🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية:
باب: امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7142
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7142]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بات سنو اور اطاعت کرو، اگرچہ تم پر کسی ایسے حبشی کو حاکم اور سربراہ مقرر کر دیا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7142]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
693
اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل حبشي كأن رأسه زبيبة
صحيح البخاري
696
اسمع وأطع ولو لحبشي كأن رأسه زبيبة
صحيح البخاري
7142
اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة
سنن ابن ماجه
2860
اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7142 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7142
حدیث حاشیہ:
یعنی ادنیٰ حاکم کی بھی اطاعت ضروری ہے بشرطیکہ معصیت الٰہی کا حکم نہ دیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7142]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7142
حدیث حاشیہ:

ادنیٰ سے ادنیٰ امیر کی اطاعت بھی ضروری ہے بشرط یہ کہ وہ معصیت ونافرمانی کا حکم نہ دے۔
عرب لوگ نظام امارت نہیں جانتے تھے،اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے امراء کی اطاعت اور فرمانبرداری کی رغبت دی ہے تاکہ وہ صلح اور جنگ دونوں حالتوں میں اپنے امراء کے تابع رہیں اور افراتفری پھیلا کر اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ نہ کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی کے سرکو خشک انگور سے تشبیہ دی ہے،اس سے مراد حقارت وکراہت میں مبالغہ ہے،یعنی اگرایسا شخص بھی مقرر کردیاجائے تو اس کی اطاعت بھی ضر وری ہے۔
اس سے مراد خلافت نہیں کیونکہ خلافت تو صرف قریش کا حق ہے بشرط یہ ک وہ دین کی سربلندی کا عزم کیے ہوئے ہوں اور حدود اللہ کو عملی طور پرنافذ کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔w
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7142]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 693
693. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ کوئی سیاہ فام حبشی ہی تم پر حاکم بنا دیا جائے جس کا سر منقے جیسا ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:693]
حدیث حاشیہ:
اس سے باب کا مطلب یوں نکلتا ہے کہ جب حبشی غلام کی جو حاکم ہو اطاعت کا حکم ہوا تو اس کی امامت بطریق اولیٰ صحیح ہو گی کیوں کہ اس زمانہ میں جو حاکم ہوتا وہی امامت بھی نماز میں کیا کرتا تھا۔
اس حدیث سے یہ دلیل بھی لی ہے کہ بادشاہ وقت سے گو وہ کیسا ہی ظالم بے وقوف ہو لڑنا اور فساد کرنا نادرست ہے بشرطیکہ وہ جائز خلیفہ یعنی قریش کی طرف سے بادشاہ بنایا گیا ہو۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ حبشی غلام کی خلافت درست ہے کیوں کہ خلافت سوائے قریشی کے اور کسی قوم کی درست نہیں ہے جیسے دوسری حدیث سے ثابت ہے (مولانا وحید الزماں مرحوم)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 693]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:693
693. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ کوئی سیاہ فام حبشی ہی تم پر حاکم بنا دیا جائے جس کا سر منقے جیسا ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:693]
حدیث حاشیہ:
روایت میں حبشی سے مراد حبشی غلام ہے جب کہ دوسری روایت میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري،الأحکام، حدیث: 7142)
اس حدیث کی باب سے یہ مناسبت ہے کہ جب ایسا غلام امیر اور والی بن جائے تو اس کی اطاعت ضروری ہے اور اسلام کا یہ طریقہ ہے کہ والی اور خلیفہ کو جماعت کےلیے آگے کیا جاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی اطاعت کے حکم میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم شامل ہے۔
(شرح الکرماني: 72/5)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایاتھا کہ اگر تمھارا حکمران حبشی غلام ہوجو کتاب اللہ کے ساتھ تمھاری قیادت کرے تم نے اس کی بات ماننی اور اس کی اطاعت کرنی ہے۔
اس روایت سے حدیث نبوی کی تاریخ اور اطاعت کی جہت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ حکم دیا اور کتاب اللہ کی قیادت کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔
(فتح الباري: 242/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 693]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:696
696. حضرت انس ؓ سے رایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر ؓ سے فرمایا کہ امیر کا حکم سنو اور اس کی فرمانبرداری کرو اگرچہ وہ حبشی غلام ہو جس کا سر انگور کی طرح ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:696]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو اپنے عنوان کی دلیل اس لیے بنایا ہے کہ ایسی صفات کا حامل عام طور پر ایک عجمی حکمران ہوسکتا ہے جو نیا نیا مسلمان ہوا ہو جسے ابھی دین کے متعلق پوری معلومات نہ ہوں۔
اس قسم کے انسان کے لیے بدعات کا ارتکاب بعید نہیں۔
ایسے حکمران خود پسندی اور خود فریبی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
جب ایسے حکمران کی اطاعت ضروری ہے تو اس کی اقتدا بھی درست ہونی چاہیے۔
جب اس قسم کا حاکم قابل اطاعت ہے تو اس کی امامت میں نماز بھی درست ہوگی۔
(فتح الباري: 246/2) (2)
حافظ ابن حجر ؒ نے اس حدیث کے متعلق ابو ذر ؓ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ ربذہ مقام پر اس وقت پہنچے جب جماعت ہو رہی تھی اور ایک غلام امامت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا، اسے نماز کے دوران میں کہا گیا کہ یہ حضرت ابو ذر ؓ عنہ تشریف لاچکے ہیں، وہ پیچھے ہٹنے لگا تو آپ نے فرمایا:
مجھے میرے محبوب نے وصیت کی تھی کہ اپنے امیر کی بات سنوں اور اس کی اطاعت کروں اگرچہ کٹی ہوئی ناک والا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔
(فتح الباري: 242/2) (3)
واضح رہے کہ بدعت اگر کفرو شرک تک پہنچ جائے تو اس کا حکم شرک ہی کا ہے جس طرح مشرک کی اقتدا جائز نہیں، اسی طرح بدعت مکفرہ کا حامل انسان بھی امامت کے اہل نہیں۔
اگر وہ بدعت مکفرہ کا حامل نہیں تو بوقت ضرورت کبھی اس کی اقتدا میں نماز پڑھ لی جائے تو جائز ہوگا۔
اس کا حکم فاسق کا ہے اور اس کے پیچھے نماز صحیح ہے، البتہ بدعتی اور فتنہ پرور کو مستقل طور پر امام نہیں بنانا چاہیے۔
والله اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 696]

Sahih Bukhari Hadith 7142 in Urdu