صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب الرجل يدعى إلى طعام فيقول وهذا معي:
باب: کسی شخص کی کھانے کی دعوت ہو۔
حدیث نمبر: Q5461-2
فِيهِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اس مسئلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5461-2]
حدیث نمبر: Q5461
وَقَالَ أَنَسٌ:" إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مُسْلِمٍ لَا يُتَّهَمُ فَكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَاشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ".
اور دوسرا شخص بھی اس کے ساتھ طفیلی ہو جائے تو اجازت لینے کے لیے وہ کہے کہ یہ بھی میرے ساتھ آ گیا ہے اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب تم کسی ایسے مسلمان کے گھر جاؤ (جو اپنے دین و مال میں) غلط کاموں سے بدنام نہ ہو تو اس کا کھانا کھاؤ اور اس کا پانی پیو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5461]
حدیث نمبر: 5461
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ إِلَى غُلَامِهِ اللَّحَّامِ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا شُعَيْبٍ، إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ، قَالَ: لَا، بَلْ أَذِنْتُ لَهُ".
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے بعد ابوشعیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5461]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2456
| هذا قد اتبعنا أتأذن له قال نعم |
صحيح البخاري |
5461
| تبعنا فإن شئت أذنت له وإن شئت تركته قال لا بل أذنت له |
صحيح البخاري |
5434
| هذا رجل قد تبعنا فإن شئت أذنت له وإن شئت تركته قال بل أذنت له |
صحيح البخاري |
2081
| إن هذا قد تبعنا فإن شئت أن تأذن له فأذن له وإن شئت أن يرجع رجع فقال لا بل قد أذنت له |
جامع الترمذي |
1099
| اتبعنا رجل لم يكن معنا حين دعوتنا فإن أذنت له دخل |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5461 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5461
حدیث حاشیہ:
مگر اس طرح ہر کسی کے گھر چلے جانا یا کسی کو اپنے ساتھ میں لے جانا جائز نہیں ہے، کوئی مخلص دوست ہو تو بات الگ ہے۔
مگر اس طرح ہر کسی کے گھر چلے جانا یا کسی کو اپنے ساتھ میں لے جانا جائز نہیں ہے، کوئی مخلص دوست ہو تو بات الگ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5461]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5461
حدیث حاشیہ:
کسی کے دعوت کرنے پر دوسرے کو ساتھ لے جانے کا اصرار کرنا حالات و ظروف پر منحصر ہے۔
ہر کسی کے گھر میں دوسرے کو ساتھ لے جانا جائز نہیں۔
کوئی مخلص دوست ہو تو الگ بات ہے، البتہ اس کے متعلق دعوت ملتے ہی کہہ دینا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا:
”یہ بھی میرے ہمراہ ہو گی۔
“ اگر پہلے سے معاملہ نہیں ہوا تو اہل خانہ کی صوابدید پر موقوف ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔
اگر وہ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو اسے واپس بھیج دیا جائے۔
بہرحال موقع محل کو ضرور دیکھنا ہو گا۔
علی الاطلاق ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
واللہ أعلم
کسی کے دعوت کرنے پر دوسرے کو ساتھ لے جانے کا اصرار کرنا حالات و ظروف پر منحصر ہے۔
ہر کسی کے گھر میں دوسرے کو ساتھ لے جانا جائز نہیں۔
کوئی مخلص دوست ہو تو الگ بات ہے، البتہ اس کے متعلق دعوت ملتے ہی کہہ دینا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا:
”یہ بھی میرے ہمراہ ہو گی۔
“ اگر پہلے سے معاملہ نہیں ہوا تو اہل خانہ کی صوابدید پر موقوف ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔
اگر وہ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو اسے واپس بھیج دیا جائے۔
بہرحال موقع محل کو ضرور دیکھنا ہو گا۔
علی الاطلاق ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5461]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1099
بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم۔
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوشعیب نامی ایک شخص نے اپنے ایک گوشت فروش لڑکے کے پاس آ کر کہا: تم میرے لیے کھانا بنا جو پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا ہے، تو اس نے کھانا تیار کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ تو اس نے آپ کو اور آپ کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے سب کو کھانے کے لیے بلایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (چلنے کے لیے) اٹھے، تو آپ کے پیچھے ایک اور شخص بھی چلا آیا، جو آپ کے ساتھ اس وقت نہیں تھا جب آپ کو دعوت دی گئی تھی۔ جب رسول اللہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1099]
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوشعیب نامی ایک شخص نے اپنے ایک گوشت فروش لڑکے کے پاس آ کر کہا: تم میرے لیے کھانا بنا جو پانچ آدمیوں کے لیے کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک کا اثر دیکھا ہے، تو اس نے کھانا تیار کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ تو اس نے آپ کو اور آپ کے ساتھ جو لوگ بیٹھے تھے سب کو کھانے کے لیے بلایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (چلنے کے لیے) اٹھے، تو آپ کے پیچھے ایک اور شخص بھی چلا آیا، جو آپ کے ساتھ اس وقت نہیں تھا جب آپ کو دعوت دی گئی تھی۔ جب رسول اللہ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1099]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے معلوم ہواکہ بغیردعوت کے کسی کے ساتھ طفیلی بن کر دعوت میں شریک ہو نا غیراخلاقی حرکت ہے،
تاہم اگر صاحب دعوت سے اجازت لے لی جائے تواس کی گنجائش ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس سے معلوم ہواکہ بغیردعوت کے کسی کے ساتھ طفیلی بن کر دعوت میں شریک ہو نا غیراخلاقی حرکت ہے،
تاہم اگر صاحب دعوت سے اجازت لے لی جائے تواس کی گنجائش ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1099]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2081
2081. حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ انصار کا ایک آدمی آیا جس کی کنیت ابو شعیب تھی، اس نے اپنے قصاب غلام سے کہا: میرے لیے کھانا تیار کرو جو پانچ اشخاص کو کافی ہو کیونکہ میرا ارادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کرنے کا ہے، اس لیے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر بھوک کے اثرات دیکھتا ہوں۔ پھر اس نے ان حضرات کو دعوت دی تو ان کے ساتھ ایک اور آدمی بھی شامل ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اجازت دے دیں اور اگر آپ اس کا واپس چلا جانا پسند کریں تو یہ واپس چلا جائے گا۔ "اس نے عرض کیا: نہیں بلکہ میں اس کو بھی اجازت دیتا ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2081]
حدیث حاشیہ:
یعنی وہ طفیلی بن کر چلا آیا، اس شخص کا نام معلوم نہ ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب خانہ سے اجازت لی تاکہ اس کا دل خوش ہو اور ابوطلحہ کی دعوت میں آپ نے یہ اجازت نہ لی کیوں کی ابوطلحہ نے دعوتیوں کی تعداد مقرر نہیں کی تھی اور اس شخص نے پانچ کی تعداد مقرر کر دی تھی۔
اس لیے آپ نے اجازت کی ضرورت سمجھی۔
حدیث میں قصاب کا ذکر ہے اور گوشت بیچنے والوں کا۔
اسی سے اس پیشہ کا جواز ثابت ہوا۔
یعنی وہ طفیلی بن کر چلا آیا، اس شخص کا نام معلوم نہ ہوا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب خانہ سے اجازت لی تاکہ اس کا دل خوش ہو اور ابوطلحہ کی دعوت میں آپ نے یہ اجازت نہ لی کیوں کی ابوطلحہ نے دعوتیوں کی تعداد مقرر نہیں کی تھی اور اس شخص نے پانچ کی تعداد مقرر کر دی تھی۔
اس لیے آپ نے اجازت کی ضرورت سمجھی۔
حدیث میں قصاب کا ذکر ہے اور گوشت بیچنے والوں کا۔
اسی سے اس پیشہ کا جواز ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2081]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2456
2456. حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ ابو شعیب نامی انصاری کاایک غلام تھا جو گوشت پکانے میں مہارت ر کھتاتھا۔ ابوشعیب نے اس سے کہا: پانچ آدمیوں کاکھانا تیار کرو، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ اشخاص میں سے پانچویں ہوں گے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور میں بھوک کے آثار دیکھے تھے، چنانچہ جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی تو آپ کے ساتھ ایک صاحب اور آگئے جس کو کھانے کی دعوت نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صاحب ہمارے ساتھ آگئے ہیں۔ کیا آپ اسے اجازت دیتے ہیں؟“ ابو شعیب نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2456]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس باب کا مطلب بھی اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ بن بلائے دعوت میں جانا اور کھانا کھانا درست نہیں، مگر جب صاحب خانہ اجازت دے تو درست ہوگیا۔
اس حدیث سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رافت اور رحمت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کا بھوکا رہنا گوارا نہ تھا۔
ایک باخدا بزرگ انسان کی یہی شان ہونی چاہئے۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس باب کا مطلب بھی اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ بن بلائے دعوت میں جانا اور کھانا کھانا درست نہیں، مگر جب صاحب خانہ اجازت دے تو درست ہوگیا۔
اس حدیث سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رافت اور رحمت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کا بھوکا رہنا گوارا نہ تھا۔
ایک باخدا بزرگ انسان کی یہی شان ہونی چاہئے۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2456]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5434
5434. سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ انصار کے ایک آدمی کو ابو شعیب کہا جاتا تھا اسکا ایک گوشت فروش غلام تھا۔ ابو شعیب ؓ نے اپنے غلام سے کہا: تم میری طرف سے کھانا تیار کرو، میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں، چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کو دعوت دی تو ایک آدمی مزید ان کے پیچھے لگ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ آدمیوں کی دعوت کی ہے مگر یہ آدمی بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے اگر چاہو تو اسے اجازت دو اور اگر چاہو تو اسے روک دو۔ ابو شعیب ؓ نے کہا: میں نے اسے بھی اجازت دے دی۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ محمد بن اسماعیل بخاری ؓ نے فرمایا کہ جب لوگ دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو انہیں اس امر کی اجازت نہیں ہے کہ ایک دسترخوان والے دوسرے دسترخوان والوں کو کوئی چیز دیں، البتہ ایک ہی دسترخوان کے شرکاء کو کوئی چیز نہ دینے یا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5434]
حدیث حاشیہ:
باب کی مطابقت اس سے نکلی کہ اس نے خاص پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرایا تو ضرور اس میں تکلف کیا ہوگا۔
معلوم ہواکہ میزبان کو اختیار ہے کہ جو بن بلائے چلا آئے اس کو اجازت دے یا نہ دے۔
بن بلائے دعوت میں جانا حرام ہے مگر جب یہ یقین ہو کہ میزبان اس کے جانے سے خوش ہوگا اور دونوں میں بے تکلفی ہو تو درست ہے۔
اسی طرح اگر عام دعوت ہے تو اس میں بھی جانا جائز ہے۔
باب کی مطابقت اس سے نکلی کہ اس نے خاص پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرایا تو ضرور اس میں تکلف کیا ہوگا۔
معلوم ہواکہ میزبان کو اختیار ہے کہ جو بن بلائے چلا آئے اس کو اجازت دے یا نہ دے۔
بن بلائے دعوت میں جانا حرام ہے مگر جب یہ یقین ہو کہ میزبان اس کے جانے سے خوش ہوگا اور دونوں میں بے تکلفی ہو تو درست ہے۔
اسی طرح اگر عام دعوت ہے تو اس میں بھی جانا جائز ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5434]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2081
2081. حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ انصار کا ایک آدمی آیا جس کی کنیت ابو شعیب تھی، اس نے اپنے قصاب غلام سے کہا: میرے لیے کھانا تیار کرو جو پانچ اشخاص کو کافی ہو کیونکہ میرا ارادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کرنے کا ہے، اس لیے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر بھوک کے اثرات دیکھتا ہوں۔ پھر اس نے ان حضرات کو دعوت دی تو ان کے ساتھ ایک اور آدمی بھی شامل ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اجازت دے دیں اور اگر آپ اس کا واپس چلا جانا پسند کریں تو یہ واپس چلا جائے گا۔ "اس نے عرض کیا: نہیں بلکہ میں اس کو بھی اجازت دیتا ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2081]
حدیث حاشیہ:
(1) (الحكام)
گوشت بیچنے والے کواور (جزار)
اونٹ ذبح کرنے والے کو کہتے ہیں، جبکہ قصاب بکریاں وغیرہ ذبح کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔
جب جوازیا کراہت کا حکم ایک قسم میں ثابت ہوگیا تو عموم علت کی وجہ سے باقی قسموں میں بھی ثابت ہوگا۔
(2)
حدیث میں قصاب کا ذکر ہے کہ اس کا پیشہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں،اس بنا پر گوشت بیچنے اور اونٹ ذبح کرنے کا پیشہ اختیار کرنا بھی جائز ہے،البتہ امام بخاری رحمہ اللہ کے ذوق کے مطابق اس حدیث کی وضاحت بایں طور ہوگی کہ جب ملی جلی کھجوروں کی خریدوفروخت جائز ہے تو گوشت کا ہڈیوں سمیت بیچنا بھی جائز ہے۔
آپ نے پہلے عنوان سے کچھ ترقی کی ہے کیونکہ روی اور عمدہ کھجوریں ایک ہی جنس سے تھیں جبکہ پٹھے اور ہڈیاں،گوشت کی قسم نہیں ہیں،اس کے باوجود گوشت کے ساتھ پٹھے اور ہڈیاں فروخت کرنا جائز ہے۔
(3)
واضح رہے کہ بن بلائے مہمان کو طفیلی کہا جاتا ہے۔
اگر صاحب خانہ اسے اجازت دے تو وہ شامل ہوسکتا ہے بصورت دیگر اسے واپس جانا ہوگا۔
والله اعلم.
(1) (الحكام)
گوشت بیچنے والے کواور (جزار)
اونٹ ذبح کرنے والے کو کہتے ہیں، جبکہ قصاب بکریاں وغیرہ ذبح کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔
جب جوازیا کراہت کا حکم ایک قسم میں ثابت ہوگیا تو عموم علت کی وجہ سے باقی قسموں میں بھی ثابت ہوگا۔
(2)
حدیث میں قصاب کا ذکر ہے کہ اس کا پیشہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں،اس بنا پر گوشت بیچنے اور اونٹ ذبح کرنے کا پیشہ اختیار کرنا بھی جائز ہے،البتہ امام بخاری رحمہ اللہ کے ذوق کے مطابق اس حدیث کی وضاحت بایں طور ہوگی کہ جب ملی جلی کھجوروں کی خریدوفروخت جائز ہے تو گوشت کا ہڈیوں سمیت بیچنا بھی جائز ہے۔
آپ نے پہلے عنوان سے کچھ ترقی کی ہے کیونکہ روی اور عمدہ کھجوریں ایک ہی جنس سے تھیں جبکہ پٹھے اور ہڈیاں،گوشت کی قسم نہیں ہیں،اس کے باوجود گوشت کے ساتھ پٹھے اور ہڈیاں فروخت کرنا جائز ہے۔
(3)
واضح رہے کہ بن بلائے مہمان کو طفیلی کہا جاتا ہے۔
اگر صاحب خانہ اسے اجازت دے تو وہ شامل ہوسکتا ہے بصورت دیگر اسے واپس جانا ہوگا۔
والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2081]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2456
2456. حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ ابو شعیب نامی انصاری کاایک غلام تھا جو گوشت پکانے میں مہارت ر کھتاتھا۔ ابوشعیب نے اس سے کہا: پانچ آدمیوں کاکھانا تیار کرو، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ اشخاص میں سے پانچویں ہوں گے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور میں بھوک کے آثار دیکھے تھے، چنانچہ جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی تو آپ کے ساتھ ایک صاحب اور آگئے جس کو کھانے کی دعوت نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صاحب ہمارے ساتھ آگئے ہیں۔ کیا آپ اسے اجازت دیتے ہیں؟“ ابو شعیب نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2456]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے دعوت کے آداب کا پتا چلتا ہے کہ میزبان جن لوگوں کو بلائے صرف انہی حضرات کو دعوت میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے، دعوت کے بغیر شریک ہونا ایک نامعقول حرکت ہے۔
اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو مہمان میزبان کو ضرور مطلع کر دے، تاہم مروت و اخلاق کا تقاضا ہے کہ میزبان ایسے شخص کو بے عزت نہ کرے بلکہ دعوت میں شمولیت کی اجازت دے دے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے میزبان کی اجازت سے عنوان ثابت کیا ہے کہ یہ اس کا حق ہے اور کھانے میں شمولیت کو اس کی اجازت پر موقوف رکھا ہے، اگر وہ اجازت دے تو جائز ہے بصورتِ دیگر دعوت میں شرکت کرنا اس کی حق تلفی ہے، جس کے متعلق دنیا اور آخرت میں باز پرس ہو سکتی ہے۔
(1)
اس حدیث سے دعوت کے آداب کا پتا چلتا ہے کہ میزبان جن لوگوں کو بلائے صرف انہی حضرات کو دعوت میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے، دعوت کے بغیر شریک ہونا ایک نامعقول حرکت ہے۔
اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو مہمان میزبان کو ضرور مطلع کر دے، تاہم مروت و اخلاق کا تقاضا ہے کہ میزبان ایسے شخص کو بے عزت نہ کرے بلکہ دعوت میں شمولیت کی اجازت دے دے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے میزبان کی اجازت سے عنوان ثابت کیا ہے کہ یہ اس کا حق ہے اور کھانے میں شمولیت کو اس کی اجازت پر موقوف رکھا ہے، اگر وہ اجازت دے تو جائز ہے بصورتِ دیگر دعوت میں شرکت کرنا اس کی حق تلفی ہے، جس کے متعلق دنیا اور آخرت میں باز پرس ہو سکتی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2456]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5434
5434. سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ انصار کے ایک آدمی کو ابو شعیب کہا جاتا تھا اسکا ایک گوشت فروش غلام تھا۔ ابو شعیب ؓ نے اپنے غلام سے کہا: تم میری طرف سے کھانا تیار کرو، میری خواہش ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں، چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کو دعوت دی تو ایک آدمی مزید ان کے پیچھے لگ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ہم پانچ آدمیوں کی دعوت کی ہے مگر یہ آدمی بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے اگر چاہو تو اسے اجازت دو اور اگر چاہو تو اسے روک دو۔ ابو شعیب ؓ نے کہا: میں نے اسے بھی اجازت دے دی۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ محمد بن اسماعیل بخاری ؓ نے فرمایا کہ جب لوگ دسترخوان پر بیٹھے ہوں تو انہیں اس امر کی اجازت نہیں ہے کہ ایک دسترخوان والے دوسرے دسترخوان والوں کو کوئی چیز دیں، البتہ ایک ہی دسترخوان کے شرکاء کو کوئی چیز نہ دینے یا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5434]
حدیث حاشیہ:
(1)
ابو شعیب نامی صحابئ جلیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں انتہائی تکلف کیا کہ سپیشل ایک ماہر آدمی سے گوشت تیار کرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ چھٹے آدمی کو دعوت میں شریک کرنا تکلف ہے۔
(2)
بہرحال مہمانوں اور بھائیوں کی دعوت کے موقع پر تکلف کرنا جائز اور مباح ہے۔
ان کے لیے گوشت کا اہتمام کرنا ایک پسندیدہ خصلت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا و آخرت میں گوشت تمام کھانوں کا سردار ہے۔
واللہ اعلم
(1)
ابو شعیب نامی صحابئ جلیل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں انتہائی تکلف کیا کہ سپیشل ایک ماہر آدمی سے گوشت تیار کرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ چھٹے آدمی کو دعوت میں شریک کرنا تکلف ہے۔
(2)
بہرحال مہمانوں اور بھائیوں کی دعوت کے موقع پر تکلف کرنا جائز اور مباح ہے۔
ان کے لیے گوشت کا اہتمام کرنا ایک پسندیدہ خصلت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا و آخرت میں گوشت تمام کھانوں کا سردار ہے۔
واللہ اعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5434]
شقيق بن سلمة الأسدي ← أبو مسعود الأنصاري