Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب من اكتوى أو كوى غيره، وفضل من لم يكتو:
باب: داغ لگوانا یا لگانا اور جو شخص داغ نہ لگوائے اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5705
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ، فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ وَالنَّبِيَّانِ يَمُرُّونَ مَعَهُمُ الرَّهْطُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هَذَا أُمَّتِي هَذِهِ! قِيلَ بَلْ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، قِيلَ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَإِذَا سَوَادٌ يَمْلَأُ الْأُفُقَ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ هَهُنَا وَهَهُنَا فِي آفَاقِ السَّمَاءِ، فَإِذَا سَوَادٌ قَدْ مَلَأَ الْأُفُقَ، قِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ"، ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ، فَأَفَاضَ الْقَوْمُ وَقَالُوا نَحْنُ الَّذِينَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاتَّبَعْنَا رَسُولَهُ فَنَحْنُ هُمْ، أَوْ أَوْلَادُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَإِنَّا وُلِدْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ، فَقَالَ:" هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَالَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ: أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: أَمِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نظر بد اور زہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں۔ (حصین نے بیان کیا کہ) پھر میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ایک ایک، دو دو نبی اور ان کے ساتھ ان کے ماننے والے گزرتے رہے اور بعض نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں، کیا یہ میری امت کے لوگ ہیں؟ کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے پھر کہا گیا کہ کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے جو کناروں پر چھائی ہوئی ہے پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو آسمان کے مختلف کناروں میں میں نے دیکھا کہ جماعت ہے جو تمام افق پر چھائی ہوئی ہے۔ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ (اپنے حجرہ میں) تشریف لے گئے اور کچھ تفصیل نہیں فرمائی لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کی ہے، اس لیے ہم ہی (صحابہ) وہ لوگ ہیں یا ہماری وہ اولاد ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے کیونکہ ہم جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ باتیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، فال نہیں دیکھتے اور داغ کر علاج نہیں کرتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی ان میں ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5705]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد
Newعمران بن حصين الأزدي ← سعيد بن جبير الأسدي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيل
Newالحصين بن عبد الرحمن السلمي ← عامر الشعبي
ثقة متقن
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥عمران بن ميسرة المنقري، أبو الحسن
Newعمران بن ميسرة المنقري ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5705
هم الذين لا يسترقون ولا يتطيرون ولا يكتوون وعلى ربهم يتوكلون قال عكاشة بن محصن أمنهم أنا يا رسول الله قال نعم فقام آخر فقال أمنهم أنا قال سبقك بها عكاشة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5705 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5705
حدیث حاشیہ:
خالص اللہ پر توکل رکھنا اور اسی عقیدہ کے تحت جائز علاج کرانا بھی توکل کے منافی نہیں ہے پھر وہ لوگ خالص توکل پر قائم رہ کر کوئی جائز علاج نہ کرائیں وہ یقینا اس فضیلت کے مستحق ہوں گے۔
جعلنااللہ منھم آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5705]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5705
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے بذریعۂ داغ علاج ترک کرنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی پر خالص توکل کر کے اس قسم کا علاج نہ کرانا بہت بڑی عزیمت کی بات ہے۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ پر خالص توکل کر کے جائز علاج کرانا توکل کے منافی نہیں، تاہم اس میں فضیلت نہیں۔
(2)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آگ سے داغنے کی دو قسمیں ہیں:
٭ صحیح تندرست آدمی خود کو آگ سے داغے تاکہ وہ بیمار نہ ہو۔
اس قسم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جس نے خود کو داغ دیا اس نے اللہ پر توکل نہیں کیا۔
٭ زخمی کو آگ سے داغ دینا تاکہ وہ زخم آگے نہ بڑھے یا خراب نہ ہو۔
اس قسم کا داغ مشروع ہے۔
چونکہ اس سے شفا ضروری نہیں، اس لیے اس کا ترک کرنا باعث فضیلت ہے۔
(3)
بہرحال جن احادیث میں اس طریقے علاج سے نہی وارد ہے اسے نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ وضاحت گزر چکی ہے۔
صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک بوریا جلا کر اس کی راکھ زخم میں بھری تھی، (صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2911)
لیکن یہ مروجہ داغ دینے سے ایک الگ چیز ہے۔
(فتح الباري: 193/10)
واللہ أعلم۔
اس حدیث کی مکمل تشریح کتاب الرقاق میں ہو گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5705]