🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الخروج إلى المصلى بغير منبر:
باب: عیدگاہ میں خالی جانا منبر نہ لے جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَجَبَذْتُ بِثَوْبِهِ فَجَبَذَنِي، فَارْتَفَعَ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللَّهِ، فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ: قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُ، فَقُلْتُ: مَا أَعْلَمُ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا لَا أَعْلَمُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَجَعَلْتُهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح نے، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن (مدینہ کے باہر) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے۔ تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے۔ اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے۔ کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے۔ اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے لیکن معاویہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا پھر میں اس کے ساتھ عیدالفطر یا عید الاضحی کی نماز کے لیے نکلا ہم جب عیدگاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا۔ جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے (خطبہ دینے کے لیے) چڑھے اس لیے میں نے ان کا دامن پکڑ کر کھینچا اور لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ تم نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو) بدل دیا۔ مروان نے کہا کہ اے ابوسعید! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو۔ ابوسعید نے کہا کہ بخدا میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔ مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کو کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 956]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تو پہلے جو کام کرتے وہ نماز ہوتی، اس سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نصیحت و تلقین کرتے اور اچھی باتوں کا حکم دیتے۔ پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجنا چاہتے تو اسے تیار کرتے یا جس کام کا حکم کرنا چاہتے اس کا حکم دے دیتے۔ اس کے بعد گھر لوٹ آتے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی لوگ ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ میں ایک دفعہ مروان کے ہمراہ عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ پڑھنے گیا، وہ ان دنوں مدینہ کا گورنر تھا۔ جب ہم عیدگاہ پہنچے تو ایک منبر وہاں رکھا ہوا تھا جسے کثیر بن صلت نے تیار کیا تھا۔ مروان نے چاہا کہ اچانک نماز پڑھنے سے قبل اس پر چڑھے، چنانچہ میں نے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا لیکن اس نے مجھے جھٹک دیا۔ پھر وہ منبر پر چڑھ گیا، بعد ازاں اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا تو میں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے سنتِ نبوی کو بدل دیا ہے۔ اس نے جواب دیا: ابوسعید! وہ بات جاتی رہی جو تم جانتے ہو۔ میں نے جواباً کہا: اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جسے میں نہیں جانتا۔ اس پر مروان گویا ہوا: بات دراصل یہ ہے کہ لوگ ہمارے خطبے کے لیے نماز کے بعد بیٹھتے نہیں، لہٰذا میں نے خطبے کو نماز سے پہلے کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عياض بن عبد الله العامري
Newعياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عياض بن عبد الله العامري
ثقة
👤←👥محمد بن جعفر الأنصاري
Newمحمد بن جعفر الأنصاري ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن جعفر الأنصاري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
956
يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه أو يأمر بشيء أمر به ثم ينصرف
سنن النسائى الصغرى
1580
يخرج يوم العيد فيصلي ركعتين يخطب يأمر بالصدقة
بلوغ المرام
394
يخرج يوم الفطر والاضحى إلى المصلى واول شيء يبدا به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس على صفوفهم فيعظهم ويامرهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 956 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 956
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒ کا مقصد باب سے یہ بتلانا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عید گاہ میں منبر نہیں رکھا جاتا تھا اور نماز کے لیے کوئی خاص عمارت نہ تھی۔
میدان میں عید الفطر اور بقرعید کی نماز یں پڑھی جاتی تھیں۔
مروان جب مدینہ کا حاکم ہوا تو اس نے عیدگاہ میں خطبہ کے لیے منبر بھجوایا اور عیدین میں خطبہ نماز کے بعد دینا چاہیے تھا۔
لیکن مروان نے سنت کے خلاف پہلے ہی خطبہ شروع کر دیا۔
صد افسوس کہ اسلام کی فطری سادگی جلد ہی بدل دی گئی پھر ان میں دن بدن اضافے ہوتے رہے۔
علماءاحناف نے آج کل نیا اضافہ کر ڈالا کہ نماز اورخطبہ سے قبل کچھ وعظ کرتے ہیں اور گھنٹہ آدھ گھنٹہ اس میں صرف کرکے بعد میں نماز اور خطبہ محض رسمی طور پر چند منٹوں میں ختم کر دیا جاتا ہے۔
آج کوئی کثیر بن صلت نہیں جو ان اختراعات پر نوٹس لے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 956]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:956
حدیث حاشیہ:
(1)
سنت یہی ہے کہ عیدگاہ میں خطبۂ عید کے لیے منبر استعمال نہ کیا جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبۂ عید کے متعلق یہی معمول تھا۔
کھلی جگہ میں اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ایسی جگہ میں امام کو خطبہ دیتے ہوئے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے جبکہ مسجد میں منبر کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جگہ تنگ ہونے کی بنا پر تمام سامعین خطیب کو نہیں دیکھ سکتے، اس لیے مسجد میں خطبے کے لیے منبر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خطبۂ عید کے لیے منبر کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ آپ نماز کی ادائیگی کے بعد رخ پھیر کر لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہو جاتے تھے۔
ابن حبان کی روایت میں ہے کہ آپ نماز پڑھنے کی جگہ میں کھڑے ہو جاتے، بلکہ ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ نماز ادا کرنے کے بعد وہیں اپنے پاؤں کے بل کھڑے ہو جاتے۔
(فتح الباري: 579/2) (2)
امام بخاری ؒ کی پیش کردہ روایت میں یہ صراحت ہے کہ پہلا شخص جس نے عیدگاہ میں منبر کا اہتمام کیا، مروان بن حکم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے خطبۂ عید کے لیے منبر استعمال نہیں ہوتا تھا، البتہ بخاری کی بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے سے فراغت کے بعد نیچے اترے اور خواتین کی طرف تشریف لے گئے۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 978)
اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ سے مروی روایت میں نیچے اترنے کے الفاظ ملتے ہیں۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4898)
ان روایات سے بعض حضرات نے عیدگاہ میں منبر کے اہتمام کا مسئلہ کشید کیا ہے۔
اس کا جواب حافظ ابن قیم ؒ نے بایں الفاظ دیا ہے کہ روایات کے مطابق سب سے پہلے عیدگاہ میں خطبۂ عید کے لیے منبر کا اہتمام مروان بن حکم نے کیا تھا، پھر وہاں مستقل طور پر کچی اینٹوں کا منبر بنا دیا گیا۔
پھر اکثر روایات میں نیچے اترنے کے الفاظ نہیں ہیں، ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہوں، پھر وہاں سے اتر کر خواتین کو خطبہ دینے کے لیے ان کے پاس گئے ہوں۔
(زادالمعاد لابن قیم: 447/1)
البتہ صحیح ابن حبان میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر خطبۂ عید ارشاد فرمایا۔
(صحیح ابن حبان، الصلاة، حدیث: 2825)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی سواری وغیرہ پر بیٹھ کر خطبۂ عید مباح اور جائز ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 956]

الشيخ امین اللہ پشاوری حفظہ الله،صحیح بخاری : 956
صحابہ کرام کا عید پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا:
➊ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب عید پڑھ کر واپس آتے تو ایک دوسرے کو «تقبل اللہ منا ومنکم» کہتے تھے۔ [الجوہر النقی: 3/319، باب قول الناس فی العید تقبل اللہ منا ومنک]
محمد بن زیاد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو امامہ باہلی اور دیگر صحابہ کے ساتھ تھا جب وہ عید کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو ایک دوسرے کو کہتے: اللہ تعالیٰ ہم سے بھی قبول کرے اور آپ سے بھی۔
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اس کی سند عمدہ ہے۔
➋ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں اس مضمون کی ضعیف حدیثیں ذکر کی ہیں اور اسی طرح ہیثمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ [مجمع الزوائد: 2/206، باب التهنئۃ بالعید]
➌ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص دوسرے کو عید کے دن «تقبل اللہ منا ومنکم» کہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [المغنی: 2/250]
◈ حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
امام احمد رحمہ اللہ سے عیدین میں لوگوں کا «تقبل اللہ منا ومنکم» کہنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اہل شام ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اسے روایت کرتے ہیں۔ پوچھا گیا: اور واثلہ بن اسقع؟ فرمایا: ہاں۔ کہا گیا کہ عید کے دن اگر یہ کہا جائے تو آپ اسے مکروہ نہیں سمجھتے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔
➍ ابن عقیل رحمہ اللہ نے عید کی مبارک بادی کے بارے میں کچھ حدیثیں ذکر کی ہیں، ان میں سے ایک محمد بن زیاد کی حدیث ہے:
میں ابو امامہ الباہلی اور دیگر صحابہ کے ساتھ تھا جب وہ عید سے واپس ہوتے تو ایک دوسرے کو «تقبل اللہ منا ومنک» کہتے اور امام احمد رحمہ اللہ ابو امامہ کی حدیث کی سند کو جید کہتے ہیں۔
❀ علی بن ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں:
میں مالک بن انس رحمہ اللہ سے پینتیس سال سے پوچھتا رہا ہوں، وہ کہتے ہیں: یہ مدینہ میں معروف چلا آ رہا ہے۔
❀ امام احمد رحمہ اللہ سے روایت ہے:
میں کسی کو ابتداء نہیں کہوں گا اور کسی نے مجھے کہا تو میں اسے جواباً کہوں گا۔
➎ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے عید کی مبارکبادی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
عید کے دن مبارکبادی کے طور پر نماز عید کے بعد ملتے وقت «تقبل اللہ منا ومنکم» (اللہ تعالیٰ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے) اور «أحالہ اللہ علیک» (اللہ تعالیٰ اسے تم پر دوبارہ لائے) وغیرہ کہنا تو یہ صحابہ کے ایک طائفہ سے مروی ہے کہ وہ یہ کرتے تھے اور ائمہ میں امام احمد وغیرہ نے اس کی رخصت دی ہے، لیکن امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہل نہیں کروں گا اگر کسی نے مجھ پر پہل کی تو میں اسے جواب دوں گا اس لیے کہ تحیہ کا جواب دینا فرض ہے اور مبارکبادی کی پہل کرنی مامور بہا سنت نہیں اور نہ اس سے روکا گیا ہے، کرنے والے کے بھی مقتدا ہیں اور چھوڑنے والے کے بھی مقتدا ہیں۔
◈ تنبیہ:
مسجد میں شور مچانا اور معانقہ کرنا جبکہ وہیں اکٹھے رہنے والے ہوں تو یہ بدعت و معصیت ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔
فتاویٰ الدین الخالص:
[جلد 1، صفحہ 234، محدث فتویٰ]
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 234]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 394
نماز عیدین کا بیان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید قربان (عید الاضحی) کے لئے عید گاہ کی طرف تشریف لے جاتے اور پہلی چیز جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز فرماتے وہ نماز ہوتی۔ ادائیگی نماز کے بعد رخ پھیر کر لوگوں کی طرف کھڑے ہوتے لوگ اس وقت اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور نیکی کا حکم کرتے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 394»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الخروج إلي المصلي بغير منبر، حديث:956، ومسلم، صلاة العيدين، حديث:889.»
تشریح:
اس حدیث سے حسب ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں: 1.عید گاہ میں عیدین کی نماز سے پہلے کوئی عمل آپ سے ثابت نہیں۔
2.خطبہ نماز کے بعد ہونا چاہیے۔
3. خطیب کا رخ سامعین کی طرف ہونا چاہیے۔
4.خطبہ کھڑے ہو کر دینا چاہیے‘ نیز خطیب کو اپنے خطاب میں وعظ و نصیحت کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
ادھر ادھر کے بے فائدہ قصے کہانیاں بیان نہیں کرنے چاہییں۔
5. سامعین کو اپنی صفوں میں بیٹھے رہنا چاہیے اور رخ امام کی جانب ہونا چاہیے۔
6. نماز عیدین مسجد میں نہیں بلکہ عیدگاہ میں ادا کرنا مسنون ہے۔
آج کل بلاعذر مسجدوں میں نماز عید پڑھنے کا عام رواج ہوگیا ہے جو بہرحال ختم ہونا چاہیے۔
7.نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں منبراستعمال نہیں فرمایا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ سب سے پہلے مروان نے عیدگاہ میں منبر رکھوایا اور اس پر خطبہ دیا۔
(صحیح البخاري‘ العیدین‘ حدیث:۹۵۶) البتہ ابن حبان کی روایت کے مطابق نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اونٹنی پر بیٹھ کر خطبۂعید ضرور ارشاد فرمایا ہے جس سے سواری پر بیٹھ کر خطبہ دینا جائز ثابت ہوتا ہے۔
(صحیح ابن حبان (الإحسان): ۴ / ۲۰۱‘ رقم: ۲۸۱۴‘ وموارد الظمآن‘ رقم:۵۷۵‘ ومسند أبي یعلی: ۲ /۴۰۲‘ رقم:۱۱۸۲)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 394]

Sahih Bukhari Hadith 956 in Urdu