صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: Q4939
قَالَ مُجَاهِدٌ: كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ: يَأْخُذُ كِتَابَهُ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ، وَسَقَ: جَمَعَ مِنْ دَابَّةٍ، ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ: لَا يَرْجِعَ إِلَيْنَا.
مجاہد نے کہا کہ «كتابه بشماله» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا نامہ اعمال اپنی پیٹھ پیچھے سے لے گا۔ «وما وسق» جانور وغیرہ جن جن چیزوں پر رات آتی ہے۔ «أن لن يحور» یہ کہ نہیں لوٹے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «يوعون» سے مراد ہے وہ چھپاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4939]
حدیث نمبر: 4939
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4939]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4939 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4939
حدیث حاشیہ:
1۔
قرآن مجید میں بد اعمال لوگوں سے سخت حساب لینے کے لیےسوء الحساب کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ ان کا بری طرح حساب لیا جائے گا۔
آسان حساب کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے کسی حصے میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
”اے اللہ! میرا حساب آسان فرمانا۔
“ میں نے نماز سے فراغت کے بعد عرض کی آسان حساب کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور اسے معاف کر دے گا۔
“ (مسند أحمد: 48/6)
2۔
ایک حدیث میں ہے۔
”اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے پردے میں لے کر اسے کہے گا۔
”کیا تونے فلاں گناہ کیا تھا؟ کیا تو فلاں گناہ کو پہچانتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔
میں نے ان پر دنیا میں پردہ ڈالے رکھا۔
آج میں تجھے معاف کرتا ہوں پھراسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا۔
“ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4685)
1۔
قرآن مجید میں بد اعمال لوگوں سے سخت حساب لینے کے لیےسوء الحساب کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں کہ ان کا بری طرح حساب لیا جائے گا۔
آسان حساب کی وضاحت ایک دوسری حدیث سے ہوتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے کسی حصے میں یہ دعا پڑھتے تھے۔
”اے اللہ! میرا حساب آسان فرمانا۔
“ میں نے نماز سے فراغت کے بعد عرض کی آسان حساب کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور اسے معاف کر دے گا۔
“ (مسند أحمد: 48/6)
2۔
ایک حدیث میں ہے۔
”اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے پردے میں لے کر اسے کہے گا۔
”کیا تونے فلاں گناہ کیا تھا؟ کیا تو فلاں گناہ کو پہچانتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔
میں نے ان پر دنیا میں پردہ ڈالے رکھا۔
آج میں تجھے معاف کرتا ہوں پھراسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دے دیا جائے گا۔
“ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4685)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4939]
حدیث نمبر: 4939M
ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4939M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة إمام حافظ |
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق