🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2975 ترقیم شاملہ: -- 7455
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ "،
عبدالرحمٰن (بن مہدی) نے ہمیں سفیان (ثوری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی والدہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت ہو گئی اور ہم دو سیاہ چیزوں، پانی اور کھجور، سے سیر ہونے لگے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7455]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،جبکہ ہمیں پیٹ بھرنے کے لیے دو سیاہ چیزیں،پانی اورکھجوریں دستیاب تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2975
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية
Newصفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
لها رؤية
👤←👥منصور بن صفية القرشي
Newمنصور بن صفية القرشي ← صفية بنت شيبة القرشية
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن صفية القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5383
توفي النبي حين شبعنا من الأسودين التمر والماء
صحيح مسلم
7455
توفي رسول الله وقد شبعنا من الأسودين الماء والتمر
صحيح مسلم
7455
توفي رسول الله حين شبع الناس من الأسودين التمر والماء
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5383
توفي النبي حين شبعنا من الأسودين التمر والماء
صحيح مسلم
7455
توفي رسول الله وقد شبعنا من الأسودين الماء والتمر
صحيح مسلم
7455
توفي رسول الله حين شبع الناس من الأسودين التمر والماء
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7455 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7455
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ کے خاندان کو پیٹ بھر کر یہ دونوں چیزیں فتح خیبر کے بعد میسر آگئی تھیں،
لیکن آپ بعض دفعہ اپنی مرضی سے نہیں کھاتے تھے،
(لیکن آپ کو میسر تھیں)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7455]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5383
5383. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو ان دنوں ہم کھجور اور پانی سے شکم سیر ہونے لگے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5383]
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ ہے کہ شروع زمانہ میں تو غذا کی ایسی قلت تھی کہ کبھی بھی پیٹ بھر کر نہ ملتی، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کرا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس وقت ہوئی کہ ہم کو کھجور با افراط پیٹ بھر کر ملنے لگی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5383]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5383
5383. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو ان دنوں ہم کھجور اور پانی سے شکم سیر ہونے لگے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5383]
حدیث حاشیہ:
(1)
شکم سیری، یعنی پیٹ بھر کے کھانے کا یہ سلسلہ فتح خیبر کے بعد شروع ہوا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے (دل میں)
کہا:
اب ہم کھجوریں پیٹ بھر کے کھائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین سال پہلے خیبر فتح ہوا تھا۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے پیٹ بھر کے کھانا کھانے کے سات مراتب بیان کیے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
٭ اتنا کھائے جس سے جسم اور روح کا رشتہ قائم رہے۔
٭ پھر اس پر کچھ اضافہ کرے تاکہ نماز روزے کی ادائیگی آسان ہو۔
٭ اس کے بعد مزید کھائے تاکہ نوافل ادا کیے جا سکیں۔
٭ اپنی خوراک میں اتنا اضافہ کرے کہ کمائی کے قابل ہو جائے۔
٭ ایک تہائی پیٹ بھرے ایسا کرنا بھی جائز ہے۔
٭ اتنا کھائے کہ جسم بوجھل اور نیند کا غلبہ ہو جائے، اس طرح پیٹ بھرنا مکروہ ہے۔
٭ اس پر مزید اضافہ کرے حتی کہ معدے پر بوجھ پڑے اور انسان بیمار ہو جائے۔
اس قسم کا پیٹ بھر کر کھانا منع ہے۔
اس سے بچنا چاہیے۔
(فتح الباري: 655/9) (3)
بہرحال ان احادیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے پیٹ بھر کے کھانا کھانے کا جواز ثابت کیا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5383]