صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب المعصوم من عصم الله:
باب: معصوم وہ ہے جسے اللہ گناہوں سے بچائے رکھے۔
حدیث نمبر: Q6611
عَاصِمٌ مَانِعٌ قَالَ مُجَاهِدٌ: سَدًّا عَنِ الْحَقِّ يَتَرَدَّدُونَ فِي الضَّلَالَةِ، دَسَّاهَا أَغْوَاهَا.
اللہ تعالیٰ نے (سورۃ ہود میں) فرمایا «لا عاصم اليوم من امز الله»، «عاصم» کے معنی روکنے والا۔ مجاہد نے کہا یہ جو سورۃ یٰسین میں فرمایا «وجعلنا من بين ايديهم سدا» یعنی ”ہم نے حق بات کے ماننے سے ان پر آڑ کر دی وہ گمراہی (گڑھا) میں ڈگمگا رہے ہیں۔“ سورۃ والشمس میں جو لفظ «دساها» ہے اس کا معنی گمراہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: Q6611]
حدیث نمبر: 6611
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا اسْتُخْلِفَ خَلِيفَةٌ إِلَّا لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی کوئی شخص حاکم ہوتا ہے تو اس کے صلاح کار اور مشیر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں اور معصوم وہ ہے جسے اللہ محفوظ رکھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر يونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← يونس بن يزيد الأيلي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6611
| ما استخلف خليفة إلا له بطانتان بطانة تأمره بالخير وتحضه عليه وبطانة تأمره بالشر وتحضه عليه المعصوم من عصم الله |
سنن النسائى الصغرى |
4207
| ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة إلا كانت له بطانتان بطانة تأمره بالخير وبطانة تأمره بالشر وتحضه عليه المعصوم من عصم الله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6611 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6611
حدیث حاشیہ:
گناہوں اور آفات سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
گناہوں اور آفات سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6611]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4207
امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4207]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا اور نہ کوئی خلیفہ ایسا بنایا جس کے دو مشیر (قریبی راز دار) نہ ہوں۔ ایک مشیر اسے خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا اسے شر اور برے کام کا حکم دیتا اور اس پر ابھارتا ہے، اور برائیوں سے معصوم محفوظ تو وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معصوم محفوظ رکھے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4207]
اردو حاشہ:
یہ بات صرف نبی و خلیفہ ہی سے خاص نہیں، ہر شخص کو اسی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس کو اچھے ساتھی بھی ملتے ہیں اور برے بھی۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس پر غلبہ اچھے ساتھیوں او مشیروں کا ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اور بدنصیب ہے وہ شخص جو برے ساتھیوں اور مشیروں کے زیر اثر رہا۔
یہ بات صرف نبی و خلیفہ ہی سے خاص نہیں، ہر شخص کو اسی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس کو اچھے ساتھی بھی ملتے ہیں اور برے بھی۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس پر غلبہ اچھے ساتھیوں او مشیروں کا ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اور بدنصیب ہے وہ شخص جو برے ساتھیوں اور مشیروں کے زیر اثر رہا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4207]
Sahih Bukhari Hadith 6611 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري