعنا مع رسول الله
سنن النسائى الصغرى
2727
جمع رسول الله بين حج وعمرة ثم توفي قبل أن ينهى عنها وقبل أن ينزل القرآن بتحريمه
سنن النسائى الصغرى
2728
جمع بين حج وعمرة ثم لم ينزل فيها كتاب ولم ينه عنهما النبي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4518 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4518
حدیث حاشیہ:
ایک صاحب سے مراد حضرت عمرؓ ہیں، جن کی رائے تمتع کے خلاف تھی۔
حضرت عمران بن حصینؓ نے حضرت عمر ؓ کے اس خیال کو ان کی رائے قرار دیا اور قرآن وحدیث کے خلاف اسے تسلیم نہیں کیا۔
اس سے مقلدین کو سبق لینا چاہئیے۔
جب حضرت عمرؓ کی رائے جو خلفائے راشدین میں سے ہیں قرآن وحدیث کے خلاف تسلیم کے لائق نہ ٹھہری تو وہ دوسرے مجتہدین کس گنتی وشمار میں ہیں۔
ان کی رائے جو حدیث کے خلاف ہو تسلیم کے قابل نہیں ہے۔
خود ان ہی نے ایسی وصیت فرمائی ہے۔
لفظ متعہ سے حج تمتع مراد ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4518]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4518
حدیث حاشیہ:

حج کی تین قسمیں ہیں:
الف۔
افراد:
صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے۔
ب۔
قرآن:
حج وعمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرکے احرام باندھا جائے۔
ج۔
تمتع:
اس میں بھی حج وعمرہ دونوں کی نیت ہوتی ہے لیکن پہلے صرف عمرہ کیا جاتا ہے، اس کے بعد آٹھ ذوالحج کو حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔
حج قران اور حج تمتع میں ایک ہدی بھی قربانی دینا ہوتی ہے۔
حضرت عمران حج تمتع سے متعلق اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں۔

حضرت عمرؓحج تمتع سے منع کرتے تھے۔
اس کی وجہ اس کا حرام ہونا نہیں بلکہ ان کے پیش نظر یہ مصلحت تھی کہ لوگ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ ادا کرکے خانہ کعبہ کو چھوڑ کر نہ جائیں بلکہ حج اور عمرے کے لیے الگ الگ سفرکرکے برابر بیت اللہ میں آتے رہیں۔
چونکہ آپ کا یہ موقف کتاب وسنت کے خلاف تھا، اس لیے حضرت عمران بن حصین ؓ نے اس موقف کو ان کی ذاتی رائے قراردیا اور اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
اس سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہیے جو کسی خاص امام کی تقلید کو ضروری قرار دیتے ہیں، جب خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کی رائے مطلقاً قابل تسلیم نہیں تو دوسرے مجتہدین کس شمار میں ہیں؟ حالانکہ خود مجتہدین نے وصیت فرمائی ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف ہماری رائے کو تسلیم نہ کیا جائے۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4518]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2728
حج قِران کا بیان۔
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2728]
اردو حاشہ:
(1) ایک شخص سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ اس صورت سے روکا کرتے تھے۔ باقی بالتبع آتے ہیں۔
(2) یہ حدیث دلیل ہے کہ قرآن کا حکم حدیث سے منسوخ ہو سکتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2728]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2729
حج قِران کا بیان۔
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور (دوسرے) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہر [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2729]
اردو حاشہ:
اکثر صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تمتع کیا تھا۔ خود آپ نے قران فرمایا تھا، لہٰذا دونوں جائز ہیں۔ البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ ان میں سے افضل کون سا طریقہ ہے۔ (تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2729]

Sahih Bukhari Hadith 4518 in Urdu