صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب وجوب النفقة على الأهل والعيال:
باب: مرد پر بیوی بچوں کا خرچ کرنا واجب ہے۔
حدیث نمبر: 5356
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہترین خیرات وہ ہے جسے دینے پر آدمی مالدار ہی رہے اور ابتداء ان سے کرو جو تمہاری نگرانی میں ہیں جن کے کھلانے پہنانے کے تم ذمہ دار ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب النفقات/حدیث: 5356]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عبد الرحمن بن خالد الفهمي، أبو خالد، أبو الوليد عبد الرحمن بن خالد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عبد الرحمن بن خالد الفهمي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥سعيد بن عفير الأنصاري، أبو عثمان سعيد بن عفير الأنصاري ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5356
| خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ابدأ بمن تعول |
صحيح البخاري |
5355
| أفضل الصدقة ما ترك غنى اليد العليا خير من اليد السفلى ابدأ بمن تعول |
صحيح البخاري |
1426
| خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ابدأ بمن تعول |
سنن أبي داود |
1676
| خير الصدقة ما ترك غنى أو تصدق به عن ظهر غنى ابدأ بمن تعول |
سنن النسائى الصغرى |
2535
| خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى اليد العليا خير من اليد السفلى ابدأ بمن تعول |
سنن النسائى الصغرى |
2545
| خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى ابدأ بمن تعول |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5356 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5356
حدیث حاشیہ:
یعنی اپنے اہل وعیال اور جملہ متعلقین اور مزدور وغیرہ جن کا کھانا تم نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔
اسی طرح قرابت دار بھی جو غرباء و مساکین ہوں پہلے ان کی خبر گیری کرنا دیگر فقراء و مساکین پر مقدم ہے۔
یعنی اپنے اہل وعیال اور جملہ متعلقین اور مزدور وغیرہ جن کا کھانا تم نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔
اسی طرح قرابت دار بھی جو غرباء و مساکین ہوں پہلے ان کی خبر گیری کرنا دیگر فقراء و مساکین پر مقدم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5356]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5356
حدیث حاشیہ:
اپنے اہل و عیال، متعلقین اور مزدور وغیرہ جن کا کھانا اور خرچہ وغیرہ تم نے اپنے ذمے لیا ہے، اسی طرح قرابت داروں میں سے جو فقیر و نادار ہوں پہلے ان کی خبر گیری کرنی چاہیے۔
یہ لوگ دوسرے فقراء و مساکین پر مقدم ہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان پر اس کے بیوی بچوں کا نان و نفقہ فرض ہے۔
اس سے دامن بچانا اور علیحدگی اختیار کرنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بیوی خود کمائے اور اسے کھلائے، اس سے گھر کا نظام تباہ ہو جاتا ہے اور بچوں کی تربیت میں بھی نقص رہ جاتا ہے۔
واللہ أعلم
اپنے اہل و عیال، متعلقین اور مزدور وغیرہ جن کا کھانا اور خرچہ وغیرہ تم نے اپنے ذمے لیا ہے، اسی طرح قرابت داروں میں سے جو فقیر و نادار ہوں پہلے ان کی خبر گیری کرنی چاہیے۔
یہ لوگ دوسرے فقراء و مساکین پر مقدم ہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان پر اس کے بیوی بچوں کا نان و نفقہ فرض ہے۔
اس سے دامن بچانا اور علیحدگی اختیار کرنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بیوی خود کمائے اور اسے کھلائے، اس سے گھر کا نظام تباہ ہو جاتا ہے اور بچوں کی تربیت میں بھی نقص رہ جاتا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5356]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1676
اگر آدمی اپنا پورا مال صدقہ کر دے تو کیسا ہے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا (یوں فرمایا) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1676]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا (یوں فرمایا) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1676]
1676. اردو حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ صدقہ کرنے کے بعد اگر انسان خود ہی اپنی بنیادی ضروریات کے پورا کرنے کےلئے دوسروں کا محتاج ہوجائے تو ایسا صدقہ ناپسندیدہ ہے۔ اس لئے بہترین صدقہ اسے قرار دیا گیا ہے کہ وہ دینے کے بعد انسان دوسروں کا محتاج نہ ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1676]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2535
مالداری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ صدقہ دینے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2535]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2535]
اردو حاشہ:
”غنی ہے۔“ خواہ وہ قلبی غنا ہو یا مالی۔ ایسا نہ ہو کہ صدقہ کرنے کے بعد وہ خود مانگنا شروع کر دے یا اس کے اہل خانہ محتاج ہو جائیں۔ ہر آدمی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا ایمان ویقین اور توکل نہیں رکھتا کہ سارا مال صدقہ کر دے۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ بعض اہل علم نے معنیٰ یہ کیے ہیں کہ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے ساتھ لینے والا غنی ہو جائے اور سوال کی حاجت نہ رہے۔ واللہ أعلم
”غنی ہے۔“ خواہ وہ قلبی غنا ہو یا مالی۔ ایسا نہ ہو کہ صدقہ کرنے کے بعد وہ خود مانگنا شروع کر دے یا اس کے اہل خانہ محتاج ہو جائیں۔ ہر آدمی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسا ایمان ویقین اور توکل نہیں رکھتا کہ سارا مال صدقہ کر دے۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ بعض اہل علم نے معنیٰ یہ کیے ہیں کہ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے ساتھ لینے والا غنی ہو جائے اور سوال کی حاجت نہ رہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2535]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2545
کون سا صدقہ افضل ہے؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ۱؎، اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2545]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ۱؎، اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2545]
اردو حاشہ:
پہلی حدیث میں افضل صدقے سے پہلی حالت کا بیان ہے اور اس میں افضل صدقے کے بعد والی حالت کا بیان ہے۔
پہلی حدیث میں افضل صدقے سے پہلی حالت کا بیان ہے اور اس میں افضل صدقے کے بعد والی حالت کا بیان ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2545]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5355
5355. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو دینے والے کو مال دار چھوڑے۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچھے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور خرچ کی ابتداء ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔“ عورت کا مطالبہ برحق ہے کہ مجھے کھانا دے یا طلاق دے کر فارغ کر۔ غلام کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو۔ بیٹا بھی کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ آپ مجھے کس کے حوالے کر رہے ہیں؟ لوگوں نے سیدہ ابو ہریرہ ؓ سے پوچھا: اے ابو ہریرہ!(حدیث کا آخری حصہ) آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ ابو ہریرہ کی اپنی سمجھ سے ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5355]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ حقوق اللہ کے بعد انسانی حقوق میں اپنے والد اورجملہ متعلقین کے حقوق کا ادا کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔
معلوم ہوا کہ حقوق اللہ کے بعد انسانی حقوق میں اپنے والد اورجملہ متعلقین کے حقوق کا ادا کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5355]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1426
1426. حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:”بہتر صدقہ وہ ہے جسے صدقہ کرنے کے بعد مال داری قائم رہے اور ان لوگوں سے صدقے کی ابتداء کرو جن کی عیال داری کرتے ہو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1426]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اپنے عزیزو اقرباء جملہ متعلقین اگر وہ مستحق ہیں تو صدقہ خیرات زکوٰۃ میں سب سے پہلے ان ہی کا حق ہے۔
اس لیے ایسے صدقہ کرنے والوں کو دوگنے ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اپنے عزیزو اقرباء جملہ متعلقین اگر وہ مستحق ہیں تو صدقہ خیرات زکوٰۃ میں سب سے پہلے ان ہی کا حق ہے۔
اس لیے ایسے صدقہ کرنے والوں کو دوگنے ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1426]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5355
5355. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو دینے والے کو مال دار چھوڑے۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچھے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور خرچ کی ابتداء ان سے کرو جن کی تم کفالت کرتے ہو۔“ عورت کا مطالبہ برحق ہے کہ مجھے کھانا دے یا طلاق دے کر فارغ کر۔ غلام کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو۔ بیٹا بھی کہہ سکتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ آپ مجھے کس کے حوالے کر رہے ہیں؟ لوگوں نے سیدہ ابو ہریرہ ؓ سے پوچھا: اے ابو ہریرہ!(حدیث کا آخری حصہ) آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ ابو ہریرہ کی اپنی سمجھ سے ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5355]
حدیث حاشیہ:
(1)
حقوق اللہ کے بعد انسانی حقوق کا ادا کرنا ضروری ہے۔
انسانی حقوق میں والدین اور اہل و عیال کے حقوق سرفہرست ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل و عیال کا نان و نفقہ انسان پر فرض ہے۔
اس کا یہ حال نہیں ہونا چاہیے کہ عورت تنگ آ کر کہہ دے کہ مجھے کھانا دو یا طلاق دے کر فارغ کرو۔
اسی طرح غلام کہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ پھر مجھ سے کام لو، یا مجھ سے کام تو لیتے ہو لیکن کھانا کیوں نہیں کھلاتے؟ خود اس کا بیٹا کہے کہ میرے کھانے کا بندوبست کرو، مجھے کس کے حوالے کرتے ہو؟ الغرض عیال کی تمام قسمیں کھانے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان کا یہ حق ہے جسے پورا کرنا اس کی ذمہ داری ہے، لہذا جب خرچہ دے تو ابتدا ان سے کرنی چاہیے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی بیوی یا بچوں کا نان و نفقہ پورا نہ کر سکے تو عورت عدالت سے جدائی کا مطالبہ کر سکتی ہے کہ اس کا شوہر اسے فارغ کر دے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”ان عورتوں کو تکلیف دینے کے لیے اپنے پاس مت روکے رکھو۔
“ (البقرة: 231)
حدیث کے آخری حصے سے امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ دیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ہے جو حدیث میں مدرج ہو چکا ہے۔
واللہ أعلم
(1)
حقوق اللہ کے بعد انسانی حقوق کا ادا کرنا ضروری ہے۔
انسانی حقوق میں والدین اور اہل و عیال کے حقوق سرفہرست ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل و عیال کا نان و نفقہ انسان پر فرض ہے۔
اس کا یہ حال نہیں ہونا چاہیے کہ عورت تنگ آ کر کہہ دے کہ مجھے کھانا دو یا طلاق دے کر فارغ کرو۔
اسی طرح غلام کہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ پھر مجھ سے کام لو، یا مجھ سے کام تو لیتے ہو لیکن کھانا کیوں نہیں کھلاتے؟ خود اس کا بیٹا کہے کہ میرے کھانے کا بندوبست کرو، مجھے کس کے حوالے کرتے ہو؟ الغرض عیال کی تمام قسمیں کھانے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان کا یہ حق ہے جسے پورا کرنا اس کی ذمہ داری ہے، لہذا جب خرچہ دے تو ابتدا ان سے کرنی چاہیے جن کی کفالت اس کے ذمے ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی بیوی یا بچوں کا نان و نفقہ پورا نہ کر سکے تو عورت عدالت سے جدائی کا مطالبہ کر سکتی ہے کہ اس کا شوہر اسے فارغ کر دے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”ان عورتوں کو تکلیف دینے کے لیے اپنے پاس مت روکے رکھو۔
“ (البقرة: 231)
حدیث کے آخری حصے سے امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارہ دیا ہے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا کلام ہے جو حدیث میں مدرج ہو چکا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5355]
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي