🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب كيف الحشر:
باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6529
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آدَمُ فَتَرَاءَى ذُرِّيَّتُهُ، فَيُقَالُ: هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ: كَمْ أُخْرِجُ، فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا؟ قَالَ:" إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ".
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا۔ پھر ان کی نسل ان کو دیکھے گی تو کہا جائے گا کہ یہ تمہارے بزرگ دادا آدم ہیں۔ (پکارنے پر) وہ کہیں گے کہ لبیک و سعدیک۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار! کتنوں کو نکالوں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد (ننانوے فیصد دوزخی ایک جنتی)۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہو گی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6529]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سالم العدوي، أبو الغيث
Newسالم العدوي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥ثور بن زيد الديلي
Newثور بن زيد الديلي ← سالم العدوي
ثقة
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← ثور بن زيد الديلي
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي، أبو بكر
Newعبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي أويس الأصبحي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي أويس الأصبحي ← عبد الحميد بن أبي أويس الأصبحي
صدوق يخطئ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6529
أخرج بعث جهنم من ذريتك فيقول يا رب كم أخرج فيقول أخرج من كل مائة تسعة وتسعين فقالوا يا رسول الله إذا أخذ منا من كل مائة تسعة وتسعون فماذا يبقى منا أمتي في الأمم كالشعرة البيضاء في الثور الأسود
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6529 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6529
حدیث حاشیہ:
اس لیے اگر ننانوے فیصدی بھی دوزخ میں جائیں تو تم کو فکر نہ کرنا چاہئے ایک فیصد آدم علیہ السلام کی اولاد میں سارے سچے مسلمان آجائیں گے۔
بلکہ دوسری امتوں کے موحد اشخاص بھی ہوں گے۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ دوزخ کی مردم شماری جنت کی مردم شماری سے کہیں زیادہ ہوگی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6529]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6529
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تسلی دی کہ اگر ننانوے فی صد بھی جہنم میں جائیں تو تمہیں فکر نہیں کرنی چاہیے۔
ایک فیصد حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں تمام سچے مسلمان آ جائیں گے بلکہ اس میں دوسری امتوں کے مُوحد (توحید پرست)
شخص بھی ہوں گے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل دوزخ کی تعداد اہل جنت کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو گی، اس کے باوجود جہنم مزید کا مطالبہ کرے گی جیسا کہ قرآن میں ہے:
اللہ تعالیٰ جہنم سے فرمائے گا:
کیا تو بھر گئی ہے؟ تو وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔
(ق: 30/50)
حدیث میں ہے کہ جہنمی، جہنم میں ڈالے جائیں گے تو جہنم یہی کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے؟ حتی کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھ دے گا۔
اس وقت وہ کہے گی بس بس (میں بھر گئی)
۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4848)
اسی طرح جب سب جنتی جنت میں چلے جائیں گے تو جنت میں بہت سی جگہ خالی پڑی ہو گی، اللہ تعالیٰ اسے بھرنے کے لیے موقع پر کوئی مخلوق پیدا کرے گا تو اس سے جنت کو بھرے گا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4850) (3)
بہرحال قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی امیدوں سے بڑھ کر دے گا جیسا کہ قرآن میں ہے:
عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔
(الضحیٰ: 93/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6529]