🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب: {إذا جاءك المؤمنات يبايعنك} :
باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ مَعَ بِلَالٍ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ سورة الممتحنة آية 12 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَدْرِي الْحَسَنُ مَنْ هِيَ، قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ وَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا (ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترے گویا اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن‏» یعنی اے نبی! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ! ان کے سوا اور کسی عورت نے (شرم کی وجہ سے) کوئی بات نہیں کہی۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا لیا۔ عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4895]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عید فطر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سب کے ساتھ پڑھی ہے، وہ سب خطبہ سے پہلے نماز پڑھاتے، پھر اس کے بعد خطبہ سناتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ خطبہ کے بعد منبر سے اترے گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے، پھر ان کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس آئے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 12] اے نبی! جب آپ کے پاس اہل ایمان خواتین ان امور پر بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گی، نہ چوری کریں گی، نہ زنا کریں گی، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی۔۔ اس آیت سے فراغت کے بعد آپ نے عورتوں سے پوچھا: کیا تم ان شرائط پر قائم ہوتی ہو؟ ایک عورت کے سوا کسی نے بھی جواب نہ دیا۔ اس عورت نے کہا: ہاں اللہ کے رسول! (راوی حدیث) حسن کو معلوم نہیں کہ وہ کون تھیں! اس کے بعد آپ نے ان سے فرمایا: تم صدقہ کیا کرو۔ پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کپڑا بچھا دیا اور عورتیں اس میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4895]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥الحسن بن مسلم الخزاعي
Newالحسن بن مسلم الخزاعي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← الحسن بن مسلم الخزاعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥هارون بن معروف المروزي، أبو علي
Newهارون بن معروف المروزي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحيم القرشي، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الرحيم القرشي ← هارون بن معروف المروزي
ثقة حافظ أمين
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4895
يأيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4895 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4895
حدیث حاشیہ:

جن جرائم کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے ان کے ارتکاب کا عرب معاشرے میں عام رواج تھا چنانچہ اولاد کے قتل کی عربوں میں کئی صورتیں تھیں ننگ و عار کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا۔
اسی طرح فقر و فاقے کی وجہ سے بھی وہ اپنی اولاد کو موت کی نیند سلا دیتے تھے۔

واضح رہے کہ اس میں اسقاط حمل بھی شامل ہے خواہ وہ جائز حمل کا اسقاط ہو یا ناجائز حمل کا گرا دینا ہو۔

اسی طرح بہتان گھڑنے کی بھی کئی صورتیں تھیں مثلاً:
کوئی عورت دوسری پر کسی غیر مرد سے آشنائی کا الزام لگا دے جسے تہمت کہا جاتا ہے دوسرے یہ کہ بچہ تو کسی دوسرے مرد کا جنے لیکن شوہر کو یہ یقین دلائے کہ یہ تیرا ہی ہے تیسرے یہ کہ کسی عورت کی اولاد لے کر مکر و فریب کے ساتھ اسے اپنی طرف منسوب کرے۔
روایات میں ہے کہ اس عہد و پیمان کے بعد آپ فرماتے:
جہاں تمھارے بس میں ہواور تمھارے لیے ممکن ہو۔
عورتوں نے عرض کی:
اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے خود ہم سے بڑھ کر مہربان ہیں۔
(مسند أحمد: 357/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4895]

Sahih Bukhari Hadith 4895 in Urdu