🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب حسن الخلق، والسخاء، وما يكره من البخل:
باب: خوش خلقی اور سخاوت کا بیان اور بخل کا ناپسندیدہ ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6034
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ: لَا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، ان سے ابن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6034]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6034
ما سئل النبي عن شيء قط فقال لا
صحيح مسلم
6018
ما سئل رسول الله شيئا قط فقال لا
سنن الدارمي
71
ما سئل النبي شيئا قط فقال لا
مسندالحميدي
1263
لا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6034 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6034
حدیث حاشیہ:
یہ آپ کی مروت کا حال تھا بلکہ اگرہوتی تواس وقت دے دیا ورنہ اس سے وعدہ فرماتے کہ عنقریب تجھ کو یہ دے دوں گا، صلی اللہ علیه وسلم ولا یلزم من ذالك أن لا یقولھا اعتذار ا کما في قوله تعالیٰ قلت لا أجد ما أحملکم علیه (فتح)
یعنی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ نے نہ ہونے کی صورت میں معذرت کے طور پر بھی ایسا نہ فرماتے جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے کہ آپ نے ایک موقع پر کچھ لوگوں سے فرمایا تھا کہ میرے پاس اس وقت تمہاری سواری کا جانور نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6034]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6034
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی دنیا کا مال ومتاع مانگا گیا تو آپ نے دینے سے انکار نہیں کیا، اگر آپ کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو خاموشی اختیار کرتے، اگر آئندہ جلد یا بدیر ملنے کی امید ہوتی تو دینے کا ارداہ کر لیتے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6034]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1263
1263- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ نہیں کی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1263]
فائدہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا ذکر ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سوال کر نے والے کو خالی ہاتھ واپس نہیں موڑ تے تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1261]