صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 7120
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا مَعْبَدٌ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"تَصَدَّقُوا، فَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا"، قَالَ مُسَدَّدٌ: حَارِثَةُ أَخُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لِأُمِّهِ، قَالَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے معبد نے بیان کیا، انہوں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ کرو کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب ایک شخص اپنا صدقہ لے کر پھرے گا اور کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔“ مسدد نے بیان کیا کہ حارثہ عبیداللہ بن عمر کے ماں شریک بھائی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7120]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حارثة بن وهب الخزاعي | صحابي | |
👤←👥معبد بن خالد الجدلي، أبو القاسم معبد بن خالد الجدلي ← حارثة بن وهب الخزاعي | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← معبد بن خالد الجدلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7120
| تصدقوا فسيأتي على الناس زمان يمشي الرجل بصدقته فلا يجد من يقبلها |
صحيح البخاري |
1424
| تصدقوا فسيأتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فيقول الرجل لو جئت بها بالأمس لقبلتها منك فأما اليوم فلا حاجة لي فيها |
صحيح البخاري |
1411
| تصدقوا فإنه يأتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فلا يجد من يقبلها يقول الرجل لو جئت بها بالأمس لقبلتها فأما اليوم فلا حاجة لي بها |
صحيح مسلم |
2337
| تصدقوا فيوشك الرجل يمشي بصدقته فيقول الذي أعطيها لو جئتنا بها بالأمس قبلتها فأما الآن فلا حاجة لي بها فلا يجد من يقبلها |
سنن النسائى الصغرى |
2556
| تصدقوا فإنه سيأتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فيقول الذي يعطاها لو جئت بها بالأمس قبلتها فأما اليوم فلا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7120 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7120
حدیث حاشیہ:
1۔
بڑی بڑی فتوحات کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں یہ صورت حال پیدا ہوگئی تھی، اسی طرح حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں بھی یہی حالت تھی کہ مال ودولت کی اس قدر فراوانی تھی کہ کوئی صدقہ لینے والا نہیں ملتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت بھی یہی صورت ہوگی کہ صدقہ لینے والا کوئی شخص نہیں ملے گا۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3448)
2۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں مال ودولت کی اس قدر بہتات، عدل وانصاف اور مستحقین کو ان کے حقوق دینے کی وجہ سے تھی جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہد میں مال کی فراوانی لوگوں کی کمی او قرب قیامت کی وجہ سے ہو گی۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 104/13)
1۔
بڑی بڑی فتوحات کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں یہ صورت حال پیدا ہوگئی تھی، اسی طرح حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں بھی یہی حالت تھی کہ مال ودولت کی اس قدر فراوانی تھی کہ کوئی صدقہ لینے والا نہیں ملتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت بھی یہی صورت ہوگی کہ صدقہ لینے والا کوئی شخص نہیں ملے گا۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3448)
2۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں مال ودولت کی اس قدر بہتات، عدل وانصاف اور مستحقین کو ان کے حقوق دینے کی وجہ سے تھی جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہد میں مال کی فراوانی لوگوں کی کمی او قرب قیامت کی وجہ سے ہو گی۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 104/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7120]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2556
صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2556]
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2556]
اردو حاشہ:
(1) ”ایسا زمانہ“ واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسا زمانہ آیا۔ قرب قیامت بھی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ دولت عام ہو جائے گی۔ صدقہ تو ایک طرف رہا، کوئی دولت (سونا وغیرہ) نہ اٹھائے گا۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الزكاة، حدیث: 1013)
(2) ”کل“ ضروری نہیں حقیقتاً گزشتہ کل ہی مراد ہو، بلکہ مراد اس سے پہلے کا زمانہ بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ سال دو سال یا اس سے کم و بیش ہی ہو۔
(1) ”ایسا زمانہ“ واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسا زمانہ آیا۔ قرب قیامت بھی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ دولت عام ہو جائے گی۔ صدقہ تو ایک طرف رہا، کوئی دولت (سونا وغیرہ) نہ اٹھائے گا۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الزكاة، حدیث: 1013)
(2) ”کل“ ضروری نہیں حقیقتاً گزشتہ کل ہی مراد ہو، بلکہ مراد اس سے پہلے کا زمانہ بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ سال دو سال یا اس سے کم و بیش ہی ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2556]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1411
1411. حضرت حارثہ بن وہب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے،آپ فرمارہے تھے۔”لوگو! صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک وقت آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لیے ہوئے پھرے گا مگر کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا جو اس کو قبول کرے۔ جسے دینے لگے گا وہ جواب دے گا:اگر تو کل لاتا تو میں لے لیتا، لیکن آج تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1411]
حدیث حاشیہ:
جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا وہ یہ جواب دے گا کہ اگر تم کل اسے لائے ہوتے تو میں قبول کرلیتا۔
آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
قیامت کے قریب زمین کی ساری دولت باہر نکل آئے گی اور لوگ کم رہ جائیں گے۔
ایسی حالت میں کسی کو مال کی حاجت نہ ہوگی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کو غنیمت جانو جب تم میں محتاج لوگ موجود ہیں اور جتنی ہوسکے خیرات دو۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ قیامت کے قریب ایسے جلد جلد انقلاب ہوں گے کہ آج آدمی محتاج ہے کل امیر ہوگا۔
آج اس دور میں ایسا ہی ہورہا ہے۔
ساری روئے زمین پر ایک طوفان برپا ہے مگر وہ زمانہ ابھی دور ہے کہ لوگ زکوٰۃ وصدقات لینے والے باقی نہ رہیں۔
جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا وہ یہ جواب دے گا کہ اگر تم کل اسے لائے ہوتے تو میں قبول کرلیتا۔
آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
قیامت کے قریب زمین کی ساری دولت باہر نکل آئے گی اور لوگ کم رہ جائیں گے۔
ایسی حالت میں کسی کو مال کی حاجت نہ ہوگی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت کو غنیمت جانو جب تم میں محتاج لوگ موجود ہیں اور جتنی ہوسکے خیرات دو۔
اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ قیامت کے قریب ایسے جلد جلد انقلاب ہوں گے کہ آج آدمی محتاج ہے کل امیر ہوگا۔
آج اس دور میں ایسا ہی ہورہا ہے۔
ساری روئے زمین پر ایک طوفان برپا ہے مگر وہ زمانہ ابھی دور ہے کہ لوگ زکوٰۃ وصدقات لینے والے باقی نہ رہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1411]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1424
1424. حضرت حارثہ بن وہب بن خزاعی ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:”صدقہ وخیرات کیاکرو،عنقریب تم پر ایک وقت آنے والا ہے کہ آدمی اپنا صدقہ اٹھائے پھرے گا، دوسرا آدمی کہے گا:اگر تو گزشتہ کل میرے پاس لے آتا تو میں تجھ سے یہ صدقہ قبول کرلیتا، لیکن آج مجھے تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1424]
حدیث حاشیہ:
ثابت ہوا کہ مرد مخلص اگر صدقہ زکوٰۃ علانیہ لے کر تقسیم کے لیے نکلے بشرطیکہ خلوص وللہیت مد نظر ہوتو یہ بھی مذموم نہیں ہے۔
یوں بہتر یہی ہے کہ جہاں تک ہوسکے ریا ونمود سے بچنے کے لیے پوشیدہ طورپر صدقہ زکوٰۃ خیرات دی جائے۔
ثابت ہوا کہ مرد مخلص اگر صدقہ زکوٰۃ علانیہ لے کر تقسیم کے لیے نکلے بشرطیکہ خلوص وللہیت مد نظر ہوتو یہ بھی مذموم نہیں ہے۔
یوں بہتر یہی ہے کہ جہاں تک ہوسکے ریا ونمود سے بچنے کے لیے پوشیدہ طورپر صدقہ زکوٰۃ خیرات دی جائے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1424]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1411
1411. حضرت حارثہ بن وہب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے،آپ فرمارہے تھے۔”لوگو! صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک وقت آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لیے ہوئے پھرے گا مگر کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا جو اس کو قبول کرے۔ جسے دینے لگے گا وہ جواب دے گا:اگر تو کل لاتا تو میں لے لیتا، لیکن آج تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1411]
حدیث حاشیہ:
(1)
معلوم ہوا کہ قرب قیامت ایسے انقلابات آئیں گے کہ آج کا محتاج آدمی کل امیر کبیر بن جائے گا، اس لیے وقت کو غنیمت خیال کرتے ہوئے محتاج لوگوں کی موجودگی میں صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
اس لیے ”ابھی حساب نہیں کیا، کل دیں گے۔
“ کی روش ترک کر دی جائے، کیونکہ اللہ کے ہاں صدقے کا بڑھنا اسی صورت میں ہو گا کہ اسے جلدی حقداروں تک پہنچا دیا جائے۔
مذکورہ روش بعض اوقات ایسے حالات میں پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے جن میں اسے کوئی بھی قبول کرنے والا نہ مل سکے۔
صدقے کا مقصود اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ محتاج اور اسے لینے والا موجود ہو۔
(2)
کہا جا سکتا ہے کہ اگر محتاج مفقود ہو جائیں تو دینے والے کو نیت کا ثواب تو ضرور ملے گا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اسے صرف حسن نیت ہی کا ثواب ملے گا جو محض اللہ کا فضل ہے، لیکن صدقہ اپنے محل تک پہنچا دینے سے حسن نیت اور صدقہ دونوں کا ثواب ملتا ہے، اس لیے صدقہ دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 356/3)
(1)
معلوم ہوا کہ قرب قیامت ایسے انقلابات آئیں گے کہ آج کا محتاج آدمی کل امیر کبیر بن جائے گا، اس لیے وقت کو غنیمت خیال کرتے ہوئے محتاج لوگوں کی موجودگی میں صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
اس لیے ”ابھی حساب نہیں کیا، کل دیں گے۔
“ کی روش ترک کر دی جائے، کیونکہ اللہ کے ہاں صدقے کا بڑھنا اسی صورت میں ہو گا کہ اسے جلدی حقداروں تک پہنچا دیا جائے۔
مذکورہ روش بعض اوقات ایسے حالات میں پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے جن میں اسے کوئی بھی قبول کرنے والا نہ مل سکے۔
صدقے کا مقصود اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ محتاج اور اسے لینے والا موجود ہو۔
(2)
کہا جا سکتا ہے کہ اگر محتاج مفقود ہو جائیں تو دینے والے کو نیت کا ثواب تو ضرور ملے گا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں اسے صرف حسن نیت ہی کا ثواب ملے گا جو محض اللہ کا فضل ہے، لیکن صدقہ اپنے محل تک پہنچا دینے سے حسن نیت اور صدقہ دونوں کا ثواب ملتا ہے، اس لیے صدقہ دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 356/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1411]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1424
1424. حضرت حارثہ بن وہب بن خزاعی ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:”صدقہ وخیرات کیاکرو،عنقریب تم پر ایک وقت آنے والا ہے کہ آدمی اپنا صدقہ اٹھائے پھرے گا، دوسرا آدمی کہے گا:اگر تو گزشتہ کل میرے پاس لے آتا تو میں تجھ سے یہ صدقہ قبول کرلیتا، لیکن آج مجھے تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1424]
حدیث حاشیہ:
(1)
باب سے اس حدیث کی مطابقت یہ ہے کہ پہلی حدیث میں بھی حامل صدقہ کا ذکر تھا اور اس میں بھی حامل صدقہ کا ذکر ہے، کیونکہ جب وہ اپنے ہاتھ سے کرے گا تو زیادہ مخفی ہو گا، گویا اس حدیث میں مطلق صدقہ لا تعلم شماله ما تنفق يمينه کے معنی میں ہو گا۔
اس حدیث میں اگر پھر مطلق طور پر بیان ہوا ہے، تاہم پہلی حدیث کے پیش نظر اسے مقید کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 370/3) (2)
ہمارے نزدیک اس میں امام بخارى ؒ نے خود صدقہ دینے کی اہمیت کو بیان کیا ہے، کیونکہ آئندہ باب میں کسی دوسرے کو اپنی طرف سے صدقہ تقسیم کرنے پر مقرر کرنے کا بیان ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
باب سے اس حدیث کی مطابقت یہ ہے کہ پہلی حدیث میں بھی حامل صدقہ کا ذکر تھا اور اس میں بھی حامل صدقہ کا ذکر ہے، کیونکہ جب وہ اپنے ہاتھ سے کرے گا تو زیادہ مخفی ہو گا، گویا اس حدیث میں مطلق صدقہ لا تعلم شماله ما تنفق يمينه کے معنی میں ہو گا۔
اس حدیث میں اگر پھر مطلق طور پر بیان ہوا ہے، تاہم پہلی حدیث کے پیش نظر اسے مقید کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 370/3) (2)
ہمارے نزدیک اس میں امام بخارى ؒ نے خود صدقہ دینے کی اہمیت کو بیان کیا ہے، کیونکہ آئندہ باب میں کسی دوسرے کو اپنی طرف سے صدقہ تقسیم کرنے پر مقرر کرنے کا بیان ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1424]
معبد بن خالد الجدلي ← حارثة بن وهب الخزاعي