صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. باب ما جاء فى الثوم الني والبصل والكراث:
باب: لہسن، پیاز اور گندنے کے متعلق جو روایات آئی ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ أَنَسَ، مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الثُّومِ؟ فَقَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا أَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لہسن کے بارے میں کیا سنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس درخت کو کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
856
| من أكل من هذه الشجرة فلا يقربنا أو لا يصلين معنا |
صحيح البخاري |
5451
| أكل فلا يقربن مسجدنا |
صحيح مسلم |
1250
| من أكل من هذه الشجرة فلا يقربنا ولا يصلي معنا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 856 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 856
حدیث حاشیہ:
مقصد یہی ہے کہ ان چیزوں کو کچا کھانے سے منہ میں جو بو پیدا ہو جاتی ہے وہ دوسرے ساتھیوں کے لیے تکلیف دہ ہے لہٰذا ان چیزوں کے کھانے والوں کو چاہیے کہ جس طور ممکن ہو ان کی بدبو کا ازالہ کر کے مسجد میں آئیں۔
بیڑی سگریٹ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
تشریح:
مقصد یہی ہے کہ ان چیزوں کو کچا کھانے سے منہ میں جو بو پیدا ہو جاتی ہے وہ دوسرے ساتھیوں کے لیے تکلیف دہ ہے لہٰذا ان چیزوں کے کھانے والوں کو چاہیے کہ جس طور ممکن ہو ان کی بدبو کا ازالہ کر کے مسجد میں آئیں۔
بیڑی سگریٹ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
مقصد یہی ہے کہ ان چیزوں کو کچا کھانے سے منہ میں جو بو پیدا ہو جاتی ہے وہ دوسرے ساتھیوں کے لیے تکلیف دہ ہے لہٰذا ان چیزوں کے کھانے والوں کو چاہیے کہ جس طور ممکن ہو ان کی بدبو کا ازالہ کر کے مسجد میں آئیں۔
بیڑی سگریٹ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
تشریح:
مقصد یہی ہے کہ ان چیزوں کو کچا کھانے سے منہ میں جو بو پیدا ہو جاتی ہے وہ دوسرے ساتھیوں کے لیے تکلیف دہ ہے لہٰذا ان چیزوں کے کھانے والوں کو چاہیے کہ جس طور ممکن ہو ان کی بدبو کا ازالہ کر کے مسجد میں آئیں۔
بیڑی سگریٹ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 856]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:856
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض حضرات نے اس حدیث سے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ نماز باجماعت ادا کرنا فرض نہیں کیونکہ کچا لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ نماز باجماعت کا اہتمام مسجد ہی میں ہوتا ہے۔
یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ ناگوار بو پر مشتمل اشیاء کو استعمال کرنا نماز باجماعت فرض ہونے کے منافی نہیں جیسا کہ کھانا اگر سامنے آ جائے تو جماعت چھوڑ دینے کی اجازت ہے۔
دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سہولت دی ہے کہ اس طرح کی مباح چیزوں کی وجہ سے جماعت کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی نماز باجماعت چھوڑنے کے لیے ایسی چیزوں کو بطور حیلہ استعمال کرتا ہے تو یقیناً اس کے لیے یہ چیزیں استعمال کرنی ناجائز اور حرام ہیں۔
جیسا کہ ابن دقیق العید نے اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ نماز باجماعت فرض ہے لیکن بہرحال عذر کی وجہ سے اسے ترک کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 443/3) (2)
امام ابن خزیمہ نے ایک حدیث سے اس کی حد مقرر کی ہے کہ جو آدمی لہسن یا پیاز استعمال کرے اسے تین دن تک مسجد کے قریب نہیں آنا چاہیے اور اس پر باقاعدہ عنوان قائم کیا ہے لیکن یہ استنباط صحیح نہیں کیونکہ عدد کا تعلق قرب کے بجائے قول سے ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہا تھا۔
حدیث کے ظاہر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ منع کی علت ناگواریوں کا پایا جانا ہے اور وہ تین دن تک منہ میں نہیں رہتی۔
(فتح الباري: 444/3)
(1)
بعض حضرات نے اس حدیث سے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ نماز باجماعت ادا کرنا فرض نہیں کیونکہ کچا لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ نماز باجماعت کا اہتمام مسجد ہی میں ہوتا ہے۔
یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ ناگوار بو پر مشتمل اشیاء کو استعمال کرنا نماز باجماعت فرض ہونے کے منافی نہیں جیسا کہ کھانا اگر سامنے آ جائے تو جماعت چھوڑ دینے کی اجازت ہے۔
دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سہولت دی ہے کہ اس طرح کی مباح چیزوں کی وجہ سے جماعت کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی نماز باجماعت چھوڑنے کے لیے ایسی چیزوں کو بطور حیلہ استعمال کرتا ہے تو یقیناً اس کے لیے یہ چیزیں استعمال کرنی ناجائز اور حرام ہیں۔
جیسا کہ ابن دقیق العید نے اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ نماز باجماعت فرض ہے لیکن بہرحال عذر کی وجہ سے اسے ترک کیا جا سکتا ہے۔
(فتح الباري: 443/3) (2)
امام ابن خزیمہ نے ایک حدیث سے اس کی حد مقرر کی ہے کہ جو آدمی لہسن یا پیاز استعمال کرے اسے تین دن تک مسجد کے قریب نہیں آنا چاہیے اور اس پر باقاعدہ عنوان قائم کیا ہے لیکن یہ استنباط صحیح نہیں کیونکہ عدد کا تعلق قرب کے بجائے قول سے ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہا تھا۔
حدیث کے ظاہر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ منع کی علت ناگواریوں کا پایا جانا ہے اور وہ تین دن تک منہ میں نہیں رہتی۔
(فتح الباري: 444/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 856]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5451
5451. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے ان سے سوال ہوا کہ آپ نے لہسن کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5451]
حدیث حاشیہ:
یعنی ہمارے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو کیونکہ ان کی بو سے فرشتوں کو اور نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔
ہاں اگر خوب صاف کر کے یا کچھ کھا کر بو دور کی جا سکے تو امر دیگر ہے۔
آج کل بیڑی سگریٹ پینے والوں کے لیے بھی منہ کی صفائی کا یہی حکم ہے۔
یعنی ہمارے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو کیونکہ ان کی بو سے فرشتوں کو اور نمازیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔
ہاں اگر خوب صاف کر کے یا کچھ کھا کر بو دور کی جا سکے تو امر دیگر ہے۔
آج کل بیڑی سگریٹ پینے والوں کے لیے بھی منہ کی صفائی کا یہی حکم ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5451]
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري