🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب من أكل حتى شبع:
باب: پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5383
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ (صفیہ بن شبیہ) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، ان دنوں ہم پانی اور کھجور سے سیر ہو جانے لگے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5383]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية
Newصفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
لها رؤية
👤←👥منصور بن صفية القرشي
Newمنصور بن صفية القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← منصور بن صفية القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، أبو عمرو
Newمسلم بن إبراهيم الفراهيدي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5383
توفي النبي حين شبعنا من الأسودين التمر والماء
صحيح مسلم
7455
توفي رسول الله وقد شبعنا من الأسودين الماء والتمر
صحيح مسلم
7455
توفي رسول الله حين شبع الناس من الأسودين التمر والماء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5383 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5383
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ شروع زمانہ میں تو غذا کی ایسی قلت تھی کہ کبھی بھی پیٹ بھر کر نہ ملتی، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس وقت ہوئی کہ ہم کو کھجور با افراط پیٹ بھر کر ملنے لگی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5383]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5383
حدیث حاشیہ:
(1)
شکم سیری، یعنی پیٹ بھر کے کھانے کا یہ سلسلہ فتح خیبر کے بعد شروع ہوا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے (دل میں)
کہا:
اب ہم کھجوریں پیٹ بھر کے کھائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین سال پہلے خیبر فتح ہوا تھا۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے پیٹ بھر کے کھانا کھانے کے سات مراتب بیان کیے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
٭ اتنا کھائے جس سے جسم اور روح کا رشتہ قائم رہے۔
٭ پھر اس پر کچھ اضافہ کرے تاکہ نماز روزے کی ادائیگی آسان ہو۔
٭ اس کے بعد مزید کھائے تاکہ نوافل ادا کیے جا سکیں۔
٭ اپنی خوراک میں اتنا اضافہ کرے کہ کمائی کے قابل ہو جائے۔
٭ ایک تہائی پیٹ بھرے ایسا کرنا بھی جائز ہے۔
٭ اتنا کھائے کہ جسم بوجھل اور نیند کا غلبہ ہو جائے، اس طرح پیٹ بھرنا مکروہ ہے۔
٭ اس پر مزید اضافہ کرے حتی کہ معدے پر بوجھ پڑے اور انسان بیمار ہو جائے۔
اس قسم کا پیٹ بھر کر کھانا منع ہے۔
اس سے بچنا چاہیے۔
(فتح الباري: 655/9) (3)
بہرحال ان احادیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے پیٹ بھر کے کھانا کھانے کا جواز ثابت کیا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5383]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7455
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،جبکہ ہمیں پیٹ بھرنے کے لیے دو سیاہ چیزیں،پانی اورکھجوریں دستیاب تھیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7455]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کے خاندان کو پیٹ بھر کر یہ دونوں چیزیں فتح خیبر کے بعد میسر آگئی تھیں،
لیکن آپ بعض دفعہ اپنی مرضی سے نہیں کھاتے تھے،
(لیکن آپ کو میسر تھیں)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7455]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7455
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،جبکہ ہمیں پیٹ بھرنے کے لیے دو سیاہ چیزیں،پانی اورکھجوریں دستیاب تھیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7455]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کے خاندان کو پیٹ بھر کر یہ دونوں چیزیں فتح خیبر کے بعد میسر آگئی تھیں،
لیکن آپ بعض دفعہ اپنی مرضی سے نہیں کھاتے تھے،
(لیکن آپ کو میسر تھیں)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7455]