🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب في الكنازين للاموال والتغليظ عليهم:
باب: مال کو خزانہ بنانے والوں کے بارے میں اور ان کو ڈانٹ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 992 ترقیم شاملہ: -- 2306
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ، أَخْشَنُ الْجَسَدِ، أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفَيْهِ، وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفَيْهِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ، قَالَ: فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا، قَالَ: فَأَدْبَرَ، وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا قُلْتَ لَهُمْ، قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا، إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ " أَتَرَى أُحُدًا "، فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنَ الشَّمْسِ، وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، فَقَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ، إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، ثُمَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا "، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ مِنْ قُرَيْشٍ، لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ، قَالَ: لَا وَرَبِّكَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا، وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ابوعلاء نے حضرت احنف بن قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مدینہ آیا تو میں قریشی سرداروں کے ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک کھردرے کپڑوں، گٹھے ہوئے جسم اور سخت چہرے والا ایک آدمی آیا اور ان کے سر پر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مال و دولت جمع کرنے والوں کو اس تپتے ہوئے پتھر کی بشارت سنا دو جس کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کی نوک پستان پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے دونوں کندھوں کی باریک ہڈیوں سے لہراتا ہوا نکل جائے گا اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکل جائے گا۔ (احنف نے) کہا: اس پر لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو نہ دیکھا کہ اس نے کوئی جواب دیا ہو۔ کہا: پھر وہ لوٹا اور میں نے اس کا پیچھا کیا حتیٰ کہ وہ ایک ستون کے ساتھ (ٹیک لگا کر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے، میں نے انہیں اسے ناپسند کرتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں۔ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے لبیک کہا تو آپ نے فرمایا: ’کیا تم احد (پہاڑ) کو دیکھتے ہو؟‘ میں نے دیکھا کہ مجھ پر کتنا سورج باقی ہے، میں سمجھ رہا تھا کہ آپ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں نے عرض کی: ’میں اسے دیکھ رہا ہوں۔‘ تو آپ نے فرمایا: ’میرے لیے یہ بات باعث مسرت نہ ہو گی کہ میرے پاس اس کے برابر سونا ہو اور میں تین دیناروں کے سوا اس سارے (سونے) کو خرچ (بھی) کر ڈالوں۔‘ پھر یہ لوگ ہیں، دنیا جمع کرتے ہیں، کچھ عقل نہیں کرتے۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ کا اپنے (حکمران) قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے، آپ اپنی ضرورت کے لیے نہ ان کے پاس جاتے ہیں اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، تمہارے پروردگار کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلے کے بارے میں پوچھوں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2306]
احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، اس اثناء میں کہ میں قریشی سرداروں کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا جس کے کپڑے موٹے تھے، جسم میں خشونت تھی اور چہرے پر بھی سختی تھی، وہ آ کر ان کے پاس رک گیا اور کہنے لگا: مال و دولت سمیٹنے والوں کو اس گرم پتھر سے آگاہ کرو (اطلاع و خبر دو) جس کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اسے ان کے ایک فرد کے پستان کی نوک پر رکھا جائے گا حتی کہ وہ اس کے کندھے کی باریک ہڈی سے نکلے گا، اور اسے اس کے شانوں کی باریک ہڈیوں پر رکھا جائے گا حتی کہ وہ اس کے پستانوں کے سروں سے حرکت کرتا ہوا نکلے گا۔ احنف کہتے ہیں: لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے اور میں نے ان میں سے کسی کو اسے کچھ جواب دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور وہ واپس پلٹ گیا، میں نے اس کا پیچھا کیا حتی کہ وہ ایک ستون کے ساتھ بیٹھ گیا، تو میں نے کہا: میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ آپ نے انہیں جو کچھ کہا ہے انہوں نے اسے ناپسند سمجھا ہے، اس نے کہا: ان لوگوں کو کچھ عقل و شعور نہیں ہے، میرے گہرے دوست ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں احد نظر آ رہا ہے؟ میں نے دیکھا کہ کس قدر سورج کھڑا ہے (دن باقی ہے) کیونکہ میں سمجھ رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی کسی ضرورت کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں، میں نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات میرے لیے مسرت کا باعث نہیں ہے کہ میرے پاس اس کے برابر سونا ہو اور میں اس تمام کو خرچ کر ڈالوں مگر تین دینار جنہیں قرض چکانے کے لیے رکھ چھوڑوں، اس کے باوجود یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں، انہیں کچھ عقل نہیں ہے، میں نے اس سے پوچھا: آپ کا اپنے قریشی بھائیوں سے کیا معاملہ ہے؟ اپنی ضرورت کے لیے ان کے پاس نہیں جاتے اور نہ ان سے کچھ لیتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: نہیں، تیرے رب کی قسم! نہ میں ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگوں گا اور نہ ہی ان سے کسی دینی مسئلہ کے بارے میں پوچھوں گا حتی کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 992
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥الأحنف بن قيس التميمي، أبو بحر
Newالأحنف بن قيس التميمي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد الله العامري، أبو العلاء
Newيزيد بن عبد الله العامري ← الأحنف بن قيس التميمي
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← يزيد بن عبد الله العامري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة حجة حافظ
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6444
ما يسرني أن عندي مثل أحد هذا ذهبا تمضي علي ثالثة وعندي منه دينار إلا شيئا أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله ومن خلفه ثم مشى الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة إلا من قال هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله
صحيح البخاري
2388
ما أحب أنه يحول لي ذهبا يمكث عندي منه دينار فوق ثلاث إلا دينارا أرصده لدين الأكثرين هم الأقلون إلا من قال بالمال هكذا وهكذا وقليل ما هم من مات من أمتك لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة قلت وإن فعل كذا وكذا قال نعم
صحيح مسلم
2304
ما أحب أن أحدا ذاك عندي ذهب أمسى ثالثة عندي منه دينار إلا دينارا أرصده لدين إلا أن أقول به في عباد الله هكذا حثا بين يديه وهكذا عن يمينه وهكذا عن شماله
صحيح مسلم
2306
ما يسرني أن لي مثله ذهبا أنفقه كله إلا ثلاثة دنانير
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2306 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2306
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مَلَأٌ:
اشراف و سردار۔
(2)
أَخْشَنُ:
سخت اور کھردرا،
جس میں ملائمت اور نرمی نہ ہو۔
(3)
رَضْفٍ:
گرم پتھر۔
(4)
يُحْمَى عَلَيْهِ:
اسے تپایا اور گرم کیا جائے گا۔
(5)
حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ:
سر پستان۔
(6)
نُغْضِ:
شانے (کندھے)
کے کنارے کی پتلی اور باریک ہڈی۔
(7)
لَا تَعْتَرِيهِمْ:
اپنی ضرورت پوری کرنے کا ان سے مطالبہ نہیں کرتے۔
فوائد ومسائل:
(1)
جمہور صحابہ و تابعین اور جمہور امت کے نزدیک کنز اس خزانہ اور مال و دولت کو کہتے ہیں جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچ جاتا ہے لیکن مال کا مالک اس کی زکاۃ ادا کرنے کی بجائے اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے اور اس کو محتاجوں ضرورتمندوں کی ضروریات کے لیے صرف کر کے اللہ کا شکر گزار نہیں بنتا ہے لیکن جو مال حد نصاب کو نہیں پہنچتا کنز نہیں ہے کیونکہ شریعت نے اس پر زکاۃ فرض نہیں کی۔
لہٰذا وہ نصاب جس سے زکاۃ ادا کر دی جائے وہ بھی کنز نہیں رہے گا۔
کیونکہ مالک نے اسے محتاجوں اور ضرورتمندوں پر خرچ کیا ہے اس لیے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا بَلَغَ أَنْ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ فَزُكِّيَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ جو مال زکاۃ کی ادائیگی کے نصاب کو پہنچا اور اس کی زکاۃ ادا کردی گئی تو وہ کنز نہیں ہے (سنن ابو داؤد)
علامہ عراقی کہتے ہیں سندہ جید،
اس کی سند عمدہ اور قابل اعتماد ہے ہاں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
انسان کے لیے بلند ترین مقام جس پر ہمیشہ کم لوگ ہی فائز ہوتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ ضروریات سے زائد اپنا تمام مال و دولت دین اور اہل دین کی ضروریات میں صرف کر دے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ تبوک کے موقع پر اپنا تمام مال و متاع آپ کے سامنے لا رکھا تھا۔
اور یہ شرف صرف ابو بکر کو ہی حاصل ہوا تھا۔
(2)
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ،
یہ تھا (غلہ وخوراک مویشیوں کے سوا)
مسلمان اپنا تمام مال و دولت یعنی سونا چاندی اور کیش کی صورت میں جو کچھ ہے وہ اپنی ضرورت سے زائد سب کا سب خرچ کردیں اور یہ اس کے لیے لازم اور ضروری ہے۔
اس طرح وہ وجوبی ولازمی اور استحبابی و مندوب حکم میں امتیاز نہیں کرتے تھے حالانکہ یہ بات مقاصد شریعت اور اس کی روح کے منافی ہے۔
کیونکہ تمام انسان اعلیٰ معیار اور بلند مقام پر یکساں طور پر فائز نہیں ہو سکتے تمام افراد کو تو فرائض ہی کا پابند کیا جا سکتا ہے۔
اگر حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظریہ ہی لازم ہوتا تو پھر زکاۃ صدقات اور وراثت مال کی تقسیم کی ضرورت ہی نہ رہتی اور کم ازکم خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کی لازمی طور پر پابندی کرتے حالانکہ یہ ابھی بتا چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی صحابی نے بھی اپنا تمام اندوختہ پیش نہیں کیا تھا اور امت میں سے کسی امام نے اس نظریہ کو قبول نہیں کیا۔
لیکن حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زندگی بھر اپنے نظریہ پر عمل کیا اور کھانے پینے لباس کے سوا کوئی مال و متاع یا ساز وسامان نہیں جوڑا اور اشتراکیوں کی طرح محض پر فریب نعرہ لگانے پر اکتفا نہیں کیا کہ اپنے گھر میں عیش و عشرت کا ہر سامان جمع ہے وافر بینک بیلنس ہے اور زبان پر نعرہ ابو ذری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2306]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6444
6444. حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا کہ ہمارے سامنے اُحد پہاڑ نمودار ہوا۔ آپ نے فرمایا:اے ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس بات سے بالکل خوشی نہیں ہوگی کہ میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گزر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوائے اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑوں، مگر میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کردوں۔ آپ نے دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر آپ کچھ دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک زیادہ مال رکھنے والے قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کیا۔۔۔ آپ نے دائیں، بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ فرمایا۔۔۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6444]
حدیث حاشیہ:
اہل سنت کا مذہب گنہگار مومن کے بارے میں جو بغیر توبہ کئے مر جائے یہی ہے کہ اس کا معاملہ اللہ کی مرضی پر ہے خواہ گناہ معاف کر کے اس کو بلا عذاب جنت میں داخل کرے یا چند روز عذاب کر کے اسے بخش دے لیکن مرجیہ کہتے ہیں کہ جب آدمی مومن ہو تو کوئی گناہ اس کو ضررنہ کرے گا اور معتزلہ کہتے ہیں کہ وہ بلا توبہ مر جائے تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
یہ ہر دو قول غلط ہیں اور اہل سنت ہی کا مذہب صحیح ہے۔
مومن مسلمان کے لئے بہر حال بخشش مقدرہے۔
یا اللہ! اپنی بخشش سے ہم کو بھی سرفراز فرمائیو۔
(آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6444]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2388
2388. حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ نے احد پہاڑ کو دیکھ کرفرمایا: میں نہیں چاہتا کہ یہ پہاڑ میرے لیے سونے کابن جائے تو تین دن کے بعد ایک دینار بھی اس میں سے میرے پاس باقی رہے مگر وہ دینار جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لیا ہو۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک جو دولت مند ہیں وہی محتاج ہیں مگر وہ شخص جو مال کو اس طرح خرچ کرے۔ (راوی حدیث)ابو شہاب نے اپنے ہاتھ سے سامنے دائیں اور بائیں جانب اشارہ کر کے بتایا کہ اس طریقے سے۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہیں ٹھہرو۔ پھر آپ تھوڑی دور آگے بڑھ گئے۔ چنانچہ میں نے کچھ آواز سنی تو ادھر جانا چاہا لیکن مجھے آپ کافرمان یاد آگیا کہ یہیں ٹھہرے رہنا جب تک میں تیرے پاس نہ آجاؤں۔ جب آپ واپس آئےتو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آواز کیسی تھی جو میں نے سنی؟۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2388]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فیاضی اور سخاوت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اُحد پہاڑ کے سونا بننے کی تمنا کی تاکہ میں اسے تین دن کے اندر اندر لوگوں میں تقسیم کر دوں۔
آپ کی غریب پروری کو بیان کیا گیا ہے، نیز پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ادائیگی قرض کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔
آپ نے فرمایا:
تقسیم کے بعد میرے پاس سونا اتنا ہی بچے جس سے میں قرض ادا کر سکوں۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی ادائیگی صدقہ و خیرات کرنے پر مقدم ہے، نیز اس کی ادائیگی کے لیے انسان کو ہر وقت فکرمند رہنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2388]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6444
6444. حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا کہ ہمارے سامنے اُحد پہاڑ نمودار ہوا۔ آپ نے فرمایا:اے ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! میں نے عرض کی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اس بات سے بالکل خوشی نہیں ہوگی کہ میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گزر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوائے اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑوں، مگر میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کردوں۔ آپ نے دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر آپ کچھ دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک زیادہ مال رکھنے والے قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کیا۔۔۔ آپ نے دائیں، بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ فرمایا۔۔۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6444]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے دنیا میں فقر و تنگدستی کا انتخاب کیا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قناعت، صبر اور توکل کا وافر سرمایہ دے کر ہوس زر سے فارغ کر دیا، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر و فاقے کی جس حالت میں زندگی گزاری وہ اپنے لیے آپ نے خود ہی پسند کی تھی اور اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے اسے خود مانگا تھا۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6444]

Sahih Muslim Hadith 2306 in Urdu