صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب حبس نفقة الرجل قوت سنة على أهله، وكيف نفقات العيال:
باب: مرد کا اپنے بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرنا جائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 5357
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ لِي مَعْمَرٌ: قَالَ لِي الثَّوْرِيُّ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الرَّجُلِ يَجْمَعُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ أَوْ بَعْضِ السَّنَةِ؟ قَالَ مَعْمَرٌ: فَلَمْ يَحْضُرْنِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيعُ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَيَحْبِسُ لِأَهْلِهِ قُوتَ سَنَتِهِمْ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، ان سے ابن عیینہ نے کہا کہ مجھ سے معمر نے بیان کیا کہ ان سے ثوری نے پوچھا کہ تم نے ایسے شخص کے بارے میں بھی سنا ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کا یا سال سے کم کا خرچ جمع کر لے۔ معمر نے بیان کیا کہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا پھر بعد میں یاد آیا کہ اس بارے میں ایک حدیث ابن شہاب نے ہم سے بیان کی تھی، ان سے مالک بن اوس نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نضیر کے باغ کی کھجوریں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کر دیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب النفقات/حدیث: 5357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥مالك بن أوس النصري، أبو سعيد مالك بن أوس النصري ← عمر بن الخطاب العدوي | له رؤية | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← مالك بن أوس النصري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله محمد بن سلام البيكندي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5357
| يبيع نخل بني النضير ويحبس لأهله قوت سنتهم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5357 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5357
حدیث حاشیہ:
اسی سے باب کا مطلب حاصل ہوا۔
یہ جمع کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔
یہ انتظامی معاملہ ہے اور اہل و عیال کا انتظام خوراک وغیرہ کا کرنا مرد پر لازم ہے۔
اسی سے باب کا مطلب حاصل ہوا۔
یہ جمع کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔
یہ انتظامی معاملہ ہے اور اہل و عیال کا انتظام خوراک وغیرہ کا کرنا مرد پر لازم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5357]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5357
حدیث حاشیہ:
(1)
بنو نضیر کے باغات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختص تھے۔
آپ ان میں سے اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی ملکی ضروریات کے لیے فروخت کر دیتے تھے، پھر اس رقم سے گھوڑے اور جنگی سامان خریدتے تھے۔
چونکہ اہل و عیال کا نان و نفقہ آدمی کے ذمے ہے، اس لیے اس نے اس کا بندوبست کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، ان کے لیے سال بھر کا خرچہ جمع کر لینا اس ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں جس کی احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
پھر جمع شدہ مال سے سال بھر حسب ضرورت استعمال کرتا رہے، اس کے لیے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا جا سکتا کہ ایک دن میں کتنا خرچ کیا جائے۔
یہ معاملہ تمام تر اہل خانہ کی صوابدید پر موقوف ہے۔
واللہ أعلم
(1)
بنو نضیر کے باغات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مختص تھے۔
آپ ان میں سے اپنے اہل و عیال کے لیے سال بھر کا خرچ رکھ کر باقی ملکی ضروریات کے لیے فروخت کر دیتے تھے، پھر اس رقم سے گھوڑے اور جنگی سامان خریدتے تھے۔
چونکہ اہل و عیال کا نان و نفقہ آدمی کے ذمے ہے، اس لیے اس نے اس کا بندوبست کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ ایک انتظامی معاملہ ہے، ان کے لیے سال بھر کا خرچہ جمع کر لینا اس ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں جس کی احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
اس پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
پھر جمع شدہ مال سے سال بھر حسب ضرورت استعمال کرتا رہے، اس کے لیے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا جا سکتا کہ ایک دن میں کتنا خرچ کیا جائے۔
یہ معاملہ تمام تر اہل خانہ کی صوابدید پر موقوف ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5357]
مالك بن أوس النصري ← عمر بن الخطاب العدوي