🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب: {لتركبن طبقا عن طبق} :
باب: آیت کی تفسیر کہ ”تم ضرور ہی ایک حالت سے دوسری حالت کو چڑھتے جاؤ گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4940
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ سورة الانشقاق آية 19، حَالًا بَعْدَ حَالٍ، قَالَ: هَذَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سعید بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، کہا مجھ کو ابوبشر جعفر بن ایاس نے خبر دی، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لتركبن طبقا عن طبق‏» یعنی تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسرے حالت پر پہنچنا ہے۔ بیان کیا کہ یہاں مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ آپ کو کامیابی رفتہ رفتہ حاصل ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4940]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت ﴿لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ﴾ [سورة الانشقاق: 19] یقینا تم ایک حالت سے دوسری حالت میں پہنچو گے۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: تم پر ایک حالت کے بعد دوسری حالت طاری ہو گی۔ یہ بات تمہارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4940]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥جعفر بن أبي وحشية اليشكري، أبو بشر
Newجعفر بن أبي وحشية اليشكري ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥سعيد بن النضر البغدادي، أبو عثمان
Newسعيد بن النضر البغدادي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4940
لتركبن طبقا عن طبق حالا بعد حال
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4940 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4940
حدیث حاشیہ:
یعنی چند روز کافروں سے مغلوب رہو گے، پھر برابری کے ساتھ ان سے لڑتے رہوگے۔
پھر غالب ہوگے یا سب آدمیوں کی طرف اشارہ ہے پہلے شیر خوار پھر بچہ پھر جوان پھر بوڑھے ہوتے ہو۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر اس قراءت پر ہے۔
جب لترکبن فتحہ باء کے ساتھ پڑھیں اور دوسری تفسیر مشہور قراءت پر ہے یعنی لتر کبن بہ ضمہ باء۔
ابن مسعود نے کہا لترکبن صیغہ مونث غائب کا ہے اور ضمیر آسمان کی طرف پھرتی ہے، یعنی آسمان طرح طرح کے رنگ بدلے گا۔
(وحیدی)
آیت قرآنی اپنے عموم کے لحاظ سے بہت سی گہرائیاں لئے ہوئے ہے۔
جس میں آج کے ترقی یافتہ دور کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جو بنی نوع انسانی کو بہت سے ادوار طے کرنے کے بعد حاصل ہوا ہے اور ابھی آئندہ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اور کون کون سے دور وجود میں آنے والے ہیں۔
آج کے اختراعات نے انسان کو کائنات کی جس قدر مخفی دولتیں عطا کی ہیں ضروری تھا کہ قرآن پاک میں ان سب پر اشارے کئے جاتے ہیں۔
جس کے لئے آیت کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
یہ اس حقیقت پر دال ہے کہ قرآن مجید ایک ایسا آسمانی الہام ہے جو ہر زمانے اورہر ہر دور میں انسان کی رہنمائی کرتا رہے گا اور زیادہ سے زیادہ اسے ترقیات پر لے جائے گا تاکہ صحیح معنوں میں انسان خلیفۃ اللہ بن کر اور راز ہائے قدرت کو دریافت کر کے اور اس کائنات کو اس کے شایان شان آباد کرکے اپنی خلافت کے فرائض ادا کر سکے۔
سچ ہے:
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ صدق اللہ تبارك و تعالیٰ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4940]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4940
حدیث حاشیہ:
طبق کے اصل معنی شدت کے ہیں، یہاں اس سے مراد سختیاں ہیں جو قیامت کے دن واقع ہوں گی، یعنی اس روز تمھیں مصائب و آلام سے گزرنا ہو گا۔
دنیا میں بھی یہی نظام کار فرما ہے کہ انسان درجہ بدرجہ منزل بہ منزل اپنا سفرطے کرتا ہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی انسان کئی منازل طے کرنے پر مجبور ہو گا۔
اسے عذاب قبر یا ثواب قبر سے دو چار ہونا پڑے گا۔
اسی طرح اس نے اپنی آخری منزل جنت یا دوزخ پہنچ جانا ہے، یہ منازل طے کرنے میں وہ مجبور ہے۔
اس میں اس کےاختیار کوکوئی دخل نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4940]

Sahih Bukhari Hadith 4940 in Urdu