🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: ما أحب أن لي مثل أحد ذهبا :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6444
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا تَمْضِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، ثُمَّ مَشَى، فَقَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، ثُمَّ قَالَ لِي: مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ"، ثُمَّ انْطَلَقَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى، فَسَمِعْتُ صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي: لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: وَهَلْ سَمِعْتَهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ".
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے کہ ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا، زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا، یہیں ٹھہرے رہو، یہاں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آ نہ جاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ چنانچہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی تھی، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6444]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥زيد بن وهب الجهني، أبو سليمان
Newزيد بن وهب الجهني ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← زيد بن وهب الجهني
ثقة حافظ
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة متقن
👤←👥الحسن بن الربيع البوراني، أبو علي
Newالحسن بن الربيع البوراني ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6444
ما يسرني أن عندي مثل أحد هذا ذهبا تمضي علي ثالثة وعندي منه دينار إلا شيئا أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله ومن خلفه ثم مشى الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة إلا من قال هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله
صحيح البخاري
2388
ما أحب أنه يحول لي ذهبا يمكث عندي منه دينار فوق ثلاث إلا دينارا أرصده لدين الأكثرين هم الأقلون إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وقليل ما هم من مات من أمتك لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة قلت وإن فعل كذا وكذا قال نعم
صحيح مسلم
2304
ما أحب أن أحدا ذاك عندي ذهب أمسى ثالثة عندي منه دينار إلا دينارا أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا حثا بين يديه وهكذا عن يمينه وهكذا عن شماله
صحيح مسلم
2306
ما يسرني أن لي مثله ذهبا أنفقه كله إلا ثلاثة دنانير
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6444 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6444
حدیث حاشیہ:
اہل سنت کا مذہب گنہگار مومن کے بارے میں جو بغیر توبہ کئے مر جائے یہی ہے کہ اس کا معاملہ اللہ کی مرضی پر ہے خواہ گناہ معاف کر کے اس کو بلا عذاب جنت میں داخل کرے یا چند روز عذاب کر کے اسے بخش دے لیکن مرجیہ کہتے ہیں کہ جب آدمی مومن ہو تو کوئی گناہ اس کو ضررنہ کرے گا اور معتزلہ کہتے ہیں کہ وہ بلا توبہ مر جائے تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
یہ ہر دو قول غلط ہیں اور اہل سنت ہی کا مذہب صحیح ہے۔
مومن مسلمان کے لئے بہر حال بخشش مقدرہے۔
یا اللہ! اپنی بخشش سے ہم کو بھی سرفراز فرمائیو۔
(آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6444]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6444
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے دنیا میں فقر و تنگدستی کا انتخاب کیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قناعت، صبر اور توکل کا وافر سرمایہ دے کر ہوس زر سے فارغ کر دیا، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر و فاقے کی جس حالت میں زندگی گزاری وہ اپنے لیے آپ نے خود ہی پسند کی تھی اور اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے اسے خود مانگا تھا۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6444]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2306
احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں مدینہ آیا اس اثناء میں کہ میں قریشی سرداروں کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا جس کے کپڑے موٹے تھے جسم میں خشونت تھی اور چہرہ پر بھی سختی تھی وہ آ کر ان کے پاس رک گیا اور کہنے لگا مال و دولت سمیٹنے والوں کو اس گرم پتھر سے آگاہ کرو (اطلاع و خبر دو) جس کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کے پستان کی نوک پر رکھا جائے۔ گا حتی کہ وہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2306]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مَلَأٌ:
اشراف و سردار۔
(2)
أَخْشَنُ:
سخت اور کھردرا،
جس میں ملائمت اور نرمی نہ ہو۔
(3)
رَضْفٍ:
گرم پتھر۔
(4)
يُحْمَى عَلَيْهِ:
اسے تپایا اور گرم کیا جائے گا۔
(5)
حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ:
سر پستان۔
(6)
نُغْضِ:
شانے (کندھے)
کے کنارے کی پتلی اور باریک ہڈی۔
(7)
لَا تَعْتَرِيهِمْ:
اپنی ضرورت پوری کرنے کا ان سے مطالبہ نہیں کرتے۔
فوائد ومسائل:
(1)
جمہور صحابہ و تابعین اور جمہور امت کے نزدیک کنز اس خزانہ اور مال و دولت کو کہتے ہیں جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچ جاتا ہے لیکن مال کا مالک اس کی زکاۃ ادا کرنے کی بجائے اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کو محتاجوں ضرورتمندوں کی ضروریات کے لیے صرف کر کے اللہ کا شکر گزار نہیں بنتا ہے لیکن جو مال حد نصاب کو نہیں پہنچتا کنز نہیں ہے کیونکہ شریعت نے اس پر زکاۃ فرض نہیں کی۔
لہٰذا وہ نصاب جس سے زکاۃ ادا کر دی جائے وہ بھی کنز نہیں رہے گا۔
کیونکہ مالک نے اسے محتاجوں اور ضرورتمندوں پر خرچ کیا ہے اس لیے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ جو مال زکاۃ کی ادائیگی کے نصاب کو پہنچا اور اس کی زکاۃ ادا کردی گئی تو وہ کنز نہیں ہے (سنن ابو داؤد)
علامہ عراقی کہتے ہیں سندہ جید،
اس کی سند عمدہ اور قابل اعتماد ہے ہاں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
انسان کے لیے بلند ترین مقام جس پر ہمیشہ کم لوگ ہی فائز ہوتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ ضروریات سے زائد اپنا تمام مال و دولت دین اور اہل دین کی ضروریات میں صرف کر دے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ تبوک کے موقع پر اپنا تمام مال و متاع آپ کے سامنے لا رکھا تھا۔
اور یہ شرف صرف ابو بکر کو ہی حاصل ہوا تھا۔
(2)
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ،
یہ تھا (غلہ وخوراک مویشیوں کے سوا)
مسلمان اپنا تمام مال و دولت یعنی سونا چاندی اور کیش کی صورت میں جو کچھ ہے وہ اپنی ضرورت سے زائد سب کا سب خرچ کردیں اور یہ اس کے لیے لازم اور ضروری ہے۔
اس طرح وہ وجوبی ولازمی اور استحبابی و مندوب حکم میں امتیاز نہیں کرتے تھے حالانکہ یہ بات مقاصد شریعت اور اس کی روح کے منافی ہے۔
کیونکہ تمام انسان اعلیٰ معیار اور بلند مقام پر یکساں طور پر فائز نہیں ہو سکتے تمام افراد کو تو فرائض ہی کا پابند کیا جا سکتا ہے۔
اگر حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ ہی لازم ہوتا تو پھر زکاۃ صدقات اور وراثت مال کی تقسیم کی ضرورت ہی نہ رہتی اور کم ازکم خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کی لازمی طور پر پابندی کرتے حالانکہ یہ ابھی بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی صحابی نے بھی اپنا تمام اندوختہ پیش نہیں کیا تھا اور امت میں سے کسی امام نے اس نظریہ کو قبول نہیں کیا۔
لیکن حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زندگی بھر اپنے نظریہ پر عمل کیا اور کھانے پینے لباس کے سوا کوئی مال و متاع یا ساز وسامان نہیں جوڑا اور اشتراکیوں کی طرح محض پر فریب نعرہ لگانے پر اکتفا نہیں کیا کہ اپنے گھر میں عیش و عشرت کا ہر سامان جمع ہے وافر بینک بیلنس ہے اور زبان پر نعرہ ابو ذری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2306]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2388
2388. حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ نے احد پہاڑ کو دیکھ کرفرمایا: میں نہیں چاہتا کہ یہ پہاڑ میرے لیے سونے کابن جائے تو تین دن کے بعد ایک دینار بھی اس میں سے میرے پاس باقی رہے مگر وہ دینار جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لیا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک جو دولت مند ہیں وہی محتاج ہیں مگر وہ شخص جو مال کو اس طرح خرچ کرے۔ (راوی حدیث)ابو شہاب نے اپنے ہاتھ سے سامنے دائیں اور بائیں جانب اشارہ کر کے بتایا کہ اس طریقے سے۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں ٹھہرو۔ پھر آپ تھوڑی دور آگے بڑھ گئے۔ چنانچہ میں نے کچھ آواز سنی تو ادھر جانا چاہا لیکن مجھے آپ کافرمان یاد آگیا کہ یہیں ٹھہرے رہنا جب تک میں تیرے پاس نہ آجاؤں۔ جب آپ واپس آئےتو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آواز کیسی تھی جو میں نے سنی؟۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2388]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیاضی اور سخاوت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اُحد پہاڑ کے سونا بننے کی تمنا کی تاکہ میں اسے تین دن کے اندر اندر لوگوں میں تقسیم کر دوں۔
آپ کی غریب پروری کو بیان کیا گیا ہے، نیز پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادائیگی قرض کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔
آپ نے فرمایا:
تقسیم کے بعد میرے پاس سونا اتنا ہی بچے جس سے میں قرض ادا کر سکوں۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی صدقہ و خیرات کرنے پر مقدم ہے، نیز اس کی ادائیگی کے لیے انسان کو ہر وقت فکرمند رہنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2388]

Sahih Bukhari Hadith 6444 in Urdu