🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
132. باب إذا لم يتم السجود:
باب: جب سجدہ پوری طرح نہ کرے (تو کیسا گناہ ہے؟)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q808
قَالَهُ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس بات کو ابوحمید صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q808]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ" رَأَى رَجُلًا لَا يُتِمُّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مَا صَلَّيْتَ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ، قَالَ: وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے صلت بن محمد بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل سے بیان کیا، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ تو نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ حذیفہ نے یہ فرمایا کہ اگر تم مر گئے تو تمہاری موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق پر نہیں ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 808]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ دورانِ نماز میں اپنے رکوع و سجود کو پورا نہیں کرتا تھا۔ جب وہ اپنی نماز ختم کر چکا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تو نے نماز نہیں پڑھی۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا: اگر تو اسی حالت پر مر گیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف مرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← حذيفة بن اليمان العبسي
مخضرم
👤←👥واصل بن حيان الأحدب
Newواصل بن حيان الأحدب ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥مهدي بن ميمون الأزدي، أبو يحيى
Newمهدي بن ميمون الأزدي ← واصل بن حيان الأحدب
ثقة
👤←👥الصلت بن محمد الخاركي، أبو همام
Newالصلت بن محمد الخاركي ← مهدي بن ميمون الأزدي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
791
لا يتم الركوع والسجود قال ما صليت ولو مت مت على غير الفطرة التي فطر الله محمدا عليها
صحيح البخاري
808
لا يتم ركوعه ولا سجوده فلما قضى صلاته قال له حذيفة ما صليت قال وأحسبه قال ولو مت مت على غير سنة محمد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 808 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:808
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران سجدہ میں طمانیت ضروری ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 791)
واضح رہے کہ بعینہٖ یہ باب (26)
مذکورہ حدیث سمیت پہلے گزر چکا ہے۔
لیکن پہلے امام بخاری ؒ نے کسی دوسرے مقصد کے لیے بیان کیا تھا۔
اس کی تفصیل کے لیے مذکورہ حدیث کی طرف مراجعت ضروری ہے، نیز یہ حدیث پہلے (791)
بیان ہو چکی ہے لیکن وہاں حضرت حذیفہ ؓ سے بیان کرنے والے زید بن وہب جہنی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے گھر سے نکلے لیکن ابھی راستے میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس مقام پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے والے حضرت ابو وائل شقیق ہیں۔
(عمدة القاري: 4/554،521) (2)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا تھا جو اپنے رکوع و سجود کو پورے طور پر ادا نہیں کرتا تھا جیسا کہ حدیث مسيئ الصلاة میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 793)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 808]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 791
791. حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع اور سجود کو پورا نہیں کر رہا تھا تو آپ نے اسے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس دین فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:791]
حدیث حاشیہ:
یعنی تیرا خاتمہ معاذ اللہ کفر پر ہو گا۔
جو لوگ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس طرح خرابی خاتمہ سے ڈرنا چاہئے۔
سبحان اللہ اہل حدیث کا جینا اور مرنا دونوں اچھا۔
مرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہیں۔
آپ کی حدیث پر چلتے رہے جب تک جئے خاتمہ بھی حدیث پر ہوا۔
(مولانا وحید الزماں ؒ)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 791]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:791
791. حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع اور سجود کو پورا نہیں کر رہا تھا تو آپ نے اسے کہا: تو نے نماز نہیں پڑھی۔ اگر تجھے اسی حالت میں موت آ گئی تو اس دین فطرت کے خلاف مرے گا جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:791]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے اس سے پوچھا:
تو کرنے عرصے سے اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ چالیس برس سے اسی طرح نماز پڑھ رہا ہوں۔
(فتح الباري: 256/2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں رکوع اور سجود کو آرام اور سکون سے ادا کرنا چاہیے۔
ایسا کرنا فرض ہے۔
اس میں کوتاہی کرنا اپنی نماز کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔
(2)
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ رکوع کی حقیقت جھکنا اور سجدے کی حقیقت پیشانی کو زمین پر رکھنا ہے، اگر کوئی اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔
لیکن یہ موقف احادیث کے خلاف ہے کیونکہ احادیث میں تعدیل ارکان کی بہت تاکید ہے۔
تعدیل ارکان یہ ہے کہ بدن ہئیت طبعی پر پہنچ جائے اور حرکت انتقال، سکون و اطمینان میں تبدیل ہو جائے۔
(3)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجود کو ادھورا کرنے والے کے متعلق فرمایا:
تو نے نماز نہیں پڑھی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسنون طریقے کے خلاف نماز خراب کر کے پڑھنے والے کو فرمایا تھا:
جاؤ، نماز دوبارہ پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔
(فتح الباري: 256/2) (4)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ تعدیل و اطمینان ضروری ہے، اس کے بغیر فرض کی ادائیگی نہیں ہو گی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 791]

Sahih Bukhari Hadith 808 in Urdu