Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب كيف نزول الوحي وأول ما نزل:
باب: وحی کیونکر اتری اور سب سے پہلے کون سی آیت نازل ہوئی تھی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4982
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَابَعَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تَوَفَّاهُ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ".
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (ابراہیم بن سعد) نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا، مجھ سے انس بن مالک نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پے در پے وحی اتارتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبی زمانے میں تو بہت وحی اتری پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4982]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أنس بن مالك الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان
Newعمرو بن محمد الناقد ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4982
تابع على رسوله الوحي قبل وفاته حتى توفاه أكثر ما كان الوحي ثم توفي رسول الله بعد
صحيح مسلم
7524
أن الله تابع الوحي على رسول الله قبل وفاته حتى توفي وأكثر ما كان الوحي يوم توفي رسول الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4982 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4982
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ ابتدائی زمانہ نبوت میں تو سورۃ اقرأ اتر کر پھر ایک مدت تک وحی موقوف رہی اس کے بعد برابر پے درپے اترتی رہی پھر جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی عمر کے آخری حصہ میں بہت قرآن اترا کیونکہ اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا۔
معاملات اور مقدمات نبوت ہونے لگے تو قرآن بھی زیادہ اترا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4982]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4982
حدیث حاشیہ:

ابتدائی زمانہ نبوت میں تو سورہ علق کی ابتدائی آیات اترنے کے بعد ایک مدت تک وحی موقوف رہی۔
اس کے بعد وحی کا مسلسل سلسلہ شروع ہوا، پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے توضروریات زیادہ ہوئیں اوروحی کا نزول بھی زیادہ ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب لگاتار، متواتر اور زیادہ وحی نازل ہوئی کیونکہ فتح مکہ کے بعد کثرت سے وفود کا سلسلہ شروع ہوا جنھوں نے احکام و مسائل کے متعلق بہت سے سوال کیے جن کے جوابات بذریعہ وحی دیے گئے۔
جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا تومعاملات جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا تو معاملات و مقدمات کے پیش نظر قرآن کریم بھی زیادہ نازل ہوا، نیز مکہ مکرمہ میں نزول وحی کے دوران میں لمبی لمبی سورتیں نازل نہیں ہوئیں۔
ہجرت کے بعد لمبی سورتوں کا نزول ہوا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری وقت میں بہت زیادہ وحی نازل ہوئی۔
اس کیفیت کے اعتبار سے یہ حدیث عنوان کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے امام زہری نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا؟ تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ کی و فات سے پہلے بہت زیادہ وحی نازل ہوئی کیونکہ اس کی ضرورت بڑھ گئی تھی۔
(فتح الباري: 11/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4982]