صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب النهي عن التكني بابي القاسم وبيان ما يستحب من الاسماء:
باب: ابوالقاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2133 ترقیم شاملہ: -- 5595
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ ، قَال عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ، فَقُلْنَا: لَا نَكْنِيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ".
سفیان بن عیینہ نے کہا: ہمیں (محمد) بن منکدر نے حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، ہم میں سے ایک شخص کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، اس شخص نے اس کا نام قاسم رکھا، ہم نے کہا: ہم تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے (تمہاری یہ خواہش پوری کر کے) تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کریں گے تو وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5595]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو ہم نے کہا، ہم تیری کنیت ابو القاسم نہیں رکھیں گے اور تیری آنکھوں کو (اس کنیت سے) ٹھنڈا نہیں کریں گے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5595]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6186
| سم ابنك عبد الرحمن |
صحيح مسلم |
5595
| أسم ابنك عبد الرحمن |
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري