صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب رحمة الولد وتقبيله ومعانقته:
باب: بچے کے ساتھ رحم و شفقت کرنا، اسے بوسہ دینا اور گلے سے لگانا۔
حدیث نمبر: 5997
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسًا، فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 5997]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5997
| من لا يرحم لا يرحم |
صحيح مسلم |
6028
| من لا يرحم لا يرحم |
جامع الترمذي |
1911
| من لا يرحم لا يرحم |
سنن أبي داود |
5218
| من لا يرحم لا يرحم |
مسندالحميدي |
1137
| أنه لا يرحم من لا يرحم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5997 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5997
حدیث حاشیہ:
مزید تشریح حدیث ذیل میں آ رہی ہے۔
مزید تشریح حدیث ذیل میں آ رہی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5997]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5218
آدمی اپنے بچے کا بوسہ لے اس کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا“ (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5218]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین (حسین بن علی رضی اللہ عنہما) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا“ (پیار و شفقت رحم ہی تو ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5218]
فوائد ومسائل:
1- اپنے بچوں کو بوسہ دینا فطری محبت وشفقت کااظہار ہوتا ہے، باپ کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیٹی کو بوسہ دے جیسے کہ اور کی حدیث میں گزرا ہے، مگر بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اس سے کتراتے ہیں جو بلاشبہ غیر فطری ہے۔
2: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنا اللہ عزوجل کی رحمت کا باعث ہے۔
1- اپنے بچوں کو بوسہ دینا فطری محبت وشفقت کااظہار ہوتا ہے، باپ کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیٹی کو بوسہ دے جیسے کہ اور کی حدیث میں گزرا ہے، مگر بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ اس سے کتراتے ہیں جو بلاشبہ غیر فطری ہے۔
2: اللہ کی مخلوق پر رحم کرنا اللہ عزوجل کی رحمت کا باعث ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5218]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1911
بچوں سے پیار محبت کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، اقرع نے کہا: میرے دس لڑکے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا بھی بوسہ نہیں لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1911]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا بوسہ لے رہے تھے، اقرع نے کہا: میرے دس لڑکے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا بھی بوسہ نہیں لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1911]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎:
یعنی جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔
وضاحت: 1؎:
یعنی جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1911]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1137
1137- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اقرع بن حابس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو بوسہ د یتے ہوئے دیکھا، تو بولا: میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی کبھی بوسہ نہیں دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پررحم نہیں کیا جاتا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1137]
فائدہ:
اس حدیث میں سخت دل انسان کے لیے نصیحت ہے جو اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، بلکہ ان کو بوسہ بھی دیتے تھے، سبحان اللہ۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حقیقی اولاد، نواسوں، پوتوں، بھانجوں اور بھتیجوں، جب وہ چھوٹے ہوں، کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ یہ ان سے محبت کی علامت ہے۔
اس حدیث میں سخت دل انسان کے لیے نصیحت ہے جو اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نواسوں سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، بلکہ ان کو بوسہ بھی دیتے تھے، سبحان اللہ۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حقیقی اولاد، نواسوں، پوتوں، بھانجوں اور بھتیجوں، جب وہ چھوٹے ہوں، کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ یہ ان سے محبت کی علامت ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1135]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي