🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب الترغيب في الصدقة:
باب: صدقہ کی ترغیب دینا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 94 ترقیم شاملہ: -- 2304
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً، وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَى ثَالِثَةً، عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَهَكَذَا عَنْ شِمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا، قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، قَالَ: سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ، قَالَ: ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ "، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ".
اعمش نے زید بن وہب سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (ایک رات) عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کالی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضر ہوں! فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ (کوہ) احد میرے پاس سونے کا ہو اور میں اس حالت میں تیسری شام کروں کہ میرے پاس اس میں سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں نے قرض (کی ادائیگی) کے لیے بچایا ہو، اور میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح (خرچ) کروں۔ آپ نے اپنے سامنے دونوں ہاتھوں سے بھر کر ڈالنے کا اشارہ کیا۔ اس طرح (خرچ) کروں۔ دائیں طرف سے۔۔۔ اس طرح۔۔۔ بائیں طرف سے۔۔۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر ہم چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حاضر ہوں! آپ نے فرمایا: یقیناً زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم (مایہ) ہوں گے، مگر وہ جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔ جس طرح آپ نے پہلی بار کیا تھا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم پھر چلے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! میرے واپس آنے تک اسی حالت میں ٹھہرے رہنا۔ کہا: آپ چلے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں نے شور سا سنا آواز سنی تو میں نے دل میں کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز پیش آ گئی ہے، چنانچہ میں نے پیچھے جانے کا ارادہ کر لیا پھر مجھے آپ کا یہ فرمان یاد آ گیا: میرے آنے تک یہاں سے نہ ہٹنا۔ تو میں نے آپ کا انتظار کیا، جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے جو (کچھ) سنا تھا آپ کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ انہوں نے کہا: چاہے اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2304]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی پتھریلی زمین میں چل رہا تھا اور ہم احد پہاڑ دیکھ رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کی شکل میں موجود ہو اور تیسری شام اس صورت میں آئے کہ میرے پاس اس سے ایک دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے تیار رکھوں، مگر میں چاہتا ہوں کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں خرچ یا تقسیم کر دوں، اس طرف (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کر آگے ڈالا) اور اس طرح دائیں طرف اور اس طرح بائیں طرف۔ پھر ہم چلتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (زیادہ مالدار ہی قیامت کے دن کم رتبہ ہوں گے) مگر جس نے ادھر اُدھر ہر جگہ خرچ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کی طرح (آگے، دائیں، بائیں) کی طرف اشارہ فرمایا، پھر ہم چل پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! میرے آنے تک اس حالت میں رہنا یعنی یہیں ٹھہرے رہنا، کہیں نہ جانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے حتیٰ کہ میری نظروں سے چھپ گئے، میں نے شور اور آواز سنی تو میں نے دل میں کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دشمن کا سامنا ہے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا قصد کیا، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا کہ: میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا۔ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے ان آوازوں کا تذکرہ کیا جو میں نے سنی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا جو فرد اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل علیہ السلام! اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اگرچہ اس نے چوری اور زنا کا ارتکاب کیا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 94
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥زيد بن وهب الجهني، أبو سليمان
Newزيد بن وهب الجهني ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← زيد بن وهب الجهني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة ثبت إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6444
ما يسرني أن عندي مثل أحد هذا ذهبا تمضي علي ثالثة وعندي منه دينار إلا شيئا أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله ومن خلفه ثم مشى الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة إلا من قال هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله
صحيح البخاري
2388
ما أحب أنه يحول لي ذهبا يمكث عندي منه دينار فوق ثلاث إلا دينارا أرصده لدين الأكثرين هم الأقلون إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وقليل ما هم من مات من أمتك لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة قلت وإن فعل كذا وكذا قال نعم
صحيح مسلم
2304
ما أحب أن أحدا ذاك عندي ذهب أمسى ثالثة عندي منه دينار إلا دينارا أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا حثا بين يديه وهكذا عن يمينه وهكذا عن شماله
صحيح مسلم
2306
ما يسرني أن لي مثله ذهبا أنفقه كله إلا ثلاثة دنانير
Sahih Muslim Hadith 2304 in Urdu