صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ قَوْلِهِ: {كَأَنَّهُ جِمَالاَتٌ صُفْرٌ} :
باب: آیت کی تفسیر ”گویا کہ وہ انگارے پیلے پیلے رنگ والے اونٹ ہیں“۔
حدیث نمبر: 4933
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ، قَالَ:" كُنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ، كَأَنَّهُ جِمَالَاتٌ صُفْرٌ حِبَالُ السُّفُنِ، تُجْمَعُ حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر.» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4933]
عبد الرحمن بن عابس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو آیت ﴿تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ﴾ [سورة المرسلات: 32] کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: ”ہم تین تین ہاتھ یا اس سے بھی زیادہ لمبی لکڑیاں سردی کے موسم کے لیے اٹھا کر رکھ لیتے تھے اور ہم ایسی لکڑیوں کو «الْقَصْر» کہتے تھے۔“ اور آیت ﴿كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ﴾ [سورة المرسلات: 33] سے مراد ”کشتی کی وہ رسیاں ہیں جنہیں جوڑ جوڑ کر رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ آدمی کی کمر کے برابر ہو جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4933]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
13663
الجامع الكامل حدیث نمبر :
13663
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعي عبد الرحمن بن عابس النخعي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عابس النخعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4933 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4933
حدیث حاشیہ:
1۔
آیت کریمہ میں جمالات کو دوطرح سے پڑھا گیا ہے:
ایک جیم کے کسرہ (زیر)
کے ساتھ جو جَمَلُ کی جمع ہے۔
اس کے معنی ہیں:
اونٹ۔
اس صورت میں آیت کریمہ کے معنی یہ ہوں گے کہ جب بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھیلیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہوگا گویا زرد اورسیاہ رنگ کے اونٹ اچھل کود کر رہے ہیں۔
2۔
اسے جیم کے ضمہ (پیش)
کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔
اس صورت میں معنی ہوں گے:
بڑی بڑی رسیاں جن سے کشتیوں کو باندھا جاتا ہے، وہ بڑی بڑی چنگاریاں جب پھٹیں گی تو فضا میں یوں محسوس ہوگا، جیسا کہ زرد رنگ کی لمبی لمبی رسیاں اڑ رہی ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ آپ نے اس کے علاوہ دوسرے معنی کی طرف التفات ہی نہیں کیا۔
واللہ اعلم۔
1۔
آیت کریمہ میں جمالات کو دوطرح سے پڑھا گیا ہے:
ایک جیم کے کسرہ (زیر)
کے ساتھ جو جَمَلُ کی جمع ہے۔
اس کے معنی ہیں:
اونٹ۔
اس صورت میں آیت کریمہ کے معنی یہ ہوں گے کہ جب بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھیلیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہوگا گویا زرد اورسیاہ رنگ کے اونٹ اچھل کود کر رہے ہیں۔
2۔
اسے جیم کے ضمہ (پیش)
کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔
اس صورت میں معنی ہوں گے:
بڑی بڑی رسیاں جن سے کشتیوں کو باندھا جاتا ہے، وہ بڑی بڑی چنگاریاں جب پھٹیں گی تو فضا میں یوں محسوس ہوگا، جیسا کہ زرد رنگ کی لمبی لمبی رسیاں اڑ رہی ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ آپ نے اس کے علاوہ دوسرے معنی کی طرف التفات ہی نہیں کیا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4933]
Sahih Bukhari Hadith 4933 in Urdu
عبد الرحمن بن عابس النخعي ← عبد الله بن العباس القرشي