🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب حسن الخلق، والسخاء، وما يكره من البخل:
باب: خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6035
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا، إِذْ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شفیق نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے (کہ منہ سے گالیاں نکالیں) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6035]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جبکہ وہ ہمیں حدیثیں سنا رہے تھے، اس دوران میں انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بد زبانی نہیں کرتے تھے اور نہ بے ہودہ باتیں ہی کرتے تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: تم میں سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6035]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عمر بن حفص النخعي، أبو حفص
Newعمر بن حفص النخعي ← حفص بن غياث النخعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6035
لم يكن رسول الله فاحشا ولا متفحشا خياركم أحاسنكم أخلاقا
صحيح مسلم
6033
لم يكن فاحشا ولا متفحشا خياركم أحاسنكم أخلاقا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6035 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6035
حدیث حاشیہ:
(1)
حسن خلق بہت بڑی دولت ہے۔
قیامت کے دن میزان اعمال سے سب سے زیادہ وزن حسن اخلاق کا ہوگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
کوئی چیز حسن خلق سے بڑھ کر ترازو میں وزنی نہیں ہوگی۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4799)
قیامت کے دن اچھے اخلاق کے حامل اہل ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب اور آپ کے قریب بیٹھنے والے ہوں گے۔
(الأدب المفرد، حدیث: 272)
جنت میں اکثر لوگوں کا داخلہ تقوی شعاری اور خوش اخلاقی کی بنا پر ہوگا۔
(سنن ابن ماجة، الزھد،حدیث: 4246) (2)
اس میں شک نہیں کہ حسن حلق ایک فطری عطیہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ نے رزق کی طرح حسن خلق کی تقسیم بھی پہلے سے کررکھی ہے۔
(مسند أحمد: 387/1، وسلسلة الأحادیث الصحیحة: 482/6، رقم: 2714)
جس انسان میں حسن اخلاق پیدائشی نہ ہو اسے کوشش اور محنت کر کے اسے حاصل کرنا چاہیے کیونکہ بداخلاقی انسانی وقار کے منافی ہے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 564/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6035]

Sahih Bukhari Hadith 6035 in Urdu