یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب قوله: {إنها ترمي بشرر كالقصر} :
باب: آیت کی تفسیر ”وہ دوزخ بڑے بڑے محل جیسے آگ کے انگارے پھینکے گی“۔
حدیث نمبر: 4932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ، قَالَ:" كُنَّا نَرْفَعُ الْخَشَبَ بِقَصَرٍ ثَلَاثَةَ أَذْرُعِ، أَوْ أَقَلَّ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے (تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4932]
حضرت عبد الرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو آیت ﴿إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ﴾ [سورة المرسلات: 32] کی تفسیر کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: ”ہم تین تین ہاتھ یا اس سے بھی کم مقدار کی لکڑیاں سردیوں کے دنوں میں اٹھا کر رکھ لیتے تھے اور ہم ایسی لکڑیوں کو «الْقَصْرُ» کہتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعي عبد الرحمن بن عابس النخعي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عابس النخعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله محمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري | ثقة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4932 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4932
حدیث حاشیہ:
اس سے مقصود آیت کریمہ کی تفسیر کرنا ہے کہ قیامت کے دن جہنم کی چنگاریاں اتنی بڑی بڑی ہوں گی جس طرح بڑے بڑے شہتیر ہوتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے لیکن عام معنی یہ کیے جاتے ہیں کہ قیامت کے دن جہنم بڑے بڑے محلات کی طرح چنگاریاں پھینکے گی۔
یہ معنی اس صورت میں ہیں جب "قَصر" کو صاد کی جزم کے ساتھ پڑھا جائے، البتہ صاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں وہی معنی ہیں جنھیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
اس سے مقصود آیت کریمہ کی تفسیر کرنا ہے کہ قیامت کے دن جہنم کی چنگاریاں اتنی بڑی بڑی ہوں گی جس طرح بڑے بڑے شہتیر ہوتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے لیکن عام معنی یہ کیے جاتے ہیں کہ قیامت کے دن جہنم بڑے بڑے محلات کی طرح چنگاریاں پھینکے گی۔
یہ معنی اس صورت میں ہیں جب "قَصر" کو صاد کی جزم کے ساتھ پڑھا جائے، البتہ صاد کے فتحہ کے ساتھ پڑھنے کی صورت میں وہی معنی ہیں جنھیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4932]
Sahih Bukhari Hadith 4932 in Urdu
عبد الرحمن بن عابس النخعي ← عبد الله بن العباس القرشي