🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها:
باب: قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5569
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ"، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي، قَالَ:" كُلُوا، وَأَطْعِمُوا، وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5569]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥يزيد بن أبي عبيد الأسلمي، أبو خالد
Newيزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← يزيد بن أبي عبيد الأسلمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5569
من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة وبقي في بيته منه شيء فلما كان العام المقبل قالوا يا رسول الله نفعل كما فعلنا عام الماضي قال كلوا وأطعموا وادخروا فإن ذلك العام كان بالناس جهد فأردت أن تعينوا فيها
صحيح مسلم
5109
من ضحى منكم فلا يصبحن في بيته بعد ثالثة شيئا فلما كان في العام المقبل قالوا يا رسول الله نفعل كما فعلنا عام أول فقال لا إن ذاك عام كان الناس فيه بجهد فأردت أن يفشو فيهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5569 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5569
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ ایام قحط میں غلہ وغیرہ روک کر رکھ لینا گناہ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5569]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5569
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ رکھنے کا سبب لوگوں میں قحط سالی اور ان کا مشقت میں مبتلا ہونا تھا، جب یہ علت ختم ہو گئی تو یہ پابندی بھی اٹھا لی گئی۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:
اللہ کے رسول! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا، اس سال بھی اسی طرح کریں، حالانکہ کسی کام سے نہی کا تقاضا دوام و استمرار اور ہمیشگی ہوتا ہے لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس بات کو خوب جانتے تھے کہ اس پابندی یا نہی کا ایک خاص سبب تھا جو اب موجود نہیں، اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی طلب کی۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ پابندی صرف ایک سال کے لیے تھی، پھر حجۃ الوداع کے موقع پر ہجرت کے دسویں سال اس پابندی کو اٹھا لیا گیا۔
(فتح الباري: 33/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5569]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5109
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس نے قربانی کی ہے، تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں گوشت کا کوئی ٹکڑا نہ رہے، تو جب اگلا سال آیا، صحابہ کرام نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم پچھلے سال کی طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پچھلے سال تو لوگ مشقت (بھوک) میں مبتلا تھے، تو میں نے چاہا، ان میں گوشت پھیل جائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5109]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
صحابہ کرام نے تین دن سے زائد گوشت کی بندش کے حکم کو ہمیشہ کے لیے دین سمجھا تھا،
اس لیے انہیں یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ہم پچھلے سال کی طرح کریں اور آپ کے جواب سے بھی یہ معلوم ہوا کہ نہی ایک ضرورت اور حاجت کے تحت اس مصلحت کے لیے تھی کہ گوشت سب محتاجوں کو آسانی کے ساتھ مل سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5109]