🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب كفران العشير:
باب: عشیر کی ناشکری کی سزا عشیر خاوند کو کہتے ہیں عشیر شریک یعنی ساتھی کو بھی کہتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5198
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ". تَابَعَهُ أَيُّوبُ، وَسَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ.
ہم سے عثمان بن ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے عمران نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اکثر رہنے والے غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس کے اندر رہنے والی اکثر عورتیں تھیں۔ اس روایت کی متابعت ابوایوب اور سلم بن زریر نے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلم بن زرير العطاردي، أبو يونسصدوق حسن الحديث
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← سلم بن زرير العطاردي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد
Newعمران بن حصين الأزدي ← أيوب السختياني
صحابي
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء
Newعمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← عمران بن ملحان العطاردي
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو عمرو
Newعثمان بن عمر العبدي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3241
اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء اطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء
صحيح البخاري
6546
اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء اطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء
صحيح البخاري
5198
اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء اطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء
جامع الترمذي
2603
اطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5198 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5198
حدیث حاشیہ:
عورتوں کی اکثریت کا دوزخ میں ہونا ان کے داخل ہونے کے وقت ہے اور اس کا سبب خاوند کی ناشکری اور احسان فراموشی ہے۔
آخر کار مختلف سفارشوں سے انھیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔
عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کریں اور اپنے خاوندوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ بلکہ ان کی خدمت گزاری اور اطاعت شعاری کو اپنا نصب العین بنائیں۔
والله المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5198]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3241
3241. حضرت عمران بن حصین ؓسے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کردیکھا تو وہاں اکثریت فقراء کی تھی اور جہنم میں جھانکا تو وہاں عورتیں زیادہ تھیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3241]
حدیث حاشیہ:
جنت میں غریبوں سے موحد، متبع سنت غریب لوگ مراد ہیں جو دیندار اغنیاء سے کتنے ہی برس پہلے جنت میں داخل کردئیے جائیں گے اور دوزخ میں زیادہ عورتیں نظر آئیں، جو ناشکری اور لعن طعن کرنے والی آپس میں حسد اور بغض رکھنے والی ہوتی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3241]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3241
3241. حضرت عمران بن حصین ؓسے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کردیکھا تو وہاں اکثریت فقراء کی تھی اور جہنم میں جھانکا تو وہاں عورتیں زیادہ تھیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3241]
حدیث حاشیہ:

حدیث میں فقراء سے مراد موحد اورمتبع سنت غریب ہیں جو دیندار اغنیاء سے کتنے ہی برس پہلے جنت میں داخل کردیے جائیں گے۔
اس کی وجہ یہ ہوگی کہ دنیا میں انھیں اتنا مال میسر نہیں آیا جس کے سبب وہ بد اعمالیوں کی طرف مائل ہوتے کیونکہ کثرت مال گناہوں کا ذریعہ بنتے ہیں، نیز مال کی بہتات سے انسان کا دل سخت ہوجاتا ہے جو اسے ظلم وستم پر آمادہ کرتا ہے۔
اس بنا پر نادار لوگ ان آلائشوں سے محفوظ رہیں گے۔
اور جہنم میں عورتوں کی اکثریت اس لیے ہوگی کہ وہ عام طور پر لعن طعن کرنے والی اور ناشکرگزار ہوتی ہیں نیز آپس میں حسد و بغض رکھنا ان کی عادت ہے جو جہنم میں جانے کا باعث ہوگا۔
اس کے علاوہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں جلدی بے دین لوگوں کے جھانسے میں آجاتی ہیں کیونکہ زیب و زینت کی طرف ان کا میلان زیادہ ہوتا ہے۔
اگرانھیں آخرت کی طرف توجہ دلائی جائے تو کان نہیں دھرتیں۔

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ جنت موجود ہے تبھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات یہ مشاہدہ کیا ہو۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3241]