🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. باب:
باب: (سورج گہن کے وقت نماز)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ، فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: قَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ، فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ، قُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا لَا أَطْعَمَتْهَا وَلَا أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ"، قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ، أَنَّهُ قَالَ: مِنْ خَشِيشِ أَوْ خَشَاشِ الْأَرْضِ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں نافع بن عمر نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے اسماء بنت ابی بکر سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوئے تو دیر تک کھڑے رہے پھر رکوع میں گئے تو دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر (دوبارہ) رکوع میں گئے اور دیر تک رکوع کی حالت میں رہے اور پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ پھر سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور دیر تک کھڑے ہی رہے۔ پھر رکوع کیا اور دیر تک رکوع میں رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر (دوبارہ) رکوع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک رکوع کی حالت میں رہے۔ پھر سر اٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں چلے گئے اور دیر تک سجدہ میں رہے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ جنت مجھ سے اتنی نزدیک ہو گئی تھی کہ اگر میں چاہتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تم کو توڑ کر لا دیتا اور مجھ سے دوزخ بھی اتنی قریب ہو گئی تھی کہ میں بول پڑا کہ میرے مالک میں تو اس میں سے نہیں ہوں؟ میں نے وہاں ایک عورت کو دیکھا۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ مجھے خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ اس عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب ملا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھے رکھا تھا تاآنکہ بھوک کی وجہ سے وہ مر گئی، نہ تو اس نے اسے کھانا دیا اور نہ چھوڑا کہ وہ خود کہیں سے کھا لیتی۔ نافع نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے یوں کہا کہ نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے وغیرہ کھا لیتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 745]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف پڑھائی تو آپ نے طویل قیام کیا۔ پھر رکوع کیا تو اسے خوب طویل کیا۔ پھر کھڑے ہوئے تو قیام کو خوب طویل کیا۔ اس کے بعد رکوع کیا تو اسے خوب طویل کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا، پھر سجدے کو خوب طویل کیا۔ پھر کھڑے ہو کر قیام کیا اور قیام کو لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع کو لمبا کیا، پھر سر اٹھا کر قیام کیا اور اسے خوب لمبا کیا، پھر رکوع کیا اور اسے لمبا کیا، پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا اور اسے خوب لمبا کیا، اس کے بعد اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور سجدے کو لمبا کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: جنت میرے اتنا قریب ہو چکی تھی کہ اگر میں جراءت کرتا تو اس کے خوشوں میں سے کوئی خوشہ تمہارے پاس لے آتا اور دوزخ بھی میرے اتنا قریب ہو گئی کہ میں کہنے لگا: اے مالک! کیا میں بھی ان لوگوں کے ساتھ رکھا جاؤں گا؟ اتنے میں ایک عورت دیکھی جسے بلی پنجا مار رہی تھی۔ میں نے پوچھا: اس عورت کا کیا قصور ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: اس عورت نے بلی کو باندھے رکھا تھا حتیٰ کہ وہ بھوک سے مر گئی، نہ تو وہ اسے خود کھلاتی تھی اور نہ اسے کھلا چھوڑتی تھی کہ وہ خود حشرات الارض سے اپنا پیٹ بھرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 745]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥نافع بن عمر الجمحي، أبو معشر
Newنافع بن عمر الجمحي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← نافع بن عمر الجمحي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2364
صلى صلاة الكسوف فقال دنت مني النار حتى قلت أي رب وأنا معهم فإذا امرأة حسبت أنه قال تخدشها هرة قال ما شأن هذه قالوا حبستها حتى ماتت جوعا
صحيح البخاري
745
صلى صلاة الكسوف فقام فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم قام فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع ثم سجد فأطال السجود ثم رفع ثم سجد فأطال السجود ثم قام فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع فسجد فأطال السجود
صحيح مسلم
2108
ركع فأطال الركوع ثم رفع رأسه فأطال القيام حتى لو أن رجلا جاء خيل إليه أنه لم يركع
صحيح مسلم
2106
كسفت الشمس فأخذ درعا حتى أدرك بردائه فقام للناس قياما طويلا لو أن إنسانا أتى لم يشعر أن النبي ركع ما حدث أنه ركع من طول القيام
سنن النسائى الصغرى
1499
صلى رسول الله في الكسوف فقام فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع ثم سجد فأطال السجود ثم رفع ثم سجد فأطال السجود ثم قام فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع ثم رفع فأطال القيام ثم ركع فأطال الركوع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 745 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 745
حدیث حاشیہ:
سورج گہن یاچاند گہن ہر دومواقع پر نماز کا یہی طریقہ ہے۔
نماز کے بعد خطبہ اوردعا بھی ثابت ہے۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو جانوروں پرظلم کرے گا آخرت میں اس سے اس کا بھی بدلہ لیاجائے گا۔
حافظ ؒ نے ابن رشید ؒ سے حدیث اورباب میں مطابقت یوں نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مناجات اورمہربانی کی درخواست عین نماز کے اندر مذکور ہے تو معلوم ہوا کہ نماز میں ہرقسم کی دعا کرنا درست ہے۔
بشرطیکہ وہ دعائیں شرعی حدوں میں ہوں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 745]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:745
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے متعلقہ فوائد کتاب الکسوف اور کتاب بدء الخلق میں بیان ہوں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 745]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2364
2364. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھائی تو فرمایا: دوزخ میرے قریب ہوئی یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اے میرے رب! میں بھی ان کے ساتھ ہوں اتنے میں ایک عورت دیکھائی دی۔۔۔ میں سمجھتی ہوں آپ نے فرمایا۔۔۔ بلی اس کو نوچ رہی تھی۔ آپ نے پوچھا: اس کا کیاماجراہے؟ جواب ملا کہ اس عورت نے بلی کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی؟ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2364]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کو یہاں لانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی بھی جاندار کو باوجود قدرت اور آسانی کے اگر کوئی شخص کھانا پانی نہ دے اور وہ جاندار بھوک پیاس کی وجہ سے مر جائے تو اس شخص کے لیے یہ جرم دوزح میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
إن ھذہ المرأة لما حبست هذہ الهرة إلی أن ماتت بالجوع و العطش فاستحقت هذہ العذاب فلو کانت سقیتها لم تغذب و من ههنا یعلم فضل سقي الماء و هو مطابق للترجمة۔
(عینی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2364]

Sahih Bukhari Hadith 745 in Urdu