صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ:
باب: جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے اس کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 5788
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنا تہمد غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5788]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا جس نے تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا زمین پر گھسیٹا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5789
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ مُرَجِّلٌ جُمَّتَهُ إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی یا (یہ بیان کیا کہ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(بنی اسرائیل میں) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5789]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا (کہا کہ) حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی جوڑا پہنے ہوئے اور اپنے بالوں میں کنگھی کر کے فخر و غرور سے چل رہا تھا کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5789]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5790
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ، إِذْ خُسِفَ بِهِ، فَهُوَ يَتَجَلَّلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، تَابَعَهُ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص غرور میں اپنا تہمد گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اسی طرح قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ اس کی متابعت یونس نے زہری سے کی ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5790]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی اپنا تہبند گھسیٹ کر چل رہا تھا کہ اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ یونس نے زہری سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن خالد کی متابعت کی ہے، شعیب نے اس حدیث کو امام زہری سے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5790]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5790M
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ عَمِّهِ جَرِيرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَلَى باب دَارِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، ان سے ان کے چچا جریر بن زید نے بیان کیا کہ میں سالم بن عبداللہ بن عمر کے ساتھ ان کے گھر کے دروازے پر تھا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5790M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5791
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا شَبابةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: لَقِيتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ عَلَى فَرَسٍ، وَهُوَ يَأْتِي مَكَانَهُ الَّذِي يَقْضِي فِيهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مَخِيلَةً لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقُلْتُ لِمُحَارِبٍ: أَذَكَرَ إِزَارَهُ؟، قَالَ: مَا خَصَّ إِزَارًا وَلَا قَمِيصًا، تَابَعَهُ جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، وَزَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَهُ، وَتَابَعَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَقُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ.
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محارب بن دثار قاضی سے ملاقات کی، وہ گھوڑے پر سوار تھے اور مکان عدالت میں آ رہے تھے جس میں وہ فیصلہ کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آپ اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا، قیامت کے دن اس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں کرے گا۔“ (شعبہ نے کہا کہ) میں نے محارب سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تہمد کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ تہمد یا قمیص کسی کی انہوں نے تخصیص نہیں کی تھی۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم اور زید بن اسلم اور زید بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور لیث نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی روایت کی اور نافع کے ساتھ اس کو موسیٰ بن عقبہ اور عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اس میں یوں ہے کہ جو شخص اپنا کپڑا (ازراہ تکبر) لٹکائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5791]
حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں محارب بن دثار رحمہ اللہ سے ملا جبکہ وہ گھوڑے پر سوار تھے اور اس جگہ جا رہے تھے جہاں وہ فیصلے کرتے تھے، میں نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فخر و غرور سے کپڑا گھسیٹا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔“ (شعبہ رحمہ اللہ نے کہا کہ) میں نے محارب سے کہا: کیا (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) تہبند کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تہبند یا قمیض کی تخصیص نہیں کی تھی۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم، زید بن اسلم اور زید بن عبداللہ نے بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ لیث رحمہ اللہ نے نافع رحمہ اللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی حدیث ذکر کی ہے۔ نافع کے ساتھ اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ، عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم رحمہ اللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے: ”جو شخص اپنا کپڑا تکبر سے لٹکائے۔۔۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة